تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بن لادن اور سانحہ حرم شریف....!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 3 ذوالحجہ 1436هـ - 17 ستمبر 2015م KSA 11:06 - GMT 08:06
بن لادن اور سانحہ حرم شریف....!

گیارہ ستمبر سانحہ نیویارک ہو یا سانحہ حرم مکہ، بن لادن مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ ”بن لادن کنسٹرکشن کمپنی“ اسامہ بن لادن کا خاندانی کاروبار ہے۔ بن لادن کمپنی 1931ء میں بنائی گئی۔ اس کا بانی شیخ محمد بن لادن تھا۔ بن لادن گروپ دنیا کی دوسری بڑی تعمیراتی کمپنی ہے۔ اس کا ہیڈکواٹر جدہ میں ہے۔ سعودی بن لادن گروپ نے حال ہی میں 1.23 بلین ڈالر کا جدہ میں ”کنگڈم ٹاور“ منصوبہ شروع کر رکھا ہے جبکہ 3.4 بلین ڈالر میں دوحہ میں ”دوحہ میٹرو“ منصوبہ پر کام کر رہے ہیں۔ حرم مکہ کی توسیع کا ٹھیکہ بھی بن لادن کنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا ہے۔ کمپنی کے بانی محمد بن لادن کے بانی سعودی ریاست عبدالعزیز السعود سے خاندانی تعلق کے باعث سعودی عرب کے تمام بڑے تعمیراتی منصوبے بن لادن کے پاس ہیں۔ مکہ و مدینہ اور ان سے متعلقہ تمام تعمیراتی منصوبے بن لادن گروپ کے سپرد تھے۔

بن لادن کے بانی محمد بن لادن کی 22 بیویاں اور 53 بچے ہیں، اسامہ بن لادن بھی ان کی اولاد میں سے ہے۔ اسامہ بن لادن نے القاعدہ تنظیم کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم نے امریکہ مخالف جذبات کا اظہار مختلف طریقوں سے کیا لیکن یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے القاعدہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔ روس کے خلاف جنگ میں امریکہ کی اتحادی تنظیم القاعدہ کو جب مجاہدین سے دہشت گرد قرار دیا گیا تو نیویارک حملوں کے بعد اسامہ نے ٹیپ جاری کر دی اور حملوں کی ذمہ داری قبول کرکے القاعدہ کو دنیا میں ایک دہشت گرد تنظیم ثابت کر دیا۔ گیارہ ستمبر نیویارک واقعہ کے بعد سعودی حکومت نے اسامہ بن لادن سے لا تعلقی ظاہر کر دی اور بن لادن خاندان نے بھی اپنے فرزند سے تعلق ختم کر دیا۔ بن لادن خاندان پر ایک افتاد گیارہ ستمبر نیویارک حملوں کے بعد ٹوٹی اور دوسری افتاد حالیہ گیارہ ستمبر حرم مکہ میں کرین گرنے سے آئی ہے۔

سعودی تحقیقات کے مطابق حرم کا سانحہ کسی مجرمانہ نیت کا نتیجہ نہیں، شدید بارش اور طوفان کے باعث کرین کے حفاظتی انتظام ناقص ہونے کی وجہ سے المناک واقعہ پیش آیا۔ شاہی عدالت نے بن لادن گروپ کو مسجد الحرام کے تعمیراتی منصوبوں کے مزید پراجیکٹس نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں 27 ارب ڈالر کے توسیعی منصوبے پر بن لادن گروپ کام کر رہا تھا، وہ بھی روک دیئے گئے ہیں۔ بن لادن گروپ کو اب سعودی عرب کے دیگر منصوبے بھی نہیں دیئے جائیں گے۔ اس گروپ کے ارکان پر سفری پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ پابندی حر م شریف سانحہ کی تحقیقات مکمل ہونے تک برقرار رہے گی۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سانحہ حرم شریف کے شہیدوںکے لواحقین کو ایک ملین سعودی ریال جودو لاکھ ستر ہزار ڈالر بنتے ہیں فی کس دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ ہر زخمی کو پانچ لاکھ ریال دیا جائے گا۔ شاہ سلمان نے فیصلہ کیا ہے کہ سانحہ حرم شریف میں شہیدوں کے لواحقین میں سے دو افراد کو حج 2016ء کے لئے مدعو کیا جائے گا۔ یہ افراد شاہی حکومت کے مہمان بن کر حج کے فرائض ادا کریں گے۔ شہیدوں کو مکہ معظمہ جنت البقیع کے قبرستان میں میں دفن کیا جا رہا ہے۔ حرمین شریفین امور کے سربراہ اور امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس نے زخمیوں کی عیادت کے دوران کہا کہ شہید عازمین کے عوض حج ادا کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔

امیر مکہ شہزادہ خالد الفیصل نے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ زخمی عازمین کے لئے بھی فریضہ حج کی ادائیگی کا بندوبست کریں۔ شہداءحرم میں گیارہ پاکستانی عازمین بھی شامل ہیں۔ حکومت پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ شہداءکے لواحقین سے تعزیت اور امدادی معاوضہ کا اعلان کرے۔ بھارت کی حکومت آندھرا پردیش نے اپنے تین شہری شہداء حرم کو فی کس تین لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے اور یہ رقم ان کے یتیم بچوں کے نام پر ڈیپازٹ کرائی جا ئے گی تا کہ حصول تعلیم میں کام آسکے۔ سعودی حکومت نے بن لادن گروپ کے بارے میں اہم فیصلہ دیا ہے اور شہداءاور زخمیوں کے لئے بھی قابل تحسین اعلانات کیئے ہیں۔ موت کا وقت معین ہے اور اللہ کے گھر میں موت خوش نصیبی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شہیدوں کے خاندانوں کو مالی معاوضہ اور حج بدل کے مواقع اور شاہی سہولیات ایسے اعلانات سے مسلمانوں کے دلوں کو سکون محسوس ہوا ہے۔

گیارہ ستمبر 2015ء سانحہ حرم مکہ ایک عجیب سانحہ تھا۔ اس سے بھی عجیب یہ کہ گیارہ ستمبر کو دو المناک سانحات پیش آئے اور دونوں واقعات میں بن لادن کا نام ملوث پایا گیا۔ دنیا کی دوسری امیر ترین تعمیراتی کمپنی سعودی عدالت کے فیصلے کے بعد بظاہر آزمائش میں گرفتار معلوم ہوتی ہے مگر فیصلے کی حقیقت آنے والا وقت ثابت کرے گا۔ معاملہ ٹھنڈا ہو جائے تو بن لادن کو نظرانداز کرنے کا امکان ہے کہ سعودی خاندان اور بن لادن خاندان کی سانجھی شراکت داری ہے۔ شاہ سلمان کو چاہئے کہ عمرہ پیکج سسٹم کے نظام کی جانب بھی توجہ دیں۔

زائرین عمرہ کو ہوٹل پیکج کی پابندی سے آزاد کیا جائے تا کہ لوگ اپنی حیثیت کے مطابق رہائش گاہ کا بندوبست کر سکیں۔ کئی عازمین و زائرین حرم کے مکہ و مدینہ میں عزیز و اقارب اور دوست احباب مقیم ہوتے ہیں، مفت قیام کا بندوبست میسر آ جائے تو مالی بوجھ سے ریلیف مل سکتا ہے مگر ہوٹل پیکج کی بندش نے زائرین کو اپنی استعداد سے زیادہ رقم ادا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آل سعود کو زائرین حجاز مقدس کی مجبوریوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہر مسلمان امیر نہیں ہوتا، اللہ کا گھر غریبوں کے لئے بھی ہے بلکہ غرباء زیادہ تڑپ رکھتے ہیں۔ سانحہ حرم شریف کے پس پشت خدا کے غضب کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔ بن لادن ہی نہیں حج منسٹری کے نظام کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ خداکے غضب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی کب تک پردہ پوشی کریںگے ۔ سانحہ حرم پاک نے مسلمانوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے مگر ان میں اہل بصیرت بہت کم ہیں۔
------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند