تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تازہ تقریریں، کشمیر اور خالصتان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 1 ذوالحجہ 1436هـ - 15 ستمبر 2015م KSA 10:10 - GMT 07:10
تازہ تقریریں، کشمیر اور خالصتان

سال دوسال بعد ’’منہ دکھائی‘‘ کے طور پر بلاول بھٹو زرداری ایک ایسی تقریر کرتے ہیں جسے سن کر پیپلز پارٹی کے کارکن سمجھتے ہیں کہ اب کوئی طوفان آنے والا ہے مگر افسوس ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لاہور میں بلاول بھٹو زرداری نے ایک ایسی ہی تقریر کی جس میں یہاں تک فرما دیا کہ ’’لاہور میں دہشت گردوں کے یاروں کی حکومت ہے‘‘ فرمانا ان کا حق ہے لیکن اگر وہ تقریر کرنے سے پہلے اپنے والد گرامی سے پوچھ لیتے کہ محترم ابا جان ! آپ نے دہشت گردوں کے یاروں سے مفاہمت کیوں کر رکھی تھی بلکہ آپ کے دل میں اب بھی ان کیلئے نرم گوشہ ہے۔ دوسرا سوال وہ یہ بھی پوچھ سکتے تھے کہ ابا جان! آپ نے دہشت گردوں کے یاروں کی حکومت کیوں بچائی۔ میری دانست میں یہ تقریر پانی کا بلبلہ ہے ۔ اسے آصف علی زرداری مفاہمت کی ایک پھونک سے ختم کر دیں گے۔ اپنے ’’پارلامنٹ شاہ ‘‘ بھی ایسی تقریروں کو پسند نہیں کرتے جو ندیم افضل چن نے بلاول بھٹو سے کروا دی ہے۔ چن صاحب کو علم نہیں کہ مفاہمت کی جادوگری کے سامنے ایسی لاکھ تقریروں کی کوئی حیثیت نہیں۔

9 دن پہلے جو بھرپور تقریر آرمی چیف نے کی تھی، اس میں میڈیا کو خراج تحسین پیش کیا تھا، یہ خراج تحسین ہضم نہ ہو سکا اور کراچی میں ’’را‘‘ نے میڈیا کے دو افراد شہید کروا دیئے ۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ کراچی کی ایک جماعت کے بہت سے کارکن ’’را‘‘سے تربیت حاصل کرنے کے بعد کراچی کے امن کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔

آپ کو مبارک ہو کہ آپ کے صدر مملکت بڑے شاہ خرچ نکلے ہیں ۔ صدر صاحب نے مختلف بیرونی دوروں کے دوران 61لاکھ روپے ’’ٹپ‘‘ میں دیئے ہیں۔صدر صاحب فراخ دلی آدمی ہیں ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں کہ وہ جس ملک کے صدر ہیں وہ ملک بہت مقروض ہے۔’’مال مفت دل بے رحم ‘‘ کے مصداق موصوف پیسے بانٹنے میں لگے رہے۔ اب وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ تو قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے ان اخراجات کیلئے ایوان صدر نے وزارت خزانہ سے منظوری نہیں لی۔ پوری قوم کو صدر صاحب کا ’’ممنون‘‘ ہونا چاہئے کہ ان کی ’’ٹپ‘‘ لاکھوں میں گئی ہے کروڑوں بچ گئے ہیں ۔ ویسے اس میں ناراض ہونے والی کوئی بات نہیں صدر صاحب کا دہی بڑوں(بھلوں) کا وسیع کاروبار ہے ان کے نزدیک اتنی بڑی ٹپ کی کیا حیثیت ہے۔ کبھی آپ خیبر پختونخوا کی قوم پرست جماعت کے سربراہ کے کتوں کیلئے گوشت لے جانے والی گاڑیاں دیکھیں تو آپ کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے ۔ویسے خان صاحب کا بھی بیرونی دنیا میں ہوٹلنگ کا وسیع کاروبار ہے ۔

پہلے آپ اخبارات میں ’’ضرورت رشتہ ‘‘ کے اشتہارات پڑھتے تھے اب کرپشن میں بھی رشتے تلاش کر لئے گئے ہیں اس سلسلے میں راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ ’’اگر رینٹل پاور کرپشن کی ماں ہے تو نندی پور نانی ہے ‘‘ راجہ صاحب کے اس حقیقت پسندانہ موقف سے مجھے پنجابی محاورہ یاد آ گیا ہے ’’گرو جنھاں دے ٹپنے تے چیلے جان چھڑپ‘‘ مثلاً اگر کسی کا استاد کوئی ایک آدھ جمپ لگا سکتا ہے تو شاگرد کیلئے پندرہ بیس جمپ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

آج کل ہندوستان میں متعصبانہ سوچ کا غلبہ ہے ویسے تو برسوں پہلے گاندھی نے کہا تھا کہ ’’ہندوستان ایک گندے جوہڑ کی مانند ہے، باہر سے آنے والے خوبصورت لوگ اپنی تہذیبوں سمیت اس میں غرق ہو جاتے ہیں، اس کا حصہ بن جاتے ہیں ‘‘ گاندھی کے اس گندے جوہڑ سے نریندر مودی برآمد ہوا ہے جس کی مختلف پالیسیوں کی سزا بھارت میں بسنے والی اقلیتیں بھگت رہی ہیں جو تحریکیں من موہن سنگھ جیسے معتدل لوگوں کے باعث ٹھنڈی ہو گئی تھیں اب وہ تحریکیں پھر سے عروج پر ہیں۔ مثلاً دو دن پہلے کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں میراتھن ریس ہندوستان مخالف مظاہرے میں بدل گئی۔ سرینگر کے علاقے نسیم باغ میں کشمیر یونیورسٹی کے طلباء نے آزادی کے حق میں اتنے پرجوش نعرے بلند کئے کہ کٹھ پتلی حکومت کے وزراء بھاگ گئے غدار ابن غدار فاروق عبداللہ نے کنی کترائی کیونکہ سرینگر کی فضا اس نعرے سے گونج رہی تھی۔

تیری جان میری جان
پاکستان، پاکستان

آزادی کی آرزو میں نعرے لگانے والوں پر بھارتی فوج اور پولیس نے تشدد کیا، گولیاں برسائیں اور آنسو گیس کا کھلا استعمال کیا۔ یہ تمام ظلم کشمیری نوجوانوں کے حوصلے پست کرنے میں ناکام ثابت ہوا ۔ حالیہ تحریک کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اگلے دو سالوں میں کشمیریوں کو آزادی نصیب ہونے والی ہے ۔بھارتی فوجی دیکھتے رہ جائیں گے اور سری نگر پر سبز ہلالی پرچم کا راج قائم ہو چکا ہوگا ۔
آج کل خالصتان کی تحریک بھی زوروں پر ہے اس تحریک کو کچلنے کیلئے بھارتی سرکار بڑی غلطیاں کرنے والی ہے، ہو سکتا ہے دوبارہ گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی کی جائے۔ گوردوارہ دربار صاحب گولڈن ٹیمپل امرتسر کی بڑی تاریخی حیثیت ہے اسے سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو نے تعمیر کروایا تھا۔ اس گوردوارے کا سنگ بنیاد حضرت میاں میرؒ سے رکھوایا گیا جب حضرت میاں میر ؒ نے سنگ بنیاد رکھا تو تین اینٹیں ٹیڑھی رکھیں جسے گرو نے تو قبول کر لیا مگر پیچھے کھڑے دو سکھوں نے ان اینٹوں کو سیدھا کر دیا ۔

سکھوں کے اس عمل پر گرو ناراض ہو گیا اور کہنے لگا ’’اب اس گوردوارے پر تین آفتیں آئیں گی‘‘ سکھ اپنے گرو کی بات کو سچ سمجھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ ایک آفت 1984ء میں آ چکی ہے جب اندرا گاندھی کی حکومت نے گوردوارے کی بے حرمتی کی تھی ابھی دو آفتیں باقی ہیں۔ اب یہ آفتیں کب آتی ہیں اس کا تو پتہ نہیں البتہ سکھ نوجوانوں نے آزادی کی تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے، وہ اپنی آزادی کیلئے بھرپور انداز میں تحریک چلا رہے ہیں ۔ بھارت میں سکھوں اور کشمیریوں کو بھارت سے آزادی چاہئے جبکہ پاکستان میں پاکستانیوں کو کرپٹ سیاست دانوں سے آزادی چاہئے ۔دونوں طرف آزادی کا عمل تیزی سے جاری ہے بقول شائستہ مفتی

چھلک جائیں نہ آنکھیں اشک تر سے
وفا کے دور فانی کی غزل ہے

نوٹ :پچھلے کالم میں ٹائپسٹ نے وزارت اطلاعات کے سینئر ترین افسر محمد سلیم بیگ کو جونیئر بنا دیا تھا اسے درست کرلیں ۔ -
------------------------
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

 

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند