تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یورپ میں پناہ گزینوں کا سیلاب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 19 ذیعقدہ 1440هـ - 22 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 25 ذیعقدہ 1436هـ - 9 ستمبر 2015م KSA 11:14 - GMT 08:14
یورپ میں پناہ گزینوں کا سیلاب

ترکی کے ساحل پر سرخ شرٹ اور جینز کی نیکر پہنے مردہ حالت میں اوندھے منہ پڑے 3 سالہ شامی بچے ایلان کی تصویر نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایلان کی یہ تصویر پوری دنیا میں کروڑوں لوگوں نے دیکھی جس پر تحریر تھا کہ ’’انسانیت ساحل پر بہہ کر آگئی‘‘۔ معصوم بچے کی دردناک موت کا غم ہر شخص نے محسوس کیا اور جس شخص نے بھی بچے کی تصویر دیکھی، اپنے آنسو ضبط نہ کرسکا اور اُسے ایسا لگا کہ ایلان کوئی غیر نہیں بلکہ اُس کا اپنا بچہ ہے۔ یہ بچہ اُس ربڑ کی کشتی پر سوار تھا جو ترکی سے یونان جانے کی غیر قانونی کوشش میں راستے میں ڈوب گئی تھی اور ایلان اپنی والدہ اور 5 سالہ بھائی سمیت سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

اطلاعات کے مطابق کشتی میں بدقسمت خاندان کے علاوہ کچھ دیگر افراد بھی سوار تھے لیکن کشتی کے سمندر میں جانے کے کچھ دیر بعد ہی اونچی لہروں نے اُسے الٹ دیا اور یکے بعد دیگرے کشتی میں سوار تمام افراد سمندر میں ڈوبتے رہے مگر کچھ افراد جن میں ایلان کے والد عبداللہ کردی بھی شامل تھے، اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے۔ عبداللہ کے بقول انہوں نے اپنی بیوی بچوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن سمندری لہروں کے سامنے وہ بے بس ہوکر رہ گئے۔ بدقسمت خاندان نے موت کے سفر سے قبل کینیڈا میں سیاسی پناہ کی درخواست جمع کروائی تھی جبکہ کینیڈا میں مقیم عبداللہ کی بہن نے بھی خاندان کو اسپانسر کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کینیڈین حکومت نے اُن کی درخواست مسترد کردی تھی۔ واضح رہے کہ کشتی میں سوار بیشتر پناہ گزینوں کا تعلق شام کے کردش علاقے کوبانی سے تھا جو داعش کی شدت پسندی سے بچنے کیلئے ترکی میں داخل ہوئے تھے اور وہاں سے کشتی کے ذریعے یورپی ملک یونان روانہ ہورہے تھے کہ حادثے کا شکار ہوگئے۔

مذکورہ واقعہ نے جہاں ایک طرف شام اور خانہ جنگی کے شکار دیگر اسلامی ممالک میں انسانی جانوں کے ضیاع اور جنگ زدہ علاقوں سے محفوظ پناہ کیلئے نکلنے والے پناہ گزینوں کو درپیش مسائل کی طرف دنیا کی توجہ مرکوز کروائی، وہاں دوسری طرف ترقی یافتہ یورپی ممالک کی جانب سے ان پناہ گزینوں کو پناہ دیئے جانے کے معاملے میں بے حسی اور حیل و حجت سے کام لینے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور الزام لگایا گیا کہ یورپی ممالک نے بحیرہ روم کو پناہ گزینوں کا قبرستان بنادیا ہے تاہم ایلان کی دردناک موت کے بعد غیر ملکی میڈیا اور عالمی دبائو کے نتیجے میں یورپی یونین نے پناہ گزینوں کیلئے اپنی پابندیوں میں نرمی اختیار کی جس کے بعد جرمنی، فرانس، آسٹریا اور برطانیہ نے پناہ گزینوں کو پناہ دینے پر رضا مندی ظاہر کردی۔ اس طرح ہنگری کی سرحد پر موجود ہزاروں پناہ گزین جن میں اکثریت کا تعلق شام، عراق، لیبیا اور خانہ جنگی کے شکار دیگر ممالک سے تھا، بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے جرمنی پہنچے جنہیں بعد میں ویانا، میونخ اور جرمنی کے دوسرے شہروں میں منتقل کیا گیا۔

موجودہ صورتحال میں جرمنی کو پناہ گزینوں کا پسندیدہ ملک قرار دیا جارہا ہے جہاں گزشتہ چند دنوں میں آسٹریا کے راستے 12 ہزار سے زائد پناہ گزین پہنچ چکے ہیں لیکن جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی مدد کیلئے دی جانے والی رعایت کا مقصد بحرانی صورتحال سے نمٹنا ہے جسے مستقل رعایت نہ سمجھا جائے۔جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا میں پناہ گزینوں کا اتنا ہولناک بحران پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ یورپ کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں کا تعلق صرف شام سے ہی نہیں بلکہ خانہ جنگی کا شکار عراق، لیبیا، افغانستان اور دیگر ایسے اسلامی ممالک سے بھی ہے جہاں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اور خاندان در خاندان اپنی جان بچانے کیلئے محفوظ مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔

ان غریب اور خانہ جنگی کے شکار ممالک کے پناہ گزین یورپ کو خوشحال اور پرامن خطہ تصور کرتے ہیں، اس لئے وہ ان ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سال رواں میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد پناہ گزین سمندری راستے سے یورپ پہنچنے میں کامیاب ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ سال ان کی تعداد 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد تھی۔ اس دوران 3300 سے زائد پناہ گزین کشتیوں کے ذریعے یورپ جانے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن کی تعداد گزشتہ سال تقریباً 3 ہزار تھی۔

یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں کا بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جارہا ہے جن کی کثیر تعداد کے سبب یورپی ممالک بحران حل کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔ یورپی ممالک کی پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ یہ فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں کہ یورپی یونین کا کون سا ممبر ملک کتنے پناہ گزینوں کو پناہ دے گا۔ ان کی پریشانی کی بڑی وجہ یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں کی مختلف قومیتیں بھی ہیں جن میں حقیقی پناہ گزینوں کو پہچاننا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ بحران میں جرمنی وہ واحد یورپی ملک ہے جس نے سب سے زیادہ پناہ گزینوں کو پناہ دی ہے جبکہ جرمن چانسلر اینجلا مرکل کی مخلوط حکومت نے پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کیلئے 6 ارب یورو مالیت کے منصوبے کی منظوری دی ہے تاہم ساتھ ہی جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ وہ آج اپنے بچوں پر یہ واضح کرنا چاہتی ہیں کہ مشکل حالات کے باوجود جرمنی نے مسلمان پناہ گزینوں کو پناہ دی حالانکہ ان پناہ گزینوں کیلئے یورپ سے زیادہ قریب کئی اسلامی ممالک بھی ہیں۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ اگلے پانچ برسوں میں 20 ہزار سے زائد پناہ گزینوں کو پناہ دے گا جبکہ فرانسیسی حکومت نے بھی اگلے دو برسوں میں 24 ہزار پناہ گزینوں کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے مگر قابل حیرت بات یہ ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے پناہ گزینوں کی حالت زار پر کوئی ترس نہیں کھایا اور نہ ہی کسی پناہ گزین کو پناہ دینے کی پیشکش کی۔

موجودہ صورتحال میں عیسائیوں کے روحانی پیشوا پاپائے روم پوپ فرانسس نے پناہ گزینوں کی حالت زار دیکھتے ہوئے رومن کیتھولک فرقے کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے بحران کے حل میں اپنا حصہ ڈالیں اور جنگ و بھوک کا شکار اُن لوگوں کی مدد کریں جو موت سے بھاگ کر زندگی کی تلاش میں نکلے ہیں۔ انہوں نے یہ اپیل بھی کی کہ یورپ کا ہر گرجا گھر اور عیسائی برادری مسلمان پناہ گزینوں کے ایک خاندان کو اپنے ساتھ رکھے۔‘‘ پوپ کی اپیل پر یورپی ممالک میں کئی گرجا گھروں اور عیسائی خاندانوں نے مسلمان پناہ گزینوں کو پناہ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ماضی میں کسی پوپ کے اس طرح کے بیان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

موجودہ پوپ کے حالیہ بیان سے یہ مطلب اخذ کیا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ گرجا گھروں اور عیسائی خاندانوں کا مسلمان پناہ گزینوں کو پناہ دینے کا مقصد ان کے دلوں میں یہ تاثر پیدا کرنا ہو کہ برے وقت میں جب اُن کے اپنے مسلمان بھائی مدد کیلئے تیار نہیں، عیسائی برادری اُن کا ساتھ دے رہی ہے۔ ان حالات میں صدمے سے دوچار ایلان کے والد عبداللہ نے عرب ممالک سے اپیل کی ہے کہ یورپی ممالک کے بجائے عرب ممالک میرے مردہ بچوں کو دیکھتے ہوئے مسلمان پناہ گزینوں کی مدد کریں جبکہ جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسلمان پناہ گزینوں کی مدد کرنا صرف یورپ کی ذمہ داری نہیں بلکہ تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک کو بھی پناہ گزینوں کے معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق محدود وسائل کے باوجود پاکستان دنیا میں پناہ گزینوں کا سب سے بڑا میزبان ملک ہے جس نے 1980ء سے اب تک 16 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ آج یورپی ممالک کو پناہ گزینوں کے سیلاب کا سامنا ہے لیکن یورپی ممالک کو یہ سوچنا چاہئے کہ موجودہ صورتحال کے ذمہ دار خود امریکہ اور یورپی ممالک ہیں جن کی مداخلت کی وجہ سے شام، عراق، لیبیا، افغانستان اور دیگر خانہ جنگی کے شکار ممالک میں یہ صورتحال پیدا ہوئی اور کچھ ممالک یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ پناہ گزینوں کے معاملے کو حل کرنا بھی امریکہ اور یورپی ممالک کی ذمہ داری ہے۔ اگر امریکہ اور یورپی ممالک اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور اسلامی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کے بجائے غریب ممالک کی معیشت بہتر بنائیں تو پناہ گزینوں کے سیلاب کو روکا جاسکتا ہے۔ -
 

------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند