تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سانحہ حرام اور کرین کے حادثات!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 4 ذوالحجہ 1436هـ - 18 ستمبر 2015م KSA 09:53 - GMT 06:53
سانحہ حرام اور کرین کے حادثات!

ستائیس ذی القعدہ 11 ستمبر بروز جمعہ سعودی عرب کے معیاری وقت کے مطابق شام پانچ بج کر سترہ منٹ پر مسجد حرام کے مشرقی حصے میں نصب 60 میٹر بلند اور 65 ٹن وزنی کرین خوفناک آندھی کے باعث ٹوٹ کر مسجد کی تیسری منزل پر آ گری جس کے نتیجے میں مسجد حرام کی بالائی منزل ٹوٹ گئی اوراس کا ملبہ نمازیوں اورعازمین حج کے سروں پر آ گرا۔ اس سانحے میں کم سے کم 111 نمازی شہید اور 238 زخمی ہوئے۔ سر زمین حرم کے حادثات میں 'کرین حادثہ' بلا شبہ اپنی نوعیت کا نہایت ہی المناک واقعہ ہے۔ اس ناگہانی آفت کے باعث حجاج اور نمازیوں کی شہادتوں اور بڑی تعداد کے زخمی ہونے کے واقعے نے پوری مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ مگر قدرت کے ساتھ کسی کا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے!

سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے سانحے کی ابتدائی رپورٹ جاری کی جا چکی ہے جس میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ کرین سانحہ کسی شخص یا گروپ کی منظم، منصوبہ بند سازش اور مجرمانہ غفلت ہر گز نہیں تھی، تاہم اس میں متعلقہ تعمیراتی کمپنی [بن لادن کمپنی] کے ماہرین اور منتظمین کی کوتاہی کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرین کی تنصیب ایک غلط جگہ پر کی گئی تھی جو آندھی کی وجہ سے ٹوٹ کر مسجد حرام کے اوپر آ گری اور جان لیوا ثابت ہوئی۔ واقعے کی مزید تحقیقات کے لیے بن لادن کمپنی کو عارضی طور پر کام سے روک دیا گیا ہے اور کمپنی کے مدارالمہام کارندوں کے بیرون ملک جانے پر بھی پابندی عاید کی گئی ہے۔

بن لادن کمپنی سعودی عرب میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ ملک کی تعمیرو ترقی میں اس فرم کا کلیدی کردار سمجھا جاتا ہے اور شاہی نوعیت کے تعمیراتی ٹھیکے عموما اسی کمپنی کو ملتے رہے ہیں۔ کرین حادثے کے وقت بھی اس کمپنی کے پاس 300 سے زائد بڑے تعمیراتی منصوبے رو بہ عمل تھے۔ تاہم کرین سانحہ کے بعد کمپنی کی 'ساکھ' کو نقصان ضرور پہنچا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے حادثے کے متاثرین کے ساتھ بھرپور ہمدردی، غم گساری اور مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ حادثے کے شہیداء کے ورثاء کے لیے 10 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ ریال معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ رقم سعودی عرب میں 'قتل خطاء' کی دیت کے برابر ہے۔

گویا سعودی حکومت نے حادثے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے ورثاء کے ساتھ قتل خطاء کی دیت کے طور پر معاملہ کرنے کا طریقہ اپنایا ہے۔ شہید ہونے والوں کے خاندانوں کے دو دو افراد کو اسی سال سرکاری خرچے پر حج کرانے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں زیرعلاج حادثے کے غیرملکی زخمیوں کے اقارب کے لیے فوری ویزے جاری کرنے کا بھی حکم جاری ہو چکا ہے۔ کئی زخمیوں کے اقارب کو ویزے جاری بھی کر دیے گئے ہیں۔ یوں سعودی حکومت نے شہداء اور زخمیوں کے لواحقین کی تسلی کے لیے توقع سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی ہے، جس پراس کی بجا طور پر تحسین کی جانی چاہیے۔

مسجد حرام میں پیش آنے والے'کرین سانحے' کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ سیاسی اختلافات کے منہ زور گھوڑے کے بعض شہسوار اسے دانستہ سازش سے بھی تعبیر کرتے ہیں مگر پورے مکہ مکرمہ میں چلنے والی خوفناک آندھی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کرین حادثے میں کوئی انسانی ہاتھ عمدا ملوث نہیں ہوسکتا۔ حادثے کے وقت مکہ مکرمہ میں قیامتِ صُغریٰ برپا تھی۔ آندھی اس قدر شدید تھی کی لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے، دھاڑیں مارمار کر روتے چلاتے اور دیوانہ وار ادھرادھر بھاگتے دکھائی دے رہے تھے۔ سڑکوں پر چلنے والوں کو آندھی کے تھپیڑے اٹھا اٹھا کرزمین پر پٹختے۔ ایسے میں زمین سے کئی فٹ بلندی پر کھڑی کرین کا ٹوٹ کر گرنا کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔

علماء اس حادثے کا ایک اخلاقی پہلو بھی بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ یہ حادثہ حرم کی حدود میں کسی انسان سے ہونے والی خطاء کا نتیجہ ہو۔ چونکہ حرم میں جہاں عبادت وریاضت کا اجرو ثواب عام مقامات کی عبادت کی نسبت لاکھوں گنا زیادہ ہے۔ وہیں اس مقدس مقام پر ہونے والی معمولی لغزش بھی ناقابل معافی اورفوری پکڑ کا موجب بن سکتی ہے۔

اس حوالے سے صفا اور مروہ کے بارے میں ایک ضعیف روایت کو اخلاقیات کے باب میں بکثرت ذکر کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق صفا ایک شخص [مرد] اور مروہ عورت تھی۔ ان سے بھی وہاں پر کوئی ایسی لغزش سرزد ہوئی جس پر اللہ نے سزا کے طور پر اُنہیں پہاڑوں میں تبدیل کر دیا۔ گوکہ اس روایت پر بہت سے اعتراضات بھی وارد ہوئے ہیں مگر اخلاقی تعلیمات کے حوالے سے اس کا ذکر اس لیے ملتا ہے کہ حرم کی سرزمین میں معمولی لغزش بھی ناقابل معافی اور فوری پکڑ کا موجب ہواتی ہے۔

حرم کی حدود میں کسی انسان کا قتل درکنار، کسی پرندے کا شکار بھی جائز نہیں سمجھا جاتا۔ بعض فقہا مچھر مارنے کو بھی حرم کے تقدس کے خلاف قرار دیتے ہیں اور اس پر بھی قربانی دینا لازمی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کرین سانحہ کو کسی انسانی غلطی کا خمیازہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ علماء کے اس گمان کو سامنے رکھیں تو ماضی میں حرم کی حدود میں ہونے والے تمام چھوٹے بڑے حادثات کو کسی انسانی غلطی کا شاخسانہ قرار دیا جائے گا؟ اس حوالے سے سامنے آنے والی آراء میں تشنگی کا پہلو بھی موجود ہے، جسے دور کیے جانے کی اشد ضرورت ہے۔

ذکر چند کرین حادثات کا

سعودی عرب میں المناک کرین حادثے کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ اب تک ہونے والے کرین کے حادثات کی جانب مبذول ہوئی تو حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ کرینوں کے حادثے کے نتیجے میں اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی تصدیق تو نہیں ہوئی مگر پچھلے چند برسوں کے دوران ایسے سیکڑوں واقعات سامنے آچکے ہیں۔ سانحہ حرم کے تناظر میں رواں سال پیش آنے والے بعض واقعات کو پیش کرنا اس لیے بھی مناسب ہے کہ ایسے واقعات ناممکنات میں سے نہیں اور ضروری نہیں کہ ایسا کوئی واقعہ کسی سازش کا نتیجہ ہو۔ 11 جولائی 2015ء کو امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک کرین 60 ٹن وزنی مشین ان لوڈ کرتے ہوئے ٹوٹ گئی تھی جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے تھے۔

تین اگست کو نیدرلینڈ ایک پل کو اٹھاتے ہوئے کرین ایک مکان پرآ گری تھیں جس کے نتیجے میں عمارت زمین بوس ہو گئی تھی۔ 7 اگست کو ایک بڑی کرین آسٹریلیا کے ملبورن شہرمیں زیر تعمیر عمارت پر آ گری تھی، جس کےباعث عمارت کا ایک حصہ زمین بوس ہو گیا تھا۔ اس کے تین روز بعد کینیڈا کے ایک چرچ میں رکھا 150 سالہ پرانا لکڑی کا مینار باہر نکالنے کے بعد ایک کرین گرائونڈ میں گر پڑی جس کے نتیجے میں بجلی کی سپلائن لائن کٹ گئی تھی۔24 اگست کو جرمنی میں ایک تعمیراتی کرین ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔ کرین کے جرمنی میں ہونے والے حادثے کے بعد مسجد حرام میں کرین کا سب سے ہولناک سانحہ رونما ہوا جس میں دسیوں نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔

-------------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند