تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مشرق سے ابھرتا ہوا سورج
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 29 جمادی الاول 1441هـ - 25 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 1 ذوالحجہ 1436هـ - 15 ستمبر 2015م KSA 11:56 - GMT 08:56
مشرق سے ابھرتا ہوا سورج

آج کے کالم کی ابتدا اس سے اچھی اور کیا ہو سکتی ہے کہ شاعر مشرق و مغرب اقبال کے ایک شعر سے کی جائے
کھول آنکھ، زمین دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

انیسویں صدی کے وسط میں یہ سورج چین کی سرزمین پر ایک زبردست عوامی اور اشتراکی انقلاب کی صورت میں رونما ہوا، پھر ویت نام کی سرزمین پر جہاں کے بے سروسامان اور بے وسیلہ عوام نے محض قومیت اور اشتراکیت کے امتزاج سے ابھرنے والے آہنی عزم، ناقابل یقین بہادری، قابل فخر ہمت اور حوصلہ سے یکے بعد دیگرے پہلے جاپانیوں کو، پھر فرانسیسی فوج اور پھر امریکہ جیسی بڑی طاقت کو شکست فاش دی۔ مندرجہ بالا دو واقعات نے تاریخ عالم کا رخ بدل دیا۔ صد افسوس کہ مشرقی ممالک میں (خصوصا انڈونیشیا ، بھارت اور مشرقی پاکستان ) میں عوامی انقلاب کی بجائے رد انقلاب کے نتیجہ میں دائیں بازو کی نیم فسطائی حکومتیں برسر اقتدار آئیں۔ تازہ خوش خبری یہ ہے کہ اقبال نے جس سورج کو دیکھنے اور اس حوالہ سے اپنے آپ کو جگانے اور اپنا شعور بلند رکھنے کی تلقین کی تھی، وہ اب ملائشیا کی سرزمین (یعنی ایک بار پھر مشرق سے ) طلوع ہو رہا ہے، جہاں برش نام سے ایک عوامی تحریک شروع ہوئی ہے۔

برش کا مطلب ہے صاف ستھرا۔ یہ برش نامی وسیع عوامی محاذ سینکڑوں غیر سرکاری تنظیموں نے مل کر بنایا ہے۔ مقصد صرف ایک ہے: موجودہ حکومت خصوصا وزیر اعظم نجیب رزاق کی رشوت ستانی، مالی بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف جہاد اور انتخابی اصلاحات کا نفاذ ( آج اور کل 29 اور 30 اگست ۔ یہ سطور 29 اگست کو لکھی جا رہی ہیں ) کو ملائشیا کے تین بڑے شہروں میں دو لاکھ افراد زبردست مظاہرے کریں گے۔ اتنے بڑے مظاہرے کہ وہ نہ صرف اس ملک میں کاخ امرا کے درودیوار ہلا دیں گے بلکہ انکی باز گشت دنیا بھر مین (خصوصا ہر مشرقی ملک میں ) سنی جائے گی۔ مظاہرین زرد رنگ کی جوٹی شرٹیں پہنیں گے وہ کئی دنوں سے ملائشیا کے طول و عرض میں دھڑا دھڑ فروخت ہو رہی ہے۔ تین سال قبل اس عوامی محاذ نے کوالالمپور میں بڑا مظاہرہ کیا تھا۔ پولیس نے حکومت کی ایما پر مظاہرین کو اشک آور گیس اور واٹر کینن یعنی آبی توپوں کے بےدریغ استعمال سے منتشر کرتے ہوئے پانچ سو پرامن مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔

موجودہ انتخابی نظام کے تحت ایک ہی سیاسی جماعت (UNNO) ساٹھ سالوں سے اقتدار پر قابض ہے۔ انتخابی اصلاحات کا مطالبہ ( جو پاکستان کے سیاق و سباق میں غالبا بدترین ہے) اپنی جگہ بڑا وزنی ہے۔ دو ماہ قبل امریکہ کے ایک معتبر اخبار وال سٹریٹ جرنل نے جب یہ خبر شائع کی کہ 700 ملین ڈالر کی خطیر رقم سوئس اور امریکی بینکوں تک جن ذرائع سے پہنچی ہے، انکے وزیر اعظم نجیب رزاق سے قریبی تعلق کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ اس خبر کی اشاعت پر نائب وزیر اعظم احتجاجا مستعفی ہو گئے۔

جیاتی گھوش دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں معاشیات کی پروفیسر ہیں۔ برطانیہ کے بڑے معتبر اخبار گارڈین میں معاشی موضوعات پر جب بھی مضمون لکیں اسے ہمیشہ نمایاں طور پر ادارتی صفحے پر شائع کیا جاتا ہے۔ 24 اگست کو بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ لکھتی ہیں کہ ترقی پذیر ملکوں کی معاشی ترقی کے سامنے ایک پتھریلی دیدوار ابھر آئی ہے، جس نے انکا آگے بڑھنا ناممکن بنا دیا ہے۔ انہوں نے برازیل ، بھارت اور ترکی چین اور تھائی لینڈ کی مثالیں دے کر اپنے موقف کو واضح کیا ہے۔ ( قابل ذکر بات ہے کہ انہوں نے اپنے پڑوسی ملک پاکستان کو نظر انداز کر دیا، حالانکہ اسکی معاشی حالت غالبا سب سے زیادہ تشویشناک ہے) ایک ماہ قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو 50 کروڑ کے قرض کی نویں قسط جاری کرتے وقت یہ خوش خبری بھی سنائی کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ جیاتی گھوش نے جن مندرجہ بالا ممالک کا خصوصی ذکر کیا وہاں سے ایک سال کے اندر سراسیمگی کے عالم میں فرار ہو جانے والے سرمائے کا کل حجم ایک ہزار ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ پچھلے سات سالوں میں چین کے قومی خزانہ پر قرض کا بوجھ چار گنا بڑھا۔ فاضل مصنفہ کی رائے میں قرض کی مے پینے والے وقتی طور پر جتنا عیش کر لیں، انکی مرضی، مگر (غالب کے برعکس) وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ایک دن انکی فاقہ مستی رنگ لائے گی۔

عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں چین کی شمولیت (جو ماؤزے تنگ کے زمانہ میں سوویت یونین پر سوشل سامراج جیسی گالیوں کی بارش کرتا تھا) سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ وہ بھی مداری کے تماشہ کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ لوٹ مار اور استحصال پر مبنی نظام کی دیوار کی ایک اینٹ بھی گرے تو ساری دیوار پر زلزلہ طاری ہو جاتا ہے۔ آپ میں سے جو لوگ میری طرح سرکس کے رسیا ہوں انہوں نے وہ تماشہ ضرور دیکھا ہوگ اکہ مداری کمال پھرتی سے ہوا مین پانچ ات بوتلیں اچھالتا اور پکڑتا ہے، لیکن جب ایک بوتل گر جائے تو باقی بھی ہاتھ نہیں آتیں۔

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں بے حد توجہ طلب انکشاف کیا گیا ہے کہ ہم جتنی قابل خوردنی خوراک ضائع کرتے ہیں، اگر اسکا صرف ایک چوتھائی بھی بچا لیں، تو دنیا سے بھوک کا نام و نشان مٹایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے ہر شہر میں ( بہت سے یورپی ممالک کے شہروں کی طرح) یہ انتظام ہونا چاہئے کہ گھروں میں یا ہوٹلوں میں ہر روز جتنی خوراک بچ جائے وہ اکٹھی کر کے ایک فوڈ بینک میں پہنچا دی جائے جو مستحقین میں مفت تقسیم کر دے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ارب 30 کروڑ من خوراک ہر سال ضائع کر دی جاتی ہے، جبکہ دنیا بھر میں ان لوگوں کی تعداد 79 کروڑ پچاس لاکھ ہے جو مستقل طور پر دو وقت کے کھانے کے ترستے رہتے ہیں۔ حکومت فرانس نے حال ہی میں ایک قانون نافذ کیا ہے جس کے مطابق ہر بڑا اسٹور ( مغربی اصطلاح میں سپر مارکیٹ ) فالتو اور نہ فروخت ہونے والی اشیائے خوردنی کو خیراتی ادارے کو دینے کا پابند ہوگا۔ ترقی یافتہ ملکوں میں خریدی جانے والی خوراک کا ایک تہائی اور ترقی پذیر میں گھریلو خواتین پانچ سے پندرہ فی صد تک پھینک دیتی ہیں، کیونکہ وہ انکی ضرورت سے زیادہ ہوتی ہے۔ کتنا اچھا ہو کہ پاکستان میں جناب عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر امجد ثاقب اور اس پایہ کی دوسری نامور اور قابل صد احترام شخصیات پاکستان کے شہروں میں فوڈ بینک بنائیں۔

آپ کو یہ سن کر شاید تعجب ہوگا کہ جنوبی یورپ کے ایک ملک رومانیہ میں بھی ایک گمنام بادشاہ دریافت ہوا ہے، جسکی عمر 94 سال ہے۔ وہ 84 سال پہلے صرف چودہ برس کی عمر میں رومانیہ کے تخت پر بیٹھا۔ 1944ء میں اس نے رومانیہ کے فاشی آمر Aritonesen سے اپنے ملک کے عوام کی جان چھڑانے میں کلیدی کردار ادا کیا، مگر اسے صرف تین سال بعد کمیونسٹ حکومت کے دباؤ کے تحت تاج و تخت سے دستبردار ہونا پڑا۔ وہ نصف صدی جلا وطن رہا۔ 1991ء مین اپنے ملک کی شہریت دوبارہ حاصل کی اور دس سال بعد اپنا کھویا ہوا تخت بھی۔ عمر 90 برس کی ہوتی تو بادشاہ نے پارلیمنٹ سے پہلی بار خطاب کیا۔ اپنی تقریر میں پانچ باتوں پر زور دیا۔
1 سیاسی نظام شفاف ہو۔
2 اسکی بنیاد احتساب پر ہو۔
3 رہنما چرب زبانی سے کام لے کر عوام کو بےوقوف نہ بنائیں۔
4 ذاتی یا گروہی مفاد کی بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں۔
5 حکومت پر کسی فرد یا گروپ کی مستقل اجارہ داری نہ ہو۔

پچھلے دنوں بادشاہ سلامت نے اپنے اس پوتے کا نام اپنے تخت کے ورثا سے نکال دیا، جو ایک بے فکر اور نڈر نوجوان ہے، خوش و خرم سائیکل پر ہر جگہ آزادانہ گھومتا ہوا۔ اس درویش منش کا نام ہے شہزادہ مائیکل۔ رومانیہ کے عوام کی آنکھ کا تارا ہے وہ شاہی محل سے پندرہ منٹ کے فاصلہ پر ایک ایسے عام محلہ مین رہتا ہے جو ایک ؓڑے شاندار پارک کے قریب ہے۔ پارک میں وہ ہر روز سائیکل چلاتا ہے اور اسکے ساتھ اسکا پالتو کتا بھی دوڑتا نظر آتا ہے
نگاہ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے

بہ شکریہ روزنامہ دنیا
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند