تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یہی تو ہے ’’نیا پاکستان‘‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 14 ربیع الثانی 1442هـ - 30 نومبر 2020م
آخری اشاعت: بدھ 25 ذیعقدہ 1436هـ - 9 ستمبر 2015م KSA 11:07 - GMT 08:07
یہی تو ہے ’’نیا پاکستان‘‘

ولیم شیکسپیئر نےMacbeth میں تاریخی فقرہ لکھا، ’’وقت ، مقام اور تشخیص نے یہ طے کرنا ہے، کہ کون سا بیج پھولے گا اور کون سا بن کھلے مرجھا جائے گا‘‘۔

’’ قومیں ‘‘جرنیل نہیں سیاستدان بناتے ہیں، تاریخ کا سبق یہی ۔سیاستدان کا بنیادی وصف تدبر اور بصیرت ہی ۔ سائنسدانوں کی ذہنی استطاعت کی جہاںآخری حدوہاں سے قائداعظم، ابراہم لنکن ، نیلسن منڈیلا، گاندھی وغیرہ کی عقل ودانش کا نقطہ آغاز ۔ کیا وطن عزیز کی بدقسمتی کہ آج جمعیت سیاستدان تہی دامن ۔ پچھلی چھ دہائیوں سے سیاسی، انتظامی اداروں کا تتربتر، سیاستدان براہ راست ملوث، ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔تمام قومی رہنماء خودغرضی اور نااہلی میں خود کفیل جبکہ تجاہل، تساہل اور تغافل سے مالامال۔سب سچ، مگر یہ بھی سچ کہ کسی بھی صورت میں ماورائے آئین وقانون کسی ادارے کو دوسرے ادارے کو روندنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

سب کچھ کے باوجود اچھی خبر ! سیاسی حکومت اور عسکری قیادت نظریاتی، تزویراتی، اقتصادی پالیسیوں میں صفحہ ایک پر۔ موجودہ جنگ بلا شبہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے پیچیدہ اور گھنائونی جنگ ہی۔کراچی، بلوچستان ، قبائلی علاقہ جات ، مشرقی ومغربی سرحدوں پر تنائو سب ایک سلسلے کی ہی کڑیاںہیں۔پیپلز پارٹی کا پچھلا دور حکومت کرپشن، بدعنوانی، بدانتظامی کا بدترین نمونہ پھر بھی چند پہلو خوش کن۔ سیاسی رواداری اور مفاہمت کا زریں اصول اپنایا وہاںسیاسی حکومت اور عسکری ادارے ایک صفحہ پر نظر آئے۔

دونوں فریقوں نے ڈنگ ٹپایااور خوب ٹپایا۔ مکار اور ذلیل دشمن کو چکمہ دے کر رکھنا اہم ا ورضروری۔ اچھی خبر کہ موجودہ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت میں وہی ہم آہنگی اور یکسوئی، وطن دشمنوں کے چھکے چھڑوا رکھے ہیں۔ اہل وطن ہوشیار باش! امریکہ اور بھارت کا وطن عزیز کو خانہ جنگی اور افراتفری میں دھکیلنا مطمح نظر کہ پاکستان دشمن مفادات کو پذیرائی ملنے کا واحد ذریعہ یہی تو رہ گیا ہے۔ بھارت تو 1971ء میں ایسے کرنے کے ثمرات بھر بھی چکا ہے۔خون کا چسکا برا ہی۔ خوش آئند بات کہ ہمارے سیاسی وعسکری رہنماء معاملے کی تہہ پر براجمان ہیں۔ اس بار 6 ستمبر 2015ء یادگار ثابت رہا۔ ’’یوم دفاع‘‘ کی پچاسویں سالگرہ نئے کروفر اورخوب دھڑلے سے منائی گئی۔ 14 اگست کا جذبہ روح وطن میں حلول کرتا نظر آیا۔ پہلی بار بھارت نے بھی اس دن کی اہمیت کو جانا اورخوب ’’بڑھکیں‘‘ مار کر منایا۔

6 ستمبر کی سب سے دلچسپ بات، ہمارے نام نہاد میانہ رؤوں نے پہلی دفعہ ’’یوم دفاع‘‘ منانے کی ٹھانی ضرور مگر کنفیوژن پھیلانے کا بندوبست کرکے ہی چھوڑا ، قوم کو گمراہ کرنے سے باز نہ آئے ۔ اس میں کوئی باک نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ہم گوڈے گوڈے ملوث ہو چکے، خاطر خواہ کامیابیوں کے جھنڈے بھی گاڑھ چکے۔ نامساعد حالات ، امریکہ آج بھی شاکی ، بڑی بات اتنی کہ عسکری قیادت کی اس محاذ پرکامیابیاں لائق تحسین ۔ یوم دفاع کو دہشت گردی کے خلاف جنگ بنا کر6ستمبر 1965سے پہلو تہی ، لبرل چوری سے گو قاصر ہوچکا تو ہیرا پھیری سے روکنااب بھی مشکل۔

پچاسویں سالگرہ کے حوالے سے میری ایک ذاتی خواہش جو پوری نہ ہوسکی۔ کاش 10ہزار عسکری نوجوانوں کی مع ایٹمی ہتھیاروں سے لیس جدید اسلحہ کی عظیم الشان پریڈ صدر مملکت اور جنرل راحیل شریف کو سلامی دیتی۔ بہت کچھ نقش کر جاتی۔ پیغام مضبوط رہتا۔ 3ستمبر کو چین کی تاریخی پریڈ کا یہی تو پیغام ہے ۔ 1945ء میں جاپان کے خلاف فتح، جس میں بین الاقوامی اتحادی قوتیں بھی شانہ بشانہ شریک تھیں اسی بہانے اپنی عسکری قوت کی دھاک بیٹھانا ہی مقصود تھا۔ اسے چین کا عالمی طاقت بننے کا رسمی اعلان ہی سمجھا جائے۔ DF-21D اینٹی شپ بیلسٹک میزائل (ASBM) کی نمائش نے دنیا بھر کے سیاسی وعسکری ابلاغیات اور سائنس وٹیکنالوجی کے حلقوں میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔ 15منٹ میں فضاء سے خلاء میں اور چند منٹ بعد خلا سے زمین پر دنیا کے کسی کونے میں اپنے ٹارگٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے  Terminal Guided  ،اگلے پندرہ منٹ میں بھی نیست ونابود کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود۔ چند سال پہلے جب چین نے خلاء میں معلق اپنے ہی خلائی سیٹلائٹ کو تباہ کیا تو پیغام یہی دیا کہ اسٹاروار کی باتیں کرنے والو!

ہوشیار باش۔ نئی بات اتنی کہ امریکہ نے جو ٹیکنالوجی محنت شاقہ سے تیار کی وہ دو گھنٹے میں ٹارگٹ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی تھی ، جبکہ چینی میزائل 40 منٹ میں بیجنگ سے اٹھ کر نیو یارک میں امریکی بحری بیڑوں کو بھسم کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔ کاش 6ستمبر کو ہونے والی ہماری تقریب چینی پریڈ سے ملتی جلتی رہتی ۔ایسی پریڈ ہم بھی کر ڈالتے گو ایسی پریڈیں کم ہی ہوئیں مگر جب بھی ہوئیں نئی طاقت کے ظہور کا اعلان ہی جانا گیا۔
1945ء میں روس کے ماسکو ریڈ اسکوائرکی پریڈ یا امریکہ کی 1945ء میں نیویارک، دریائے ہڈسن کنارے نیول پریڈ یا پچھلے سال 2014ء فرانس کی نارمنڈی پرقبضے کی جشن پریڈ طاقت کا سکہ جمانا ہی مقصود رہا۔ہماری خوش قسمتی چین ہمارے ساتھ شانہ بشانہ، چنانچہ دشمنوں کا پاکستان چین گٹھ جوڑ مستحکم ہونے سے پہلے ، پاکستان کو تتر بتر کرنے کا منصوبہ، قابل فہم ہی۔ اسی ضمن میں، عمران خان اور طاہر القادری کا چینی صدر کے دورے میں روڑے اٹکانا بھلا کیسے بھلایا جائے گا؟ یا معاف ہو پائے گا؟

بھارتی سپہ سالار کی گیڈر بھبھکی پر ہمارے پرعزم سپہ سالار کا منہ توڑ جواب، قومی امنگوں کی ترجمانی ہی تھی ۔ پچاسویںیوم دفاع کے موقع پر جنرل راحیل شریف کا خطاب، قوم کے کانوں میں رس گھول گیا۔۔ چند دن پہلے جنرل دلبیر سنگھ اپنی گلی میں شیر بننے کے چکر میں کیا کہہ گیا؟ ’’بھارت کو پاکستان کے ساتھ شارٹ (مختصر) اور تیز ترین وپھرتیلی (Swift) جنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر کے ’’تسلط ‘‘کاراز بھی اسی میں پنہاں ہے‘‘۔ ہیجانی وہذیانی کیفیت میں مبتلا بھارتی سیاسی وعسکری قیادت پچھلے کئی ہفتوں سے ایسی بک بک، جھک جھک میں مبتلا ہوچکی ہے۔ بھارتی فوج نے جو نیا کولڈا سٹارٹ ڈاکٹرائن (Doctrine) متعارف کروایا ہے۔

اس کا مطلب ہے کیا؟ کہ’’ مختصر ترین وقت میں، تیز ترین جنگ لڑ کر پاکستان کو ٹھنڈا کیا جائے اور اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جائے‘‘۔ جواباًََہمارے جری سپہ سالار کا جواب مختصر،جامع اور مؤثر ،آج بھی بھارتی میڈیا میں شوروغوغا دیدنی ہے۔جنرل راحیل شریف کہہ کیا گئے؟ ’’کولڈ اسٹارٹ یا گرم شروعات، اگربھارت نے ایسے کسی ناگہانی جرم کے ارتکاب کی جرأت کی تو ناقابل یقین خمیازہ بھگتے گا‘‘مزیدبرآں، ’’کشمیر آج بھی برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے ۔ جموں وکشمیر کے لوگ بھارتی ظلم، جبر ، استبداد اور ناانصافی کا شکارہیں۔ مسئلہ کشمیرکسی صورت پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ خطے کے امن کی کنجی مسئلہ کشمیر کے حل میں ،کشمیریوں کی امنگ کے عین مطابق۔ اقوام متحدہ کی قراردادموجود، اس کے مطابق ہی حل کرنا ہوگا‘‘۔ اسی خطاب میں جنرل راحیل شریف نے افغانستان میں امن کی کوششوں سے لے کر پاک چائنہ اقتصادی راہداری تک سب کچھ کا احاطہ کیا۔

عظیم سپوت تمام قومی منصوبوں اور وطنی پالیسیوں کے دفاع اور استحکام میں پرعزم نظر آئے۔ قیام پاکستان سے ہی ہر دس پندرہ سال بعد پاکستانی سرحدوں پر فوج چڑھا کر طبل جنگ بجانا، بھارتی پالیسی کا اہم ستون رہا۔ 1971ء میں منہ کو خون علیحدہ لگ چکا ہے۔ ابھی توہمیں اس خون کابدلہ بھی چکانا ہے۔ہماری سرحدوں پر بھارتی فوج کا آخری اجتماع 2002ء میں ہوا۔ جنگی جنون ساتویں آسمان کو چھوچکا تھا۔ اس وقت اپنے ہی ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپیریشن لیفٹیننٹ جنرل شیکت کار نے اپنے رفقاء کار کے گوش گزار کر دیا۔ کہ’’پاکستان سے ہرطرح کی جنگ کی گنجائش ختم ہو گئی ہے،اگر بھارت نے عقل کو لگام نہ دی تونتیجہ تباہی وبربادی کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔ پاکستان نے ٹیکٹیکل نیو کلیئر ہتھیار (TNW) تیار کر رکھے ہیں۔ ہماری فوج کی ایک یونٹ یا پوری کور، بفرض محال ایک قدم پاکستان میں اندر جاتی ہے، چند منٹوں میں نیست ونابود کر دی جائے گی۔

کیا بھارت چند منٹ میں 30 ہزار نوجوان مروانے کے لیے تیار ہے‘‘۔جنرل شیکت کار کا انٹرویو باآسانی گوگل پر سرچ کیا جا سکتا ہے۔’’بدنام زمانہ وعلاقہ ‘‘اجیت ڈوول کی مشیر برائے قومی سلامتی امور تعیناتی پراگندے عزائم کو آشکار کر رہی ہے۔ یقیناً چین کے مکمل براجمان ہونے سے پہلے بھارت اور امریکہ کو افراتفری اور خانہ جنگی مطلوب ہے، بھارتی جنونی مہارت ہے بھی یہی ۔ ننگ وطن ہتھیا کر، سیاسی، مذہبی، قومیتی جماعتوں میں آشیانے، مچانیں بنا لیں، انارکی پھیلانا مقصود۔ فوج اور اس کی آنکھیں (ISI) ششدر رکھنے میں کمال مہارت رکھتی ہے۔ یہ 2002ء نہیں بلکہ 2015ء ،کل ہی ہم نے اپنا ڈرون طیارہ لانچ کیا ہے۔ جبکہ پاکستانی فوج کا تعارف صرف ایک ہی دشمن سے،گو سفاک، مکار اور کمینہ۔اس یوم دفاع کاپیغام ایک نیا عزم، نیا جذبہ متعارف کرا کے رخصت ہوا۔ اس نئے جذبے، نئے عزم کے ساتھ ، نئے زمانے ، نئے مقام جس کا ایک مدت سے انتظار تھا، اہل ِ وطن خوش آمدید کرتے ہیں۔ یہی تو ہے وہ ’’نیا پاکستان‘‘۔

شذرہ:صبح سے سپریم کورٹ کا اردو زبان کے بارے میں فیصلے کا شدت سے انتظار تھا۔ سپریم کورٹ نے آئین پاکستان ہی کو تو نافذ کیا ہے۔ چیف جسٹس صاحب مبارک باد کے مستحق۔ حیف ہے ہمارے مقتدر طبقے پر۔ 1947ء میں بانی مبانی اسمبلی نے اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ صادر فرمایا، قرارداد پاس کی۔ عظیم قائد نے بنفس نفیس ڈھاکہ، مشرقی پاکستان میں اس کا تحکمانہ اعلان فرمایا۔ 1973ء کے آئین میں یہی کچھ درج رہا۔ نفاذ میں صرف اورصرف بے حیائی اور بے غیرتی مانع رہی۔ آفریں! آفریں! آج چیف جسٹس نے معاملہ نبٹا دیا۔ امید ہے تحریری فیصلے میں نفاذ نہ کرنے کی صورت میں حکمرانوں کو غداری کا مقدمہ جھیلنا ہو گا۔
------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند