تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تکتی ہیں چیزیں چشم خریدار کی طرف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 26 ذیعقدہ 1436هـ - 10 ستمبر 2015م KSA 10:08 - GMT 07:08
تکتی ہیں چیزیں چشم خریدار کی طرف

یہ پڑھ کر اور سن کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہماری خواتین قومی زندگی کے ہرمیدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ خاص طور پر تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کر رہی ہیں۔ تعلیم کے بیشتر شعبوں میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کر رہی ہیں۔ طالبات طلبا کے مقابلے میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں لیکن یہ تمام قابل قدر، واجب تحسین اور خوش کرنے والے حقائق اخبارات کی خبروں میں تو دکھائی دیتے ہیں مگر معاشرتی زندگی میں کسی مثبت تبدیلی کی وجہ بنتے دکھائی نہیں دے رہے۔

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے فیلڈمارشل ایوب خان نے ایک میڈیکل یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں حیران ہوتا ہوں کہ میڈیکل یونیورسٹی کی ڈگریاں اور ڈپلومے لینے والی لڑکیاں کہاں چلی جاتی ہیں۔ ہسپتالوں اور شفاخانوں میں کیوں دکھائی نہیں دیتیں؟ تھی تو گستاخی کی حرکت مگرمجھ سے سرزد ہوگئی۔ عرض کیا کہ فیلڈ مارشل اگر کانووکیشن سے خطاب کرنے کے بعد میڈیکل یونیورسٹی کے ہال سے نکل کر دیکھیں تو انہیں دکھائی دے گا کہ ایم بی بی ایس کی ڈگری لے کر ہال سے نکلنے والی مستقبل کی ڈاکٹر صاحبہ کے لئے کوئی پٹواری صاحب ڈولی سجا کر لائے ہوں گے اور وہ اس ڈولی میں سوار ہونے پر مجبور ہو رہی ہوگی۔

میڈیکل یونیورسٹی کی تعلیم پر طالبات کے والدین کا بھی بھاری خرچ ہوتا ہے اور حکومتوں کو بھی میڈیکل کی تعلیم فراہم کرنے پر بھاری خزانے خرچ کرنے پڑتے ہیں مگر اندازہ ہوتا ہے کہ میڈیکل کی بیشتر طالبات میڈیکل کی تعلیم اور تربیت اپنے معاشرے کےافراد کی صحت بہتر بنانے کے لئے حاصل نہیں کر رہی ہوتیں بلکہ اچھا رشتہ حاصل کرنے کے لئے میڈیکل کی ڈگری حاصل کر رہی ہوتی ہیں اور یہ ڈگری ان کی شادی کے بعد کسی بہتر مقصد کے لئے استعمال نہیں ہو رہی ہوتی۔

میرے مرحوم دوست جاوید شاہین کی بیٹی کا رشتہ لینے والے آئے ہوئے تھے اور جاوید شاہین اپنی بیٹی کی نگاہوں میں امید و بیم کے جذبات کا مدوجذر دیکھ رہے تھے اس پر انہوں نےایک شعر بھی لکھا کہ:

دھڑکہ لئے پسند کا اور ناپسند کا
تکتی ہیں چیزیں چشم خریدار کی طرف

یہ چشم خریدار عام طور پر پٹواری صاحب کی ہوتی ہے۔ جو بعض حالات میں حکومت کے بائیسویں گریڈ سے بھی اوپر بلکہ کئی گنا اوپر کی سطح کی کمائی کر رہے ہوتے ہیں اور بہتر مستقبل کی طلب رکھنے والی پڑھی لکھی خواتین ان کی سجائی ہوئی ڈولی میں سوار ہونے کو ترجیح دیتی ہیں۔

یہ زیادتی ہمارے معاشرے میں صرف میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کرنے والی خواتین کے ساتھ ہی نہیں ہو رہی قومی زندگی کے دیگر شعبوں میں قدم رکھنے کی تعلیم حاصل کرنےوالی خواتین کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہاہے اورملک میں کوئی ایسا قانون یا پابندی نہیں ہے کہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والی لیڈی ڈاکٹر کم از کم پانچ سال کاعرصہ اپنے معاشرے کے بیماروں کے علاج معالجے کے لئے خرچ کرے اوراس کے بعد اگر کسی پٹواری صاحب کی رفیقہ حیات بننے کی خواہش رکھتی ہوتو اس خواہش کوپوراکرے۔
----------------------------
بہ شکریہ روزنامہ جنگ
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند