تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت اب افغان سرحد سے حملے کرے گا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 8 ذوالحجہ 1436هـ - 22 ستمبر 2015م KSA 10:06 - GMT 07:06
بھارت اب افغان سرحد سے حملے کرے گا؟

بی بی سی سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ بھارت درپردہ پاکستان کے ساتھ جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ وزیراعظم مودی نے ایک طرف وزیراعظم نواز شریف سے مذاکرات کا کوئی خفیہ دروازہ کھول رکھا ہے۔ دوسری جانب کنٹرول لائن پر سرحدی خلاف ورزی مسلسل جاری ہے۔ اس اشتعال انگیزی سے پاک فوج کی توجہ بکھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ بات پاک فوج کو الجھائے رکھنے کی ایک سازش ہے۔ جنگی سے زیادہ سیاسی سازش معلوم ہوتی ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ وہ مضبوط حالت میں ہے اور پاکستان پر دبائو بڑھانے کے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے پاک فوج کے ردعمل کا شدت سے منتظر ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ بھارت کب پاکستان کے ساتھ جنگی تیاریوں میں مصروف نہیں رہا؟ پاکستان میں افراتفری پھیلانے کے ہر واقعے میں بھارت کی مداخلت کا گماں ہوتا ہے۔ اب تو یہ بات یقین میں بدل چکی ہے۔ بی بی سی کی طرف سے پاکستان کے حوالے سے کوئی رپورٹ بھی مشکوک ہے۔ بی بی سی کسی صورت میں پاکستان کی حمایت میں نہ بولے گا۔ یہ رپورٹ بھی کوئی سازش معلوم ہوتی ہے۔ ہمارے ایک بہت پیارے چچا عظیم خان ہمیشہ بی بی سی کو بی بی جی کہتے تھے اور ان کا بھی خیال یہی تھا کہ اس بی بی سے اچھائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ بی بی سی آل انڈیا ریڈیو سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور پاکستان دشمنی میں کسی طرح کم نہیں ہے۔

یہ خبر نہیں ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس خبر کے پیچھے کیا سازش ہے۔ پاکستان اس صورتحال سے پوری طرح باخبر ہے اور ہر طرح کے حالات کے لئے پوری طرح تیار ہے اس موقعے پر سپہ سالار جنرل راحیل شریف کا یہ جملہ بہت بھرپور ہے۔ ’’جنگ کیسی ہی کیوں نہ ہو روایتی یا غیر روایتی۔ ہارٹ سٹارٹ یا کولڈ سٹارٹ ہم تیار ہیں‘‘۔ اس کے بعد بھارتی جنگی تیاریوں کی دھمکی کی کیا وقعت رہ جاتی ہے۔

اس کے ساتھ جرنیل نے یہ بھی کہا یہ بات اس لئے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ یہ بات کسی سیاستدان نے نہیں کہی۔ ایک بہت مقبول اور محبوب اہل اور اہل دل جرنیل نے کہی ہے۔ ’’کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے اور 2015ء کا چھ ستمبر بہت اہم ہے‘‘ میں اس سے پہلے بھی اپنے بھائی کرنل ضرار کی یہ بات لکھ چکا ہوں کہ 1947ء کی غلط تقسیم کا ازالہ کیا جائے گا۔ 2047ء سے پہلے پہلے برصغیر کی نئی اور صحیح تقسیم ہو گی۔ اس میں کشمیر پاکستان کا حصہ ہو گا۔ بھارت کی علیحدگی پسند ریاستوں کا معاملہ بھی حل ہو گا۔ پاکستان ایک بہت بڑی ریاست کی شکل میں پھر نمودار ہو گا۔ دنیا کا نقشہ پھر بدل جائے گا۔ بھارتی مسلمانوں کے مقدر کا بھی فیصلہ ہو گا۔

یہ جو پشاور بڈھ بیر ائر بیس کی رہائشی کالونی پر حملہ ہوا یہ بری طرح ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ہارے ہوئے ڈرے ہوئے بدحواس دہشت گرد مایوس ہو چکے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی کمر واقعی ٹوٹ چکی ہے۔ اب بھارت سرحدی خلاف ورزیوں کی اشتعال انگیزی سے خود بیزار ہو گیا ہے بلکہ تھک چکا ہے۔ اب وہ اپنی سرحد پر پریشان کھڑا ہے۔ وہ اب پاکستان کو مشتعل کرنے کے لئے افغان سرحد زیادہ تیاری کے ساتھ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ پہلے بھی وہ اس راستے سے پاکستان میں مداخلت کرتا رہا ہے مگر اس میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ پاک فوج اور ریاست پوری طرح مطمئن ہے ا س سے برے حالات میں بھی قائم و دائم ہے۔

پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور اس شعبے میں بھارت سے زیادہ طاقتور ہے۔ ہمارے پاس میزائل ٹیکنالوجی اور بہترین فوج ہے۔ ہمارے بہادر مستحکم جذبوں والے پاکستان اور نظریہ پاکستان پر مکمل یقین رکھنے والے سپہ سالار نے کہا کہ ’’مجھے فخر ہے میں دنیا کی بہترین فوج کا کمانڈر ہوں‘‘ اب بھارت کبھی اپنی سرحد سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا۔ وہ افغان سرحد کو اپنے مذموم اور ناکام مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اب بھارت افغانستان کی طرف سے پاکستان کو الجھانے کی کوشش کرے گا۔ اس نے حملہ بھی کیا تو اسی سرحد سے کرے گا اور یہ باقاعدہ جنگ کی شکل میں نہیں ہو گا۔ دنیا والوں کو دھوکے میں رکھنے کے لئے دہشت گردی کا نام استعمال کرے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل باجوہ نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے انہیں کنٹرول بھی افغانستان سے کیا جا رہا تھا۔ دہشت گرد پوری طرح تربیت یافتہ تھے مگر ہارے ہوئے دل کے ساتھ کوئی مشن مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے منہ کی کھائی۔ وہ کالونی کے گیٹ تک تو پہنچ گئے ساتھ ہی کالونی کی مسجد میں بے خبر، بے گناہ نمازیوں پر گولیاں برسائیں وہ مد مقابل نہ تھے مگر جب فوجیوں کے ساتھ ان کی مڈ بھیڑ ہوئی تو ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ہمیں بھارت کے اس ارادے سے باخبر رہنا چاہئے کہ اب وہ جو کچھ کرے گا افغانستان کے راستے کرے گا اس کے لئے ہمیں افغان حکومت سے بھی بات کرنا ہو گی۔

---------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند