تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تعلیم برائے فروخت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 8 ذوالحجہ 1436هـ - 22 ستمبر 2015م KSA 09:58 - GMT 06:58
تعلیم برائے فروخت

یہ اس وقت کی بات ہے جب طالبعلموں کے لئے ٹیوشن کا حصول معیوب سمجھا جاتا تھا۔ 80 کے عشرے تک کوئی طالب علم یہ ظاہر نہیں کرتا تھا کہ وہ اسکول کے اوقات کے بعد ٹیوشن بھی پڑھتا ہے اساتذہ اپنے طالب علموں کے ٹیوشن پڑھنے کو اپنی توہین سمجھتے تھے اور والدین خود ہی بچوں کی رہنمائی کے لئے وقت نکالتے تھے۔جب کسی طالب علم کے بارے میں یہ پتہ چلتا کہ وہ ٹیوشن پڑھتا ہے تو خوددار استاد اسے کلاس میں کھڑا کر کے کان سے پکڑ کر یہ الفاظ دہراتے ۔۔۔" بتا میرے پڑھانے میں کیا کمی ہے ،تو ماں باپ کا پیسہ ٹیوشن میں اڑاتا ہے۔۔۔ تو اسکول سیر کرنے آتا ہے اور پھر ٹیوشن پڑھتا ہے۔۔کلاس کے بعد میرے پاس آکر سبق سمجھ لیا کر ۔۔کلاس میں ہی مجھ سے پوچھ لیا کر۔ ٹیوشن پڑھانے والے کے سامنے میری بے عزتی کراتا ہے ۔۔وغیرہ وغیرہ"
پھر وہ وقت آیا کہ جب ایک بچہ یا اس کے بہن بھائی ایک استاد کے ساتھ نشست میں چند گھنٹے کے لئے ٹیوشن پڑھتے تھے اور اس دوران استاد کی ساری توجہ اس ایک بچے یا اس کے بہن بھائی پر ہوتی تھی۔

یہی وہ وقت تھا جب استاد اور شاگرد کے درمیان عزت و احترام کا روحانی رشتہ تھا اور استاد کو صحیح معنوں میں روحانی والد کا درجہ دیا جاتا تھا۔ حتٰی کہ کچھ طالب علم اسکول کے اوقات کے بعد اپنے اساتذہ کے گھر جا کر بلا معاوضہ رہنمائی لیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں استاد اور طالب علم بڑے فخر سے اپنی کامیابیوں کا سہرا ایک دوسرے کے سر باندھتے تھے۔ مگر آج یہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے ۔ماضی کی روایات اور اقدار نے تعلیم کے کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے۔ پہلے بچوں نے بہتر تعلیم کے لئے ٹیوشن والے اساتذہ کا رخ کیا ، پھر ٹیوشن والے اساتذہ نے ٹیوشن مراکز کھول لئے اور ان میں سے بہت سے ٹیوشن مراکز نے نجی تعلیمی اداروں کی شکل اختیار کر لی۔ سرکاری اسکولوں سے کہیں زیادہ فیسوں والے ان نجی تعلیمی اداروں نے مفاد عامہ اور تعلیم کے فروغ کے نام پر کروڑوں روپے کی سرکاری جائیداد کوڑی کے داموں حاصل کی اور اسکول اور کالج تعمیر کر لئے۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ کو ان تعلیمی اداروں کے لئے مختص کر دیا گیا ہے مگر بد قسمتی سے یہاں عام اور غریب آدمی کے بچے داخلہ تو کیا ان اداروں کے قریب سے بھی نہیں گزر سکتے۔ اس کے باوجود اچھے مستقبل کی امید کے ساتھ غریب اور متوسط خاندانوں کی بڑی تعداد نے اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو ان مہنگے تعلیمی اداروں میں داخل کرایا ہے اور ان کے لئے کسی قسم کی فیس کی رعایت بھی نہیں۔ مگر معیار تعلیم کا المیہ یہ ہے کہ صبح کے وقت ان تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے باوجود یہ تمام بچے شام کے وقت ٹیوشن سینٹرز میں بھی ماں باپ کا پیسہ لٹانے پر مجبور ہیں۔ پہلے اسی پیشہ ورانہ بد دیانتی کا آغاز سرکاری اسکولوں کے اساتذہ نے کیا اور اب نجی اسکولوں کے اساتذہ نے بھی یہ کام شروع کر دیا ہے۔ صبح کے وقت اپنے طالب علموں کو مکمل تعلیم نہ دینا اور انہی میں سے کچھ طالب علموں کو اضافی رقم کے ساتھ شام کو ٹیوشن پڑھانے کو کم از کم پیشہ ورانہ دیانت داری تو نہیں کہا جا سکتا۔

اب ٹیوشن مراکز کا بھی یہ حال ہے کہ نجی رہائش گاہوں میں چالیس سے پچاس طالب علموں کا ایک ہجوم ایک کمرے کے اندر بھیڑ بکریوں کی مانند ایک ہی استاد سے علم کی نیاز حاصل کرنے قطار میں لگا ہوتا ہے۔ اب جو استاد صبح 7 بجے تیار ہو کر گھر سے تعلیم دینے نکلے اور دن2 بجے چھٹی کے بعد گھر آنے کی بجائے ٹیوشن سینٹر کی دکان پر جا بیٹھے اور رات 12 بجے گھر داخل ہو تو وہ استاد صبح 7 بجے دوبارہ اٹھ کر سرکاری یا نجی اسکولوں میں قوم کے بچوں کو کیا تعلیم دے گا۔ لالچ کی انتہا دیکھیے کہ مختلف شعبوں میں اعلی ترین تعلیمی ڈگری حاصل کر کے اس شعبے میں مزید تدریسی مہارت حاصل کرنے کی بجائے اگر ایک استاد ٹیوشن سینٹر یا نجی اسکول ہی کھول لے تو اسے پڑھانے کا شوق کیونکر ہو گا۔تدریسی شعبے میں ضابطوں اور ضابطہ اخلاق کے فقدان نے ایک بحران کی سی صورتحال اختیار کر لی ہے۔

ارباب اختیار کے اپنے بچے مہنگے ترین نجی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں اور ان میں سے کچھ تو خصوصی رعایتوں کے مستحق ٹھہرتے ہیں اور ایسے میں ان نجی تعلیمی اداروں کے طفیلی سرکاری افسران وحکمران سیاست دان نجی اسکولوں کی فیسوں میں حیران کن اضافے پر فوری کارروائی کیونکر کرتے۔میڈیا پر بھی یہ بحث چاروناچار سامنے آئی اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ پورے ملک میں صحافیوں اور کچھ اینکرز حضرات کو ان نجی تعلیمی اداروں میں انکے بچوں کے داخلے اور فیسوں میں خصوصی رعایت دی گئی ہے جو کئی بار 50 فیصد سے بھی زائد ہوتی ہے۔یہ رعایت ہمارے میڈیا میں اتنی معمول کی بات بن چکی ہے کہ بہت سے صحافی حضرات اب اس کو اپنا حق سمجھنا شروع ہو چکے ہیں۔

چند نمائندہ صحافتی تنظیموں نے تو کچھ نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ باقاعدہ"مفاہمت"کی یادداشتوں پر دستخط کر رکھے ہیں جس کے تحت صحافیوں کے بچوں کو یہ رعایت دی جاتی ہے۔یہ رعایت بھی یقینا مفت نہیں ہوتی۔ ان صحافیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ان نجی تعلیمی اداروں کی کاروباری تشہیراور ان کے خلاف "منفی" خبروں کی صورت میں" تعاون" کیا جائے گا۔ ایسے میں نجی اسکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں کا معاملہ اتنے عرصے بعدمیڈیا میں آنے کا کریڈٹ صرف اور صرف ان والدین کو جاتا ہے جنہوں نے پریس کلبوں کے باہر جا کر ان صحافیوں کا ضمیر جھنجوڑا ۔کچھ دن پہلے ایک دوست صحافی نے ٹیلی فون پر پوچھا کہ اسلا م آباد کا ایک بڑا نجی اسکول صحافیوں کو ان کے بچوں کے داخلوں کے لئے فیس میں 50 فیصد رعایت دے رہا ہے تو کیا اسے قبول کرنا چاہئیے۔

دوست کے لئے مشورہ یہی تھا کہ کسی پیشہ ورانہ فتوے کے حصول کی بجائے اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلہ کیا جائے۔ دوست صحافی بظاہر تو ناراض ہوا مگر خوشی اس بات کی ہوئی کہ کچھ صحافی ان معاملات پر سوچتے توہیں۔ بہر حال اس تمام تنازعے میں بنیادی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ہے جنہوں نے ریگولیٹری اتھارٹیوں کے ذریعے "تعلیم برائے فروخت" کے نظام کو لگام دینی ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان افراد کو اختیار دیا جائے جن کے مفادات نجی تعلیمی اداروں سے منسلک نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ حکومتیں ابھی تک اپنے سرکاری تعلیمی اداروں کی نگرانی بھی نہیں کر پا رہیں جہاں مقابلے اور محکمانہ ترقیوں کی دوڑ میں سرکاری اساتذہ نے کمزور طالب علموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے بورڈ کے امتحانات کے لئے ان کے داخلے بھیجنے سے انکار کی غیر قانونی اور غیر اعلانیہ پالیسی اپنا رکھی ہے۔

یہ ویسے ہی ہے جیسے نجی اداروں میں بہترین طالب علموں کو مراعات کے ذریعے داخلہ دے کر ان کی تصاویر کو کاروباری تشہیر کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ظاہر ہے اس میں کمال ادارے یا اساتذہ کا نہیں بلکہ ذہین طالب علموں کا ہوتا ہے ایسے میں غریب اور کمزور طالب علموں کا والی وارث کون ہو گا؟ ان حالات میں سرکاری تعلیمی بورڈ کے نتائج میں کبھی کبھی غریب خاندانوں کے بچوں کو اعلی پوزیشنیں دے کر حکومتیں اپنی ناکامی پر پردہ نہیں ڈال سکتیں۔ایک تندور والے اور ایک پھل والے کے بچوں کا بورڈ کے امتحانات میں اول آنا سرکاری اسکولوں میں اچھے تعلیمی معیار اور بہتر حکومتی کارکردگی کا کوئی ثبوت نہیں اور شاید ایسے نتائج کی بغور تحقیقات اصل صورتحال سے پردہ ہٹا سکتی ہے۔ قصہ مختصر تعلیم کے اس نئے کاروبار نے ایک غیر صحتمندانہ مقابلے کو جنم دیا ہے جس میں شام کے اوقات میں کھیلوں کے میدان ویران ہو چکے ہیں اور ٹیوشن مراکز کسی بڑے کاروباری مرکز کی طرح آباد۔ آج کا نوجوان اسکول سے گھر ،گھر سے ٹیوشن مرکز اور پھر انٹرنیٹ اور موبائل کی دنیا میں کھو جانا ہے۔

اس پر ستم ظریفی یہ کہ سرکاری اسکولوں میں بھی رات کی شفٹوں نے بچوں سے ان کا بچپن اور جوانی چھین لی ہے۔ ہمارے حکمران تعلیم کو بنیادی انسانی حق کی صورت یقینی بنانے کی بجائے اسے بطور کاروبار فروغ دے رہے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کے چند غریب بچوں کو بورڈ کے امتحانات میں اعلی پوزیشنیں دے دینے سے ان کی حوصلہ افزائی ضرور ہوتی ہے مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حکومتیں ان سرکاری اسکولوں کے لئے وسائل فراہم کرنے کے فرض سے آزاد ہو گئی ہیں۔ تعلیم کا بنیادی حق اور مساوی معیار تعلیم اور اس تک رسائی ایک چیلنج ہے۔ اگر حکومت یہ سب کچھ نہیں کر سکتی تو کم از کم وفاقی نظامات تعلیم کے اسکولوں میں کئی سال سے بند پڑے ٹوائلٹس ہی کھلوا دے جو اربوں روپوں کی میٹرو بس اسٹیشن اور پارلیمنٹ ہاﺅس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ مگر شاید ایسا تب ممکن ہوتاکہ جب ان حکمرانوں یا ان کے بچوں نے ایسے ہی سرکاری اسکولوں میں سبق پڑھا ہوتازمین پر بیٹھ کر کتابیں کھولیں ہوتی اور ایسے ہی ٹوائلٹس کا استعمال کیا ہوتا.

---------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند