تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
انسانی حقوق کی پاسداری اورپامالی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 6 ذوالحجہ 1436هـ - 20 ستمبر 2015م KSA 08:40 - GMT 05:40
انسانی حقوق کی پاسداری اورپامالی

پاکستان سینٹ کی سیٹنڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا گیا ہے کہ پاک بازوں کی سرزمین پاکستان میں انسانی حقوق کی بے حرمتی کی وارداتوں میں حالیہ سالوں میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جیسے جیسے ملک کی آبادی غربت کی آخری لکیر سے نیچے اترتی جارہی ہے ویسے ویسے ہی انسانی حقوق کی پامالی کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے، گویا غربت کی لکیر کی بجائے انسانیت کی لکیر سے نیچے غرق ہورہے ہیں۔

پاکستان کے ایوان بالا کی کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ سال2011ء سے جون 2015ء تک کے عرصے میں اس نوعیت کی شرمناک اور انسانیت سوز وارداتیں بیس ہزار چھ سو انچاس کی تعداد میں وزارت قانون اور انسانی حقوق کے ونگ میں رپورٹ اور رجسٹر کی گئیں۔ انسانی حقوق کے شعبہ کے افسران نے چیئرمین جاوید عباسی کی زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ سال 2012ء میں انسانی حقوق کی پامالی کے چار ہزار آٹھ سو اڑتالیس واقعات رجسٹر کئے گئے۔ سال 2013ء میں انسانی حقو ق کی بے حرمتی کی وارداتوں کی تعداد چار ہزار نو سو سات رجسٹر کی گئی۔ سال 2014ء میں ایسی انسانیت سوز وارداتوں کی تعداد سات ہزار تین سو 72 بیان کی گئی تھی جبکہ ماہ جون 2015ء تک پاکستان میں رپورٹ اور رجسٹر کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تین ہزار پانچ سو بائیس وارداتیں بیان کی جاتی ہیں۔

پاکستان کے ایوان بالا(سینٹ) کی انسانی حقوق کی پاسداری کی کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ سال 2014ء اور 2015ء کے دوران 33 لوگوں، شہریوں کے اغواء یا غائب کئے جانے کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں اور رجسٹر کی گئیں۔ ایک ہزار پانچ سو سینتالیس قتل ہوئے۔ ماورائے عدالت قتل کی 65 وارداتیں حکومت یا انتظامیہ کے نوٹس میں لائی گئیں اور دو سو خواتین کی عزت لوٹی گئی۔ 172 وارداتیں ٹارگٹ کلنگ کی رجسٹر کی گئیں۔ گھریلو تشدد کے 34 واقعات رپورٹ کئے گئے۔

میرے اس بیان پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی کوشش فرمائیں کہ مذکورہ بالا تمام وارداتیں پاکستان کے اندر سانس لینے والے ان خوش نصیب قرار دئیے جانے والے لوگوں کی ہیں جو اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہیں یا انہیں انسان سمجھا جاتا ہے اور انہیں اپنے ساتھ ہونے والے دوسروں کے کسی سلوک کو سمجھنے کی توفیق ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بے حرمتی کی ذیل میں آتا ہے اور اس کے خلاف احتجاج بھی کیا جاسکتا ہے اور اس کی رپورٹ بھی درج کرائی جاسکتی ہے اور تھانے، پولیس سٹیشن اور موسمی اثرات سے محفوظ سرکاری دفاتر کے افسران رپورٹوں کو درج بھی کرلیں گے اور الٹا رپورٹ کرنے والوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے درج کرنے کی دھمکی نہیں دیں گے اور جن ’’معززین‘‘ کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ان الزامات اور ان کے عائد کرنے والوں کے بارے میں خبردار نہیں کریں گے جس کی عزت لوٹ لی گئی ہے، اس کی پوری زندگی کو برباد کردینے والے حالات پیدا نہیں کر دئیے جائیں گے۔

ایک چھوٹی سی زحمت مزید فرمائیں کہ پاکستان کی 18 سے 20 کروڑ کی آبادی میں ’’انسان‘‘ کہلانے یا سمجھے جانے والے مذکورہ بالا خوش نصیبوں کی تعداد اور تناسب کا اندازہ بھی لگائیں، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایسے خوش نصیب اور ہمت والے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہوں گے تو غلط نہیں سمجھتے۔ 68 سال پہلے نام نہاد آزادی حاصل کرنے والے پاکستانیوں کی غالب اکثریت کو اس تمام عرصے میں انسان ہونے کا احساس نہیں دلایا گیا اور ان کے ساتھ ہونے والے اور روا رکھے گئے انسانیت سوز سلوک کو نصیبوں کا لکھا، قسمت میں درج ، تقدیر میں شامل ا ور نعوذ باللہ رضائے الٰہی کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور عالیشان محلات کے شاگرد پیشہ کوارٹروں اور خوبصورت فارم ہائوسوں کے ملازموں کی کٹیائوں میں ہوش سنبھالنے والوں کو ہوش سنبھالنے کی اجازت نہیں ہوئی چنانچہ پاکستان سینٹ کی سیٹنڈنگ کمیٹی کو بتائے جانے والے اعداد و شمار مکمل نہیں ہوسکتے اور اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مسلسل اور متواتر اضافہ ہورہا ہے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وقت کے ساتھ غریب لوگوں میں بھی غیرت اور ہمت کے عنصر میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی رپورٹ کرنے لگے ہیں۔
-----------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری ںہ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند