تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان میں انتقامی اور ہندوستان میں نظریاتی سیاست کی واپسی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 16 صفر 1441هـ - 16 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 30 ذیعقدہ 1436هـ - 14 ستمبر 2015م KSA 12:07 - GMT 09:07
پاکستان میں انتقامی اور ہندوستان میں نظریاتی سیاست کی واپسی؟

سابق صد ر زرداری کے خیال میں پاکستان میں انتقامی سیاست واپس آرہی ہے اور ٹرانسکی کے ہم خیال بائیں بازو والوں کے مطابق ہندوستان میں نظریاتی سیاست واپس آرہی ہے۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بارہ دن پہلے دو ستمبر کو ہندوستان کے محنت کشوں کی دس بڑی تنظیمیں اپنے حکمرانوں کی مزدور دشمنی اور خاص طور پر نریندر مودی سرکار کی سرمایہ پرست پالیسیوں کے خلاف احتجاج اور مذمت کے لئے دس کروڑ لیبر فورس کی مکمل ہڑتال کروائیں گی، مگر ہوا یہ کہ ستمبر کے دوسرے روز ہندوستان کے پندرہ کروڑ سے زیادہ جفا کشوں نے جنوبی ایشیاء کے خطے کی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال کر دکھائی اور دکھائی بھی یوں کہ ایک دن کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ یہاں تک کہ سوویت یونین کے انہدام اور’’تاریخ کے نام نہاد خاتمے‘‘ کے دعوے کے بعد ٹریڈ یونین ازم اور بائیں بازو کی نظریاتی سیاست کا فاتحہ پڑھ بیٹھنے والے ’’کیمونسٹ‘‘ بھی حیران رہ گئے۔ لازمی طور پر مودی سرکار بھی پریشان ہوگئی ہوگی اور علاقے اور خطے کے دیگر ممالک کی حکومتوں میں مزدور دشمن، عوام، عوام کے مفاد کے خلاف جانے والی اور سرمایہ داری کو نوازنے والی پالیسیوں سے بھی خدشہ محسوس کرنے لگے ہوں اور سب سے اہم بات ہے کہ محنت کشوں کے طبقے کو اپنی اجتماعی طاقت کے شعور سے بھرپور آگاہی ہوئی ہوگی اور احساس ہوا ہوگا کہ تاریخ کا ابھی خاتمہ نہیں ہوا۔

مذکورہ بالا تمام حقائق ہندوستان کے لبرل اخبار’’ہندو‘‘ سے لے کر برطانیہ کی تھیچرائٹ سوچ کے نمائندے’’اکانومسٹ‘‘ نے تسلیم کئے ہیں اورخطے میں ایک نئی مثبت سوچ کے ابھرنے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ ہندوستان میں جفا کشوں کی اس مکمل اور مفلوج کردینے والی ہڑتال کی بھارت کی ہندو بنیاد پرست تنظیم’’آر ایس ایس‘‘ کے علاوہ اور کسی مزدور تنظیم نے کوئی مخالفت نہیں کی ہے۔ بھارتی دانشوروں کا کہنا ہے اور شاید صحیح کہنا ہے کہ ہندوستان میں نرنیدر مودی کے برسر اقتدار آنے کی ایک وجہ کانگریس کے طویل اقتدار کی ناکامی تھی اور دوسری اہم وجہ وہاں کی بائیں بازو کی کمیونسٹ پارٹیوں کی نظریات کی سیاست سے غداری ہے۔ شاید یہی الزام یا الزامات پاکستان کی مسلم لیگ کے اقتدار اور پاکستان پیپلز پارٹی کی خود اپنے نظریات سے ناراضگی پر بھی عائد کئے جاسکتے ہوں گے۔ بائیں بازو کے دانشوروں کا کہنا ہے کہ دو ستمبر کی ہندوستانی لیبر فورس اور محنت کشوں کی تاریخی ہڑتال نے نریندر مودی حکومت کے سامنے جگائے رکھنے والی راتیں پھیلا دی ہیں اور جگائے رکھنے والی یہ راتیں پاکستان کی سیاست کی آنکھیں بھی کھول سکتی ہیں۔

دو ستمبر کی ہندوستانی محنت کشوں کی ہڑتال اتنی شدید تھی کہ مغربی میڈیا بھی اسے نظرانداز نہیں کرسکا اور بی بی سی کے مطابق پورے ہندوستان میں ایسا شعور بیدار ہوتا دکھائی دیا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت بی جے پی کی حکومت کی کاروباری طبقے سے دوستی اور محنت کشوں کے مفاد سے دشمنی کی پالیسی اور لیبر قوانین کا جاری رہنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی دکھائی دے رہا ہے۔

ہندو بنیاد پرست نریندر مودی کی گزشتہ سال مئی کی سیاسی کامیابی اور پارلیمان میں فیصلہ کن اکثریت کے حصول کے بعد عالمی سرمایہ داری نظام کے آقا خوشی سے جھوم رہے تھے جیسے انہوں نے واقعی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں’’تاریخ کا خاتمہ‘‘ دیکھ لیا ہے اور نام نہاد’’سرخوں‘‘ کی طرف سے اندیشے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معدوم ہوچکے ہیں لیکن اتنی بڑی کامیابی اور عالمی سرمایہ داری نظام کی مکمل حمایت کے باوجود نریندر مودی کو اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد میں سخت دشواری پیش آرہی تھی۔ ہندوستان کے ایک سابق وزیر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نریندر مودی تقریریں تو بہت اچھی کرتے ہیں لیکن مشکل فرائض کی ادائیگی سے گریز کرتے ہیں اور انہیں ملتوی کرتے رہتے یا ٹالتے چلے جاتے ہیں۔ دو ستمبر کی ہڑتال پر تبصرہ کرتے ہوئے نریندر مودی کے سامراجی آقائوں نے بھی مودی کی ہچکچاہٹ پر ڈانٹ پلائی ہے اور مودی کے حمایتی’’اکانومسٹ‘‘ نے بھی25اگست کے شمارے میں لکھا ہے کہ مودی کو سیاسی ناٹک جاری رکھنے کی زیادہ فکر ہے جبکہ مشکل فرائض ادا کرنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ دو ستمبر کی ہڑتال نے مودی سرکار کے سامنے ایک بہت بڑے سوالیہ نشان کو آویزاں کردیا ہے کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ پندرہ کروڑ سے بھی بڑے محنت کشوں کے ہجوم کو اگر کوئی فعال قیادت نصیب ہوتی تو اب تک انقلاب برپا ہوچکا ہوتا۔

----------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند