تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھیک نالوجی سے اعلیٰ ٹیکنالوجی تک کا سفر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 8 ذوالحجہ 1436هـ - 22 ستمبر 2015م KSA 09:59 - GMT 06:59
بھیک نالوجی سے اعلیٰ ٹیکنالوجی تک کا سفر

19ستمبر کی شام کو ارفعٰ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی (ITU) لاہور کے ’’ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو‘‘ ایم ٹی آر میگزین کے پہلے شمارے کی رونمائی کی گئی۔ تقریب کےمہمان خصوصی وزیر برائے پلاننگ ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز احسن اقبال تھے جبکہ ’’آئی ٹی یو‘‘ کے وائس چانسلر اور پنجاب انفارمشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر عمر شیخ تقریب کے میزبان خصوصی تھے۔ لاہور میں امریکہ کے قونصل جنرل اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے چیئرمین بھی روسٹرم پر موجود تھے۔
احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پہلی مرتبہ صحیح معنوں میں ترقی پذیر معیشت کا گہوارہ بن چکا ہے

اور سال 2025ء تک دنیا کی سرکردہ 25 معیشتوں میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک اور دہشت زدہ معیشت کی بدنامی سے نکل کر ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کی شہرت تک پہنچنے میں مثبت اور مفید کردار ہماری دور اندیش اقتصادی پالیسیوں کا ہے جن کو وجود میں لانے کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجیز کو استعمال کیا گیا ہے۔

انیسویں صدی کے آخری سال 1899ء میں امریکہ سے اپنی اشاعت شروع کرنے والے ’’ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو‘‘ عالمی سطح کی چھ زبانوں میں 147 ملکوں سے شائع ہوتا ہے اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کی نشاندہی اور راہیں ہموار کرنے کی اتھارٹی بن چکا ہے۔ توقع ظاہر کی گئی کہ پاکستان میں بھی اس میگزین کا وہی کردار ہوگا جو اس کاامریکی معیشت کی رہنمائی کے سلسلے میں تصور کیا جاتا ہے۔

یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس کیا گیا کہ ’’آئی ٹی یو‘‘ پہلی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی ہے کہ جو پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جدید ترین تعلیم فراہم کے علاوہ عالمی سطح کے آئی ٹی میگزین کی ناشر بھی ہوگی۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ’’تبدیلی صرف آ ہی نہیں رہی تبدیلی آ بھی گئی ہے‘‘

میگزین کے پہلے شمارے کے اداریئے میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2012ء کو پاکستان کے ایک سائنس دان نے ایک ایسی کار ایجاد کرلینے کادعویٰ کیا کہ جو بغیر ایندھن کے پانی کے استعمال سے چل سکتی ہے۔ بہت سے قابل ذکرسائنس دانوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا۔ اس ’’انقلاب آفرین‘‘ ایجاد کے دعوے پر ہفتوں بحث ہوتی رہی آخر اس ایجادکو دیوانے کا خواب قرار دیا گیا۔

ایسی ہی ایک حیران کردینے والی ’’ایجاد‘‘ راولپنڈی کے غلام محمد موجد کی بھی تھی اوریہ ایجاد ایک ایسے ایٹم بم کی تھی جوایٹم بم برائے امن تھا اور جس سے کسی کو بھی کوئی خطرہ یا اندیشہ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ چلتا یا پھٹتا ہی نہیں تھا۔ ہمارے ایک دوست بہت عرصے تک اس سوچ میں مبتلا رہے کہ کشش ثقل کو اگر دبائو کی بجائے دھکیلنے کی صلاحیت میں تبدیل کیا جاسکے تو بغیر ایندھن کے گاڑیاں چلائی جاسکتی ہیں مگر اس نوعیت کی ناقابل عمل احمقانہ سوچیں بے وقوفی اور جہالت کی پیداوارہوتی ہیں ایسی ایک سوچ جنرل ضیاالحق کے دورِ حکومت میں منظرعام پر لائی گئی تھی کہ آسمانی بجلی سے بھی روشنی اورایندھن کی توانائی کشید کی جاسکتی ہے۔ اور اس موضوع پر باقاعدہ مذاکرہ بھی منعقد ہوا۔

احمقانہ سوچوں کی فراوانی کے باوجود سائنس اورحکمت کے اپنے اثرات کے ذریعے معاشرے کے ایک حصے کو مثبت انداز میں سوچنے کی ترغیب بھی جاری رہی اور جس معاشرے کے پاس 68 سال پہلے کاغذ نتھی کرنے والی کومن پن بھی نہیں تھی اور اس مقصد کے لئے کیکر کے کانٹے استعمال کئے جاتے تھے وہ ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا مگر سرکاری ترجیحات کی وجہ سے لوگوں کی پینے کے صاف ستھرے پانی تک رسائی ممکن نہ ہوسکی۔

’’ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو‘‘ کے پاکستان ایڈیشن کی رونمائی کی تقریب میں کی جانے والی ماہرین کی باتوں سے اندازہ لگایا گیا کہ اگلے پندرہ سالوں کے بعد یہ سمجھا جائے گا کہ ہمارا آج کا زمانہ پتھر کا زمانہ تھا جب غیرملکی امداد اور قرضوں کی بھیک کے رواج کی وجہ سے’’ٹیکنالوجی‘‘ سے زیادہ ’’بیگنالوجی‘‘ یا ’’بھیکنالوجی‘‘ کی ضرورت تھی۔ بے پناہ صلاحیت رکھنے والوں کو معذور بچوں کی طرح ریڑھی میں رکھ کر عالمی جذبہ رحم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ بھیک یا قرضہ مل جائے۔ -

------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند