تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
گائو ماتا اور گائے کی قربانی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 2 ذوالحجہ 1436هـ - 16 ستمبر 2015م KSA 08:48 - GMT 05:48
گائو ماتا اور گائے کی قربانی

بھارت میں مسلمانوں کو عیدالاضحی پر بھی گائے ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہی دنوں میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ بھارت گائے کا گوشت برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ سب سے بڑی جمہوریت کا راگ الاپنے والے بھارت کے دوہرے معیار سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ گائے کاٹی جاتی ہے تو اس کا گوشت بنتا ہے، اسے معاشی فائدے کیلئے برآمد کیا جاتا ہے۔ اس کام میں کوئی بھارتی مسلمان شریک نہیں کیا جاتا ہو گا۔ وہ سارے ہندو ہوتے ہونگے۔ وہ اپنے خدا گائو ماتا کو بیچتے ہیں۔ خدا کی خرید و فروخت کرنے والے انسان ہوتے ہیں اور وہ ہر کہیں ہوتے ہیں۔

اب ہندوئوں میں ذاتی طور پر یہ باتیں اہم نہیں ہیں۔ میں ایک بار بھارت گیا، وہاں سب سے خوبصورت دل والا ہندو ہمارا دوست بن گیا۔ وہ کھلے دل کا آدمی تھا۔ وہ گوشت کھاتا تھا، کہنے لگا کہ میں مرغی کا گوشت کھاتا ہوں مگر کہتے ہیں بکرے کا گوشت بڑا مزیدار ہوتا ہے اور یہ بھی سنا ہے کہ گائے کا گوشت سب سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے، میں گوشت کھاتا ہوں مگر سبزی خور کہلاتا ہوں۔ سبزی پسند کرنے والے بھارت کے باہر بھی ہونگے مگر گوشت کی لذت کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اللہ نے انسان کو کسی لذت سے محروم نہیں رکھا مگر…؟ کبھی تو بھارت بھی اس لذت سے محروم نہیں رہے گا۔ ابھی یہ مسئلہ سیاسی اور انتقامی ہے۔ جب بات کسی حد تک غیر سیاسی ہو گی تو انتقامی بھی نہیں رہے گی۔ ابھی تو کوئی مسلمان بے دھیانے میں بھی گائے ذبح کر دے تو ایک ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کر دی جاتی ہے۔

دوسری طرف بھارت پوری دنیا میں گائے کا گوشت برآمد کرتا ہے۔ گوشت کی ترسیل کیلئے گائے کو ہلاک کرنا ضروری ہے۔ اگر ہندوئوں کو پتہ چل جائے کہ ذبح کرنے سے گائے کے گوشت میں لذت بڑھ جاتی ہے اور اس کے مضر صحت معاملات ختم ہو جاتے ہیں تو وہ گائے کو ذبح کرنے میں کوئی عذر نہیں۔

گائے کو ذبح کرنے کیلئے مسلمانوں کی خدمات درکار ہونگی۔ یہ کام بھی اختیار کر لیا جائے گا مگر مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھلانے کی اجازت پھر بھی نہیں ملے گی۔ ہندو خود بھی گائے کا گوشت نہیں کھاتے۔ ممکن ہے وہ چھپ چھپا کے کھا بھی لیتے ہوں۔ بھارت نے گذشتہ سال 2082 میٹرک ٹن گوشت برآمد کیا جبکہ دوسرے نمبر پر برازیل نے 1909 میٹرک ٹن گوشت برآمد کیا۔ اس میں راز یہ ہے کہ ہندو گائے کا گوشت نہیں کھاتے۔ یہ سارا گوشت باہر بھیج دیا جاتا ہے۔ اپنے ملک کے مسلمانوں کیلئے یہ گوشت بند ہے مگر باہر کوئی مسلمان بھی یہ گوشت کھا لے تو کوئی مضائقہ نہیں!
بقر عید پر یہ پابندی مسلمانوں پر سے ہٹا لی جائے تو یہ ایک جمہوری عمل ہو گا۔ ساری دنیا میں اس کیلئے واہ واہ ہو گی۔ اب تو ہندو ایک انتہا پسند مخلوق سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مقابلے میں دہشت گرد بھی اتنے انتہا پسند نہیں ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں دلیر خاتون حریت لیڈر آسیہ اندرابی ہندوئوں کو شرمندہ کرتی رہتی ہیں۔ آسیہ نے دوسری مسلمان عورتوں کے ساتھ مل کر کھلے عام گائے ذبح کی اور بھارتی حکومت کے منہ پر کالک مل دی۔ ساری دنیا میں اس واقعے کا چرچا ہوا۔ پاکستان میں بھی اس بقر عید کے موقع پر گائے کی قربانی دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے خلاف کئی لوگوں نے مظاہرے کئے ہیں تو اگر یہ پابندی پاکستان میں بھی لگی ہے تو بھارت اور پاکستان ایک ہی صف میں آ گئے ہیں۔ پاکستان میں اس پابندی کیلئے وجوہات کچھ اور ہونگی، گائے کی کم ہوتی ہوئی تعداد کیلئے یہ اقدام کیا گیا ہو گا مگر اس طرح کا اطلاق اور لوگوں کے مظاہرے کچھ اور ہی غلط فہمی پیدا کرتے ہیں۔

حکومت جس طرح بھارت دوستی کے خمار میں مبتلا ہے تو اس میں صورتحال مشکوک ہو گئی ہے۔ اس بار 14 اگست اور چھ ستمبر جس جوش اور جذبے کے ساتھ منایا گیا تو بھارت دوستی کے غبارے سے ہوا نکلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، کشمیر کے حوالے سے واضح موقف اختیار کر کے بھارت کو پریشان کر دیا گیا مگر بھارت اس طرح کے اقدامات سے پھر کسی خوش فہمی میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ خوش فہمی غلط فہمی سے بھی بڑی ہوتی ہے مگر وزیراعظم مودی کی مکاریاں اور عیاریاں کوئی اور طرح کا رنگ نہ لے آئیں۔

گائے کی نسل کے فروغ کیلئے اس کے علاوہ بھی کئی اقدامات ہو سکتے ہیں۔ ان کی طرف حکومت کو توجہ دینا چاہئے۔ ویسے بھی قربانی دینے والے جانور کبھی کم نہیں ہوتے۔ اس جہان میں چڑیا ہمیشہ زیادہ ہوتی رہی ہیں۔ وہ عقاب کا نشانہ بھی بنتی ہیں مگر وہ کم نہیں ہوتیں، عقاب کی نسل کم سے کم تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ بقر عید کے موقع پر اتنے زیادہ بکرے، دنبے، گائے اور بیل دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ قربانی سے بات آگے بڑھتی ہے۔ مجھے اس شعر کا پہلا مصرعہ ٹھیک طرح سے یاد نہیں ہے مگر دوسرا مصرعہ

کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے

میں نے بھارت میں گائے کو مرتے دیکھا ہے، اس کا سوچ کر ہی نیند اڑ جاتی ہے۔ اتنی اذیت ناک موت کا تصور ہی اذیت ناک ہے۔ میرے گائوں کے ایک بزرگ ہر نماز کے بعد دعا مانگتے تھے اے اللہ! مجھے سوہنی موت دینا۔ میں سوچتا تھا کہ موت بھی سوہنی ہو سکتی ہے اور سوہنی موت کیا ہوتی ہے۔ دشمنوں کے ساتھ ایک مقابلے میں اسے گولی لگی اور وہ موقع پر ہی فوراً مر گیا۔ اس سے پہلے اس نے دو آدمیوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا تو گائے کو ذبح کرنا ایک خوبصورت عمل ہے، ہندو خوبصورتی کے کیوں دشمن ہیں!

--------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند