تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
’’ڈسکو‘‘ رسمِ قل !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 5 ذوالحجہ 1436هـ - 19 ستمبر 2015م KSA 11:56 - GMT 08:56
’’ڈسکو‘‘ رسمِ قل !

پاکستان میں ایک نسل ’’کاشت ‘‘ کی گئی ۔بلکہ دنیا کے سبھی مغلوب ملکوں میں اس کی ’’شاخیں‘‘ موجود ہیں چنانچہ غالب ملکوں کو اپنی پالیسیوں کے نفاذ کے لئے کچھ زیادہ زحمت نہیں اٹھانا پڑتی۔ان کی ہر ادا پہ فریفتہ یہ نسلیں اقلیت میں ہونے کے باوجود اکثریت پر حکومت کرتی ہیں اور دنیا کے تمام مغلوب ملکوں میں اسی نسل کے افراد پالیسی ساز ہوتے ہیں جہاں نہ ہوں وہاں حکومت کا تختہ الٹ جاتا ہے اور اسی ’’خود کاشتہ ‘‘ پودے کو تخت پر بٹھا کر اپنی مرضی کی پالیسیاں نافذ کر دی جاتی ہیں ۔ اس نسل کے افراد کے ’’ریفریشر کورس‘‘ کیلئے غالب ملکوں نے اپنے ہاں متعدد سکالر شپس رکھے ہوئے ہیں چنانچہ چند ماہ کے ’’تربیتی کورس‘‘ مکمل کر کے جب یہی مغلوب لوگ وطن واپس آتے ہیں تو ’’مذہبی جوش وخروش‘‘ کیساتھ دوبارہ ’’فرائض منصبی‘‘ انجام دینے لگتے ہیں !

ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی یہ کلاس جنم لے چکی ہے جس طرح ہمارے ہاں کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں اس کلاس کے افراد زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح بھارت کے جن شہروں میں ان کی بہتات ہے ان میں بمبئی، کلکتہ اور دہلی وغیرہ شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نسل کے افراد جب خیر سگالی کے دورے پر انڈیا جاتے ہیں تو ان کے ’’ہم نسل‘‘ واہگہ سے لیکر کلکتہ تک انکا پرتپاک استقبال کرتے ہیں۔ یہ لوگ جتنے دن بھارت کے شہروں میں گزارتے ہیں ،یہ ان کی زندگی کے بہترین دن ہوتے ہیں کہ وہاں انہیں لمبے بال، ٹنڈیں، گیٹس والی پتلونیں، پائپ، جام اور ملگجی داڑھیاں زیادہ RELAXED ماحول میں نظر آتی ہیں، اگرچہ یہ دن ان کی زندگی کے بہترین دن ہوتے ہیں مگر یہ دن برسوں پر محیط نہیں ہوتے، انہیں واپس اس ’’ناکام ریاست‘‘ میں آنا ہی پڑتا ہے جہاں ان کی بادشاہیاں قائم ہیں۔ یہ کیسی ناکام ریاست ہے کہ جس کی حدود کے باہر قدم رکھتے ہی ان لوگوں کی ناکامیوں کا آغاز ہو جاتا ہے؟

میں نے اس طبقے کے شاعروں، ادیبوں اور گلوکاروں کو بھی جن کی تعداد اگرچہ دو ہاتھوں کی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں، قدرے قریب سے دیکھا ہے ان کے گیتوں، ڈراموں اور کہانیوں میں وہ مسائل نظر آتے ہیں جو مغربی ملکوں میں صنعتی ترقی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں مگر وہ انہیں پاکستانی عوام کے مسائل سمجھ کر بیان کرتے ہیں جبکہ ہمارا ملک ابھی صنعتی دور میں داخل ہی نہیں ہوا ۔ یہ لوگ اگر اپنی اردو کہانیاں، ڈرامے اور گیت انگریزی میں ترجمے کے لئے دیں تو اس معذرت کے ساتھ واپس ہو جائیں کہ یہ تو پہلے ہی انگریزی سے ترجمہ شدہ ہیں ۔

اس نسل کے مردوں کے علاوہ خواتین بلکہ لیڈیز بلکہ BABES یا CHICKS کا ذکر بھی کروں گا ۔مگر یہ بہت مشکل کام ہے کہ اس میں کچھ نازک مقام بھی آتے ہیں اس طبقے کی خواتین مردوں سے زیادہ اندرونی کرب کا شکار رہتی ہیں ۔ جب مشرقی گھر میں مغرب کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے تو پھر اسکے نتائج بھی وہی برآمد ہوتے ہیں جن نتائج سے آج مغرب دوچار ہے ۔ یہ طبقہ ایک سے زیادہ شادیوں کا مخالف ہے جبکہ ’’مولوی‘‘ اس کے حق میں ہے ۔ یہ دوسری شادی کے مخالف ہونے کے باوجود ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں اور بیچارے ’’مولوی‘‘ کے حصے میں ایک سے زیادہ شادیوں کی صرف حمایت ہی آتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس طبقے میں طلاقوں اور تعداد از دواج کی شرح عام پاکستانیوں سے کہیں زیادہ ہے، جس کی زد میں ان کے وہ بچے آتے ہیں جو خاندانی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں ان مسائل کا شکار ہوتے ہیں جن کی زد میں آیا ہوا مغرب اپنی تمام تر ترقی کے باوجود کراہتا نظر آتا ہے !

اس طبقے کی خواتین اندرونی زیبائش (INTERIOR DECORATION) اور بوتیک کے کاروبار میں زیادہ ہیں ۔ پریذیڈنٹ ہائوس اور پرائم منسٹر ہائوس سے لیکر کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ہائوس تک کی اندرونی آرائش و بیرونی زیبائش کے ٹھیکے اور پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ریاستی مہمانوں کے اعزاز میں منعقد ہونے والے ثقافتی شوز کے کاروبار بھی اسی طبقے میں تقسیم ہوتے ہیں اور کروڑوں روپوں کا یہ کھیل پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور فوجی حکومتوں میں یکساں طور پر جاری رہتا ہے کہ تبدیلی تو صرف اوپر اوپر آتی ہے، اصل حکومت تو انہی کے پاس رہتی ہے ! یہ کلچر اور آرٹ کے فروغ کے نام پر ’’دہاڑیاں‘‘ لگانے والے لوگ ہیں، اسکے علاوہ اور کچھ نہیں !

میں گزشتہ ہفتے ایک اسی نسل کے دوست کے والد کے انتقال پر تعزیت کیلئے اس کے گھر گیا۔وہاں ملگجی داڑھیوں والے لوگ کرسیوں پر بیٹھے پائپ پی رہے تھے، میرے دوست نے آرکسٹرا کا انتظام کیا ہوا تھا ۔جو غمگین دھنیں فضاء میں بکھیر رہا تھا، اس روز گرمی کچھ زیادہ تھی، چنانچہ باوردی ویٹر مہمانوں کو چلڈ (CHILLED) بیئر میں پیش کر رہے تھے۔ میرا جی چاہا کہ میں کوئی درد انگیز انگریزی گانا گا کر تعزیت کو ایک اور نیا رنگ دوں، مگر گلے کی خرابی کی وجہ سے اپنی یہ خواہش پوری نہ کر سکا۔ میں نے اپنی زندگی میں یہ پہلا قل دیکھا۔ جسے ’’ڈسکو قل‘‘ ہی کہا جا سکتا تھا۔ -
-----------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند