تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
احمد! ہم تمھارے ساتھ ہیں ۔۔۔!!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 4 ذوالحجہ 1436هـ - 18 ستمبر 2015م KSA 09:51 - GMT 06:51
احمد! ہم تمھارے ساتھ ہیں ۔۔۔!!

احمد محمود چودہ سالہ مسلمان ریاست ٹیکساس کے ایک سکول میں نویں جماعت کا طالب علم ہے۔ انتہائی ذہین بچے کو کم عمری میں ہی سائنس میں کمال دکھانے کا شوق پیدا ہو گیا اور اپنے کمرے میں بیٹھ کر چھوٹی موٹی ایجادات میں مصروف رہتا ہے مگر احمد محمود کو معلوم نہ تھا کہ ایک دن اس کی یہ ذہانت اسکے لیے امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ سانولی رنگت او ر چشمہ پہنے معصوم چہرے والے احمد کو ہتھکڑیوں کی تصویر میں دیکھ کردل بیٹھ گیا لیکن جب اس تلخ حقیقت کا خوشگوار نتیجہ دیکھا تو احمد کے مسلمان ہونے پر فخر ہوا۔ احمد نے گھریلو ساخت کی ڈیجٹل گھڑی بنائی تھی جسے وہ اپنی ٹیچر کو دکھانے کا مشتاق تھا۔ اس نے سوچا سکول جا کر ٹیچر کو دکھائے گا تو وہ خوش ہو گی اور احمد کی ذہانت کو داد دے گی مگر ٹیچر نے گھڑی کو بم خیال کرتے ہوئے سکول کی پرنسل کو اطلاع کر دی ،فوری طور پر پولیس بلا لی گئی اور کم عمر معصوم احمد کو ہتھکڑیاں پہنا کر تفتیش کے لیے تھانے لے گئی۔ احمد اس غیر متوقع صورتحال پر پریشان ہو گیا۔ تفتیش پر ثابت ہو ا کہ وہ چیز گھڑی تھی بم نہیں تو احمد کو چھوڑ دیا گیا۔ اس واقعہ نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان بپا کر دیا۔

احمد سے ہمدردی کرنے والوں نے سماجی میڈیا پر ’’احمد ! ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ کی مہم کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دیا۔ پوری دنیا میں ہل چل مچ گئی۔ معصوم اور بے قصور بچے کی ایجاد کوبم سمجھنے والو کے خلاف پروپیگنڈہ کی بازگشت وائٹ ہائوس تک بھی پہنچ گئی اور صدر اوباما نے اپنی ایک ٹویٹ میں احمد کو پیغام میں لکھا ’’احمد میں اس بہترین گھڑی کو وائٹ ہائوس میں لانا چاہتا ہوں۔ ہمیں چاہئے کہ آپ جیسے بچے جو سائنس کو پسند کرتے ہیں ،ان کی حوصلہ افزائی کی جائے کیوں کہ یہی امریکہ کو عظیم بنائے گا ‘‘۔

سکول سے معطل اور گرفتار ہونے والے نویں جماعت کے ہونہار طالب علم احمد محمود کو صدر اوباما نے وائٹ ہائوس مدعو کیا ہے۔ صدر اوباما نے سماجی ویب سائٹ پر احمد کی حوصلہ افزائی سے عوامی درجہ حرارت کو نارمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ سکول ٹیچر کے موقف کے مطابق انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ جہاں کوئی مشکوک چیز یا شخص نظر آئے فوری پولیس کو اطلاع کی جائے اور ہم بچوں کو بھی یہ سکھاتے ہیں۔ احمد کے واقعہ کومسلم کمیونٹی تعصبانہ فعل قرار دے رہی ہے جبکہ احمد کے والد محمد احسان جو کہ سوڈان سے امریکہ آئے ہیں کا بھی یہ کہنا ہے کہ یہ واقعہ ان کے بچے کے نام کی وجہ سے پیش آیا ہے۔

احمد محمود کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ذاتی ریڈیو بھی بنا چکا ہے اور گھر کی خراب الیکٹرانک چیزوں کو خود ٹھیک کر لیتا ہے۔ ایک ہونہار طالب علم ہے۔ احمد نے سکرین پر آکر مسکراتے ہوئے پیغام دیا کہ اس کی محنت کو دھمکی سمجھا گیا اور معاملہ غلط فہمی کا شکار ہو گیا۔ وہ ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا خواہشمند ہے تاکہ وہ سائنسدان بن سکے۔ احمد محمود کی حمایت کرنے والوں میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ تعلیم اور بچوں کے حقوق کے معاملہ میں امریکہ فراخ دل ملک ہے۔ تعلیم کے فروغ کے لیئے صدر اوباما نے مثبت اقدامات اٹھائے ہیں اور مسلم کمیونٹی کی صلاحیتوں اور قابلیت کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے۔ احمد کے ایشو نے امریکی قوم کو اپ سیٹ کیا اور صدر کو بھی اس معاملہ کا نوٹس لینے پر مجبور کر دیا۔ گو کہ کچھ مسلم تنظیمیں سکول انتظامیہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی حامی ہیں مگر احمد محمود کی توجہ اپنے مستقبل پر مرکوز ہے۔

امریکہ کے سرکاری سکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچے اس ملک کے نامور شخصیات کی فہرست میں شامل ہیں۔ اس ملک کے صدور اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز اکثریت کا تعلق غریب گھرانوں اور سرکاری سکولوں سے ہے۔ چونکہ سرکاری سکول معیاری ہوتے ہیں لہذا محنتی طلبہ روشن مستقبل حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور دوسری جانب پاکستان کے سکولوں کے حالات دیکھیں تو بچوں کے مستقبل تاریک دکھائی دیتے ہیں ۔سرکاری سکولوں کو معیاری بنانے کی جانب توجہ دی گئی ہوتی تو نجی سکولوں کو لوٹ مار کا موقع نہ ملتا۔ والدین لاکھوں روپیہ خرچ کر کے بھی اپنے بچوں کو کسی اعلیٰ مقام تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔

پاکستان میں نجی سکولوں کا بزنس بلیک میلنگ کا کاروبار ہے۔ نجی سکولوں نے فیس میں شرمناک اضافہ کر کے والدین اور بچوں کو تشویشناک صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ حکومت کس منہ سے اس ایشو کو حل کر سکتی ہے کہ سرکاری سکول معیاری ہوتے تو لوگ نجی سکولوں کے دھکے نہ کھا تے۔ غریب انسان بھی اپنے بچے کو معیاری تعلیم دلانے کا خواہشمند ہے اور اسے اس خواہش سے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔ سب کے لیے اس کے بچے بلاول ،مریم اور حمزہ ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے سرکاری سکولوں میں بہتری لانے کی کوشش کی ہے مگر تعلیمی معیار بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سفید پوش طبقہ نجی سکولوں کی فیسوں سے آزاد ہو سکے۔

مغرب میں چونکہ ہائی سکول کی تعلیم مفت اور معیاری ہوتی ہے لہذا تارکین وطن چند سالوں کا سوچ کرمغرب آتے ہیں لیکن اولاد کی تعلیم کی خاطر یہیں کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ پاکستان کے نجی سکولوں کے مالی اخراجات ہر کسی کے بس کی بات نہیں، ان حالات میں جس کو موقع ملتا ہے مغربی ملکوں کی طرف بھاگتا ہے۔ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے بچوں کے ساتھ احمد محمود ایسے واقعات پیش آجائیں تو اس کا عوامی رد عمل بھی حوصلہ افزا ہوتا ہے۔تعلیم اور بچوں کے مستقبل کے معاملہ میں مغربی اقوام کھلا ذہن رکھتی ہیں۔ ’’احمد! ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ کی بازگشت اس حقیقت کا ثبوت ہے۔
-------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند