تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 19 ذیعقدہ 1440هـ - 22 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 9 ذوالحجہ 1436هـ - 23 ستمبر 2015م KSA 09:07 - GMT 06:07
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

افغانستان کو روس کی عسکری طاقت کے قبضے اور پھر طالبانی اقتدار کی گرفت سے نجات دلانے کا دعویٰ کرنے والے امریکی حکمران افغانستان کو دنیا میں سب سے زیادہ (80فیصد) افیون فراہم کرنے والی معیشت سے نجات دلانے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبانی حکومت کے خاتمے کے بعد کے عرصے میں اس کے باوجود کہ امریکہ افغانستان میں افیون کی کاشت اور پیداوار ختم کرانے کی مہم پر ساڑھے سات ارب ڈالرز خرچ کرنے کا دعویدار ہے، افیون کے زیر کاشت رقبے میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور سال 2014ء میں یہ رقبہ دو لاکھ چوبیس ہزار ہیکٹرز (پانچ لاکھ ترپن ہزار پانچ سو سولہ ایکٹرز) میں پھیل چکا ہے۔ افغانستان کی سالانہ قومی آمدنی (جی ڈی پی) میں ناجائز منشیات کے سرطان کا حصہ ایک تہائی ہو چکا ہے اور دنیا کی 80 فیصد افیونی ضرورت پوری کرنے والی یہ معیشت عالمی دہشت گردی کی مالی کفالت بھی کررہی ہے۔

1979ء کی روسی فوجی مداخلت سے پہلے افیون کی افغانستان میں کاشت کچھ زیادہ قابل ذکر نہیں تھی مگر اس موذی وبا کا پھیلائو افغانستان کے ’’ڈرگ لارڈز‘‘ کی حکمرانی قائم رکھنے کا سب سے بڑا سبب تھا اور اس مقصد کے لئے اس کی کاشت کے رقبے میں بتدریج اضافہ ہورہا تھا اس کے بعد روس کے خلاف ’’امریکی جہاد‘‘ کے لئے افیون کی کاشت امریکی ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت چلی گئی۔ اس کے ذریعے اسلحہ بارود کی خریداری ہونے لگی۔ اس ’’نظریہ ضرورت‘‘ نے افیون کی کاشت کو افغانستان میں امریکی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بنا دیا اور پوری دنیا جان گئی کہ افیون کی کاشت، تیاری اور دنیا میں سپلائی سرمایہ داری نظام کا مستقبل مضبوط بنانے کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔ بتایا گیاکہ اگر افیون کی کاشت سے وجود میں آنے والا سرمایہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اسلحہ خریدنے کے کام آیا تو افیون کی کاشت کے خلاف جارحانہ مہم بھی دہشت گردی کے عالمی ابھار کی وجہ بنی اور افیون کی کاشت کی معیشت سے نکالے جانے والے لوگ دہشت گرد تنظیموں میں سرگرم ہونے پر مجبور ہوگئے۔ افغانستان سے حکمرانوں اور سرکاری اداروں کو فراہم کئے گئے فنڈز افیون کی کاشت کو روکنے کی کوششوں پر استعمال ہونے کی بجائے کرپشن اور خوردبرد کے رجحان میں اضافے کا سبب بنا اور بیشتر فنڈز اگر حکومتی کاموں پر خرچ بھی ہوئے تو وہ تعلیم اور شعور کو پھیلانے والے کام نہیں تھے سڑکیں بنانے اور حکومتی تعمیرات کے کام تھے۔ افغانستان میں افیون کی کاشت کو ختم کرنے کی مہم پر خرچ ہونے والے ساڑھے سات ارب ڈالروں کے استعمال ہونے والے ذرائع کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ بھی ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کا معاملہ تھا۔دنیا بھر کی افیون کی ضرورت کا 80 فیصد فراہم کرنے والے افغانستان کی اس چھوت کی بیماری سے اس کے ہمسایہ ممالک بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ ہمسایہ ممالک کو اس ناجائز تجارت کے لئے راہداری فراہم کرنے کے انعام کے طور پر منشیات کی لعنت کا تحفہ دیا گیا اور اس تحفہ کے ساتھ عالمی دہشت گردی کی جان لیوا وارداتیں بھی اضافی فائدہ کے طور پر پیش کی گئیں، کرپشن، بددیانتی، لوٹ مار اور قتل و غارت بھی اسی منشیات کی لعنت کے ضمنی فائدے بیان کئے جاتے ہیں۔

---------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند