تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ولولوں سے بھرا ستمبر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 26 ذیعقدہ 1436هـ - 10 ستمبر 2015م KSA 10:16 - GMT 07:16
ولولوں سے بھرا ستمبر

جب پاکستان کا نام تجویز کیا گیا ہو گا تو ایک ایسی سرزمین کا تصور ضرور سامنے ہو گا جو ہر طرح کی مصیبتوں، پریشانیوں اور ناانصافیوں سے پاک ہو گی۔ جہاں شہریوں کے لئے تمام سہولتیں میسر ہوں گی اور کوئی دیسی بدیسی طاقت ان کا کسی طرح سے استحصال نہ کر سکے گی۔ ہر انسان اچھی زندگی کا خواب دیکھتا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے بھی آزادی، خوشحالی اور امن کی فصل اُگانے والی زمین کا خواب دیکھا۔ اس سے جُڑی حقیقتیں اتنی حسین تھیں کہ خواب آرزو میں ڈھلا، جستجو بنا اور پھر مقصد بن کر زندگی کا حاصل بن گیا۔ اعلیٰ ترین مقصد نے پختہ ارادے، مسلسل عمل اور طویل جدوجہد کا تقاضا کیا۔

زندگی کے حسن کو ترسے لوگوں نے اپنے کل اور آنے والی نسلوں کا حال محفوظ اور خوبصورت بنانے کے لئے سیاسی، معاشرتی اور سماجی محاذوں پر یکجا ہو کر آگے بڑھنے اور مقصد حاصل کرنے کا عہد کیا اور مسلسل محنت میں اوقاتِ کار کی تقسیم ہی بھول گئے کیوں کہ خواہشوں کی دل فریب شکل ایک پل بھی اپنا خیال محو نہ ہونے دیتی تھی۔ پھر ایک دن خواہش، آرزو اور مقصد مُراد بن کر دُعائوں میں سما گئے۔ مُرادیں عملی کاوشوں کے ساتھ ساتھ دل اور رُوح کی سچی صدائوں کی بھی متقاضی ہوتی ہیں۔ مُراد میں ایک عطا کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔

14 اگست کو اس خطے کے لوگوں کی دلی مُرادیں تجسیم ہو کر سبز و سفید پرچم پر چاند ستارے میں ضم ہو گئیں۔ دنیا نے دیکھا آزادی، قومی شناخت اور حقوق کے لئے برسرِ پیکار قوم نے بالآخر فتح حاصل کی۔ صدیاں گزر جاتی ہیں اور قوموں کی جدوجہد کو پذیرائی نصیب نہیں ہوتی۔ یہ اس خطے کے لوگوں کا اخلاص، نیک نیتی اور ولولوں کا اعجاز تھا کہ قائد اعظم اتنے کم عرصے میں اپنے سے کئی گنا طاقتور مدمقابل قوموں کو سیاسی سطح پر مذاکرات کی اُس نہج پر لے آئے جہاں آزادی کے مطالبے کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہ تھا۔ دنیا میں کسی ملک یا قوم کی بغیر لڑائی جھگڑے اور خون خرابے کے آزادی حاصل کرنے کی مثال موجود نہیں۔ پاکستان وہ ریاست ہے جس کا فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں سیاسی عدالت میں ہوا۔ ہمارے وکیل نے منطقی دلائل کے ذریعے اپنا مقدمہ پیش کیا تو زمین اور آسمان کے جج نے ان کی شبانہ روز محنت پر جیت کی مہر ثبت کی۔ آزادی کے سورج کو لہو کی سلامی قطعاً مقصود نہ تھی مگر امن کی مخملیں سبز گھاس پر قدم رکھنے سے قبل ہی فضا کو مکدر کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔

وہ لوگ جو دلیل، مکالمے اور انسانی حقوق کی بجائے جنگل کے قانون کے تابع دار تھے اقلیت کا الگ ملک حاصل کرنا اپنی توہین سمجھ کر انتقام پر اُتر آئے۔ دونوں طرف ظلم، زیادتی اور جبر کی اندوہناک کہانی فلم بند ہوئی۔ بے شمار چیلنجز کے باوجود پاکستان نے اپنی آزادانہ حیثیت بحال رکھی۔ کھیلوں، آرٹ، ادب کی ترویج ہوئی، ادارے وجود میں آئے۔ یوں تو آزادی کی چاہ رکھنے والی ریاستوں کا ہر فرد وطن کا محافظ ہوتا ہے مگر ایک ادارہ جو واقعتا زمین، اپنے لوگوں اور ان کے اثاثوں اور خود داری کے تحفظ کا علمبردار سمجھا جاتا ہے فوج ہے۔ فوج کی طاقت میں پوری قوم کا جذبہ شامل ہو جائے تو وہ ناقابل تسخیر ہو جاتی ہے، اس کی شان و شوکت اور ہیبت سے دشمن خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ ہم آہنگی شخصیت کے اندر ہو تو انسان کمال کی طرف گامزن ہوتا ہے اور اگر قوم کے افراد ایک پرچم تلے جمع ہو کر نعرہ زن ہوں تو وہ قوم عظمت کی بلندیوں کو چھو لیتی ہے۔

ستمبر 1965ء میں پاکستان کے غیور عوام اور بہادر فوج نے عملی طور پر یہ تجربہ دنیا کو دکھایا۔ ہماری تاریخ میں یہ سترہ روزہ جنگ سنہری حروف میں لکھی ایک دستاویز ہے جو ہماری آزادی سے محبت کے ساتھ ساتھ ہماری صلاحیتوں، ہماری جدوجہد، ہمارے جذبۂ حب الوطنی، ہمارے عزم اور جیت کے حصول کے لئے جان پر کھیل جانے کی جرأت کی ایسی سند ہے جس نے دنیا میں ہمیں باوقار بھی کیا اور ہمارا مورال بھی بلند کیا ہے۔ اپنی دھرتی کے دفاع، اپنی آزادی کی حفاظت، اپنی خود داری کے احترام میں بُنے ہوئے لوگوں نے غلامی، محتاجی اور استحصال کی سخت زنجیروں کو آہنی حوصلوں سے تار تار کر کے ایک نئی داستان رقم کی اور دنیا کو بتایا کہ افرادی قوت اور جدید و مہلک اسلحے کے سامنے جذبۂ حریت ہی سرخرو ہوتا ہے۔

65ء کی جنگ کے ہیرو ہماری دھرتی کے چاند ستارے ہیں۔ ان کے دم قدم سے ہماری تاریخ روشن اور ہمارے حوصلے بلند ہیں۔ آج بھی ان کی یاد وطن سے محبت کی جانب راغب کرتی ہے۔ ہم آج بھی اپنی فوج سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ وہ دھرتی کے سر کا تاج ہے۔ ہم اپنی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین اور باوقار فوج کے طور پر دیکھنے کے متمنی ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ جب سے جنرل راحیل شریف نے سپہ سالاری کی مسند سنبھالی ہے اس ادارے نے اپنے اصل مقاصد کو زیادہ واضح انداز میں حاصل کرنا شروع کر دیا ہے اور اسی وجہ سے عوام میں اپنے اس ادارے کے لئے محبت اور احترام کے جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ جان کر عوام کا مورال بلند ہوا ہے کہ اب ہمارے دفاعی ادارے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے پرعزم ہیں اور سیاسی معاملات ان کی ترجیح نہیں۔

کسی شخصیت یا ادارے سے محاذ آرائی کی بجائے وہ تمام آمرانہ و غاصبانہ قوتوں کو نیست و نابود کر کے ملک کو خوشحالی اور امن کی رہگزر پر رواں دواں کرنے کے لئے شبانہ روز مصروف ہیں۔ وہ اسلام آباد کی بجائے عوام کے دِلوں پر حکومت کے خواہاں ہیں جس میں انہیں نمایاں کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ بڑے سالوں بعد یہ ستمبر آیا ہے جب دوبارہ فوج کے سپہ سالاروں کے لئے ترانے لکھے گئے، گائے گئے اور انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ یہ سب دل سے نکلی باتیں تھیں اور اس کا کریڈٹ جنرل راحیل شریف کو جاتا ہے۔ جنرل مشرف نے دنیا میں ہونے والی ہر واردات کا سب سے پہلے پاکستان کو ذمہ دار قرار دے کر اپنے لوگ غیروں کے حوالے کر کے پوری قوم کا مورال پست کر دیا تو دنیا نے ہمارے ماتھے پر مشکوک کا لیبل چسپاں کر دیا۔ جنرل راحیل شریف نے اندر اور باہر کے دشمنوں کو طاقت کے ذریعے مغلوب کرنے کا عملی چلن اپنایا۔

آج ہماری خوش قسمتی کہ ہماری فوج میں ناصر جنجوعہ جیسے جنرلز ہیں جن کا ہر لفظ اور عمل حکمت اور دانش کا آئینہ دار ہے۔ وہ پہاڑوں میں رُوپوش وطن دشمن کارروائیوں میں ملوث افراد کو بھی مکا دکھا کے مشتعل کرنے کی بجائے اپنی مثبت سوچ اور دلائل سے ہتھیار ڈالنے پر قائل کرتے ہیں اور اپنی جیت پر نعرہ نہیں لگاتے بلکہ انہیں خیر کے سامنے سرنگوں ہونے کی خبر دے کر ان کی انا اور خود داری کے ساتھ ساتھ ان کے اندر انسانی اقدار کو اجاگر کر کے قومی دھارے میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں کیوں کہ وہ ہمارے اپنے ہیں اور اپنوں سے غیروں کا سا سلوک نہیں ہوتا۔ آج ہماری فوج میں فدا حسین ملک جیسے جنرل موجود ہیں جو ایچی سن کالج میں داخلے کی فہرست میں اپنے بیٹے کا نام موجود نہ پا کر پرنسپل کو ڈرانے دھمکانے کی بجائے اوکے اور شکریے کا پیغام بھیجتے ہیں۔

جانے کیوں میرا وِجدان مجھے احساس دلاتا ہے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ پچاس سالہ جشن میں در و دیوار خوب سجائے گئے ہیں، ترانے بھی ہیں، چراغاں بھی ہے، 65ء کا جذبہ بھی بیدار ہے۔ بدلا ہوا ستمبر بدلی ہوئی قوم کی گواہی بن کر آیا ہے۔

----------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند