تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت : گوشت پر پابندی، ہندوتوا مسلط کرنے کا بہانہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 8 ذوالحجہ 1436هـ - 22 ستمبر 2015م KSA 17:35 - GMT 14:35
بھارت : گوشت پر پابندی، ہندوتوا مسلط کرنے کا بہانہ

غالبا 1994-95ء کی بات ہے۔ بھارت کے مغربی صوبہ گجرات میں نرماندی پر بہت بڑے ڈیم سردار سرور بند کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا، جس سے وسطی بھارت کا ایک دور افتادہ مگر سرسبز وزرخیز علاقہ زیر آب آ رہا تھا۔ قبائلیوں اور کسانوں کی زمینیں چھن رہی تھیں۔ آئے دن اس علاقہ سے کشیدگی اور پولیس کے ساتھ ٹکراؤ کی خبریں آتی رہتی تھیں۔ اسی اثناء میں دارالحکومت دہلی کی انسانی حقوق کی چند تنظیموں نے فیصلہ کیا کہ ایک مشترکہ فیکٹ فائنڈنگ مشن اس علاقہ مین بھیجا جائے۔ دہلی یونیورسٹی کے معروف سکالر پروفیسر موہنتی ( جو بعد میں ایک شمال مشرقی صوبہ کے گورنر بنے) وفد کے سربراہ بنائے گئے۔ میں نے بطور رپورٹنگ اور سیکریٹیریل کاموں کیلئے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ وفد کے ایک اور رکن ماہر اقتصادیات پروفیسر اربند وگھوش تھے۔ دہلی سے وسطی بھارت کے شہر اندور تک ٹرین اور بعد میں بس اور جیپ کے ذریعے دشوار گزار پہاڑی سفر کے بعد ہم آخر کار دو دن بعد سرسبز و شادام نرمدا وادی پہنچے۔ دن بھر مختلف علاقوں کا دورہ کرنے باز آبادکاری اور دیگر امور کا جائزہ لینے کے بعد ہم ایک اعلیٰ ذات کے پاٹل یا پاٹی دار برادری سے تعلق رکھنے والے مکھیا (نمبردار) کے دیوان خانے میں پہنچ جاتے ، جہاں ہماری رہائش ، ناشتے اور رات کے کھانے کا انتظام ہوتا تھا۔ دیہاتی طرز کے اس دیوان خانے میں ہمیں تھالی میں کھانا پروسا جاتا تھا۔ مکھیا کے نوکر سالن لا لا کر تھالی میں موجود چھوٹے کٹوروں کا پیٹ بھرتے تھے۔ میرے علاوہ وفد کے سبھی افراد ہندو تھے، حسب معمول ایک رات تھکے ہارے جب ہم پاٹی دار کے دیوان خانے پہنچے تو وہاں ماحول کچھ عجیب سا تھا۔ وہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ کیا میں مسلمان ہوں؟

جب میں نے مثبت جواب دیا تو پہلے اندر کچھ کھسر پسر ہوتی رہی بعد میں کھانا تو آیا، دیگر افراد کیلئے حسب معمول تھالی بچھائی گئی، مگر مجھے کچھ دور ایک لکڑی کی کھاٹ پر بٹھا کر کیلئے کے پتوں میں کھانا دیا گیا۔ پروفیسر گھوش نے جب اس بے اعتنائی کی وجہ پوچھی تو مکھیا نے برملا کیا، کہ انکے گھر کی چوکھٹ آج تک کسی ماس اور مچھلی کھانے والے نے پار نہیں کی۔ انکے دروازے کے اندر اس حد تک کوئی مسلمان یا دلت ابھی تک نہیں آیا ۔ گو کہ انکے کھیتوں میں وہ کام کرتے ہیں، مگر انکو گھر کے باہر ہی نپٹایا جاتا ہے۔ انکا گھر ناپاک ہو چکا ہے۔ خاص طور پر یہ معلوم کرنے پر کہ گھر کی ایک تھالی کو مسلمان چھو گیا ہے، خواتین ماتم کناں ہیں، اب گھر پاک کرنے کیلئے ئاس کو گائے کے پیشاب اور بعد میں نرمدا ندی کے پانی سے دھونا پڑے گا۔ ہمارے وفد نے بطور احتجاج فورا اپنا بوریا بستر بادھا، ایک دھرم شالہ میں رات گزاری اور اگلے دن پاس کے ایک قصبہ میں ہوٹل ڈھونڈ کر وہاں ڈیرہ جمایا۔

قصہ مختصر، 21 ویں صدی میں امید تھی کہ بھارت میں اب نودولتیہ مڈل کلاس ان فرسودہ بندشوں سے اپنے آپ کو آزاد کر کے روشن خیالی کا ثبوت دے گی۔ مگر پچھلے سال مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ان فرسودہ روایات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ملک بھر میں بی جے پی کی زیر قیادت 9 صوبائی حکومتوں نے نو دن تک گوشت کھانے اور اسکی فروخت پر مکمل پابندی کا حکم جاری کیا۔ اس سے قبل ملک کی سب سے ترقی یافتہ ریاست مہاراشٹر بیف یعنی بڑے جانور کے گوشت کے ذبیحہ اور اسکی فروخت پر حتمی پابندی عائد کر چکی ہے اسکی تقلید کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی عدالت عالیہ نے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل کی طرف سے دائر کردہ ایک غیر ضروری مفاد عامہ عرضی پر اپنے عبوری حکم نامے میں ریاستی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ریاست میں بڑے گوشت پر پابندی کو نہ صرف یقینی بنایا جائے بلکہ پولیس سے کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے، جو بڑے گوشت کا کاروبار یا پھر اسکا استعمال کرتے ہوں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ عدالت نے ایک ایسے قانون کو پھر لاگو کیا ، جو ریاست میں پہلے ہی موجود ہے۔ اس قانون کا اطلاق تقسیم سے عشروں قبل اس وقت ہوا تھا جب کشمیر پر سکھ اور ڈوگرہ مہاراجہ حکومت کر رہے تھے۔ عدالت کو عرضی خارج کر کے درخواست گزار کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ اگر اسکے علم میں کہیں بیف کا کاروبار ہو رہا ہے تو جا کر پولیس مین رپورٹ درج کرائے۔

یہ بات سچ ہے کہ کشمیر کی مخصوص ڈش یعنی وازہ وان کیلئے بھیڑ کا ہی گوشت لازم ہوتا ہے، حتیٰ کہ نامی گرامی شیف بکرے کے گوشت سے وازہ وان کی ڈشیں تیار کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔ سرینگر اور اسکے اطراف یعنی وسطی کشمیر میں شاید ہی کہیں بیف یا بڑے گوشت کو کوئی استعمال کرتا ہوگا۔ مگر جس طرح اس پابندی کا ڈھول پیٹا گیا، اس نے قدرتی طور پر وادی کے شمال و جنوب اور جموں کے خطہ چناب اور پیر پنجال مین احتجاجی لہر دوڑا دی۔ وہیں خطہ لداخ کے بدھ فرقہ میں بھی خاموش ناراضگی ہے، جو بنیادی طور پر بڑا گوشت استعمال کرنے کے عادی ہیں۔ ملک کی سب سے چھچوٹی اقلیت جین طبقہ کے مذہبی جذبات کے احترام کے نام پر مہاراشٹر ، راجستھان، چھتیس گڑھ، گجرات اور دیگر صوبوں میں بڑ؁ گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ آخر اس طبقہ کے مذۃبی جذبات کا خیال بی جے پی کو کیوں کر آیا؟ بی جے پی کے لیڈران تو دیگر اقلیتوں کی آئے دن دل آزاری کرتے رہتے ہیں۔ اس فیصؒہ کے خلاف تو بی جے پی کی حلیف شیو سینا تک نے احتجاج درج کرایا۔

کشمیر میں تو اس قانون کے حامیوں اور اسکی بحالی کرنے والوں نے اسے قانون کی چادر میں لپیٹ کر پیش کیا ہے اور وہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس قانون کی بحالی غیر سرکاری معاملہ ہے، اور ریاست کو صرف اس قانون کا اططلاق کرنے کیلئے کہا جا رہا ہے جو دہائیوں سے آئین میں شامل ہے مگر لگتا ہے کہ اس قانون کی بحالی کے پیچھے ایک بہت بڑا سیاسی منصوبہ کار فرما ہے۔ یہ ایک ایسی پالیسی کے ساتھ میل کھاتی ہے جو بی جے پی پورے ملک میں لاگو کرنے کی خواہاں ہے۔ جسکے تحت یہ پارٹٰ بھارت کو ایک تنگ نظر ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے یا پھر ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ بھاجپا ملک میں اکثریتی طبقہ کی ترجیحات کو دوسروں پر ٹھونسنا چاہتی ہے اور ساتھ ہی جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بھی مسخ کرنا مرکز کے اس ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ اسکے علاوہ ی ہمتنازع قانون نہ تو کسی اتفاق رائے اور نہ ہی کسی قانونی زاویے سے لاگو کیا گیا تھا بلکہ یہ صرف وقت کے حکمرانوں کی خواہشات اور ایماء پر لوگوں پر جبری ٹھونسا گیا تھا۔

بھارت میں بیف مسلمانوں سے زیادہ اس ملک کے اصلی باشندگان کی خوراک رہی ہے۔ مگر انکو حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس ملک میں پچھڑے دلتوں کا صدیوں سے استحصال ہوتا آیا ہے۔ آج بھی اس ملک میں پچھڑے دلتوں کو مندر میں جانے سے سختی سے منع کیا جاتا ہے اگر وہ مندر مین جاتے ہیں تو مندر کو ناپاک سمجھ کر دھویا جاتا ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر ان کے گھروں کو آگ لگا دی جاتی ہے انکی عورتوں کی عصمت سے کھلواڑ کیا جاتا ہے۔ برہمن واد ہندو، ہندو بھائی کا نعرے دے کر آپس میں نفرد پیدا کرت اہے۔ دلتوں کو ہندو کہہ کر انکے جذبات کو ابھارتا ہے اور مسلمانوں سے لڑا دیت اہے مگر جب انکے حقوق کی بات آتی ہے تو انہیں انسان بھی نہیں سمجھتا۔

---------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند