تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مساجد میں دہشت گردی کی مکروہ تاریخ!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 9 ذوالحجہ 1436هـ - 23 ستمبر 2015م KSA 23:03 - GMT 20:03
مساجد میں دہشت گردی کی مکروہ تاریخ!

مسلمان کا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ مسجدیں زمین پر اللہ کا گھر ہونے کے ناطے کرہ ارض کے مقدس ترین مقامات ہیں، جہاں ہمہ وقت رحمت کے ملائکہ نزول کرتے ہیں اور عرش معلیٰ سے اللہ رب کریم کی رحمت براہ راست نازل ہوتی ہے۔ اسی تقدس کے سبب سے مسلمان مساجد کی تعمیر اور انہیں آباد کرنے میں ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہرعام وخاص، پابند صوم وصلواۃ اور تارک صلواۃ سب کے دل میں مسجد کا احترام جاگزیں ہوتا ہے۔ مگر روز اول سے اسلام کے کچھ ایسے داعی اور ٹھیکیدار بھی سراٹھاتے رہے جن کا مطمع نظراپنے مذہبی، مسلکی، نسلی، قبائلی، گروہی اور لسانی مفادات کی ترویج رہا۔ اپنے مخالفین کے خون کے پیاسے ایسے شرپسند عناصر نے مساجد میں دہشت گردی اور خون خرابے کی ایک ایسی مکروہ تاریخ کی بنیاد ڈالی جسے آج تک ان کے پیروکار شکلیں بدل بدل کر اپنائے ہوئے ہیں۔

مسجد میں دہشت گردی چند برسوں یا صدیوں کی کہانی نہیں بلکہ یہ مکروہ سلسلہ آج سے چودہ سو سال پہلے سے شروع ہوتا ہے۔ مسجد میں پہلی دہشت گردی ابو لولو فیروز نامی ایک مجوسی نے کی جس بد بخت نے مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم، دوسرے خلیفہ الراشد سید نا عمر بن خطاب کو عین نماز میں خنجر گھونپ کر شہید کرڈالا۔ یوں ایک معصوم اور عظیم ہستی کے خون سے مسجد نبوی کے در ودیوار لالہ زار ہوئے۔ مسجد میں دہشت گردی کی بنیاد رکھنے والا یہ بد بخت مسلمان نہیں بلکہ ایک آتش پرست دہشت گرد تھا لیکن اس واقعے کے سولہ سو سال بعد کوفہ کی جامع مسجد میں عبدالرحمان بن ملجم نامی ایک خوارجی نے دوران نماز داماد رسول حیدر کرار حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کو نہایت بے رحمی کے ساتھ شہید کر دیا۔

حضرت علی کو شہید کرنے کرنے والے بدبخت خوارجی کا اپنے بارے میں یہ دعویٰ تھا کہ اس سے بڑھ کر کوئی شخص مسلمان ہی نہیں۔ اس کی اسی انا پرستی اوردوسروں غیر مسلم و کافر کہنے کی سوچ نے ایک انتہائی قدم اٹھانے کی ہمت پیدا کی۔

بنو امیہ کا دور اس اعتبار سے قدرے پرسکون گذرا مگر خلافت عباسیہ کے وسطی دور میں حسن بن صبا کا فتنہ اٹھا۔ مورخین میں یہ شخص آج تک مجموعہ اضداد گردانا جاتا ہے۔ مورخین اس کی فرضی جنت "فردوس بریں" کے بارے میں بھی شک کا اظہار کرتے کیونکہ اس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا۔ بہرحال تاریخ حسن بن صبا کو ایک نہایت شقی القلب اور سفاک شخص کے طورپر پیش کرتی رہے گی، جس نے اپنے دور کے کئی جلیل القدر علماء فقہا، محدثین کو چن چن کر قتل کرایا۔ یوں ٹارگٹ کلنگ اور خود کش حملوں کی ریت حسن بن صبا کے دور میں پڑتی دکھائی دیتی ہے۔

دہشت گردی کے جس ناسور کی لپیٹ میں آج پوری اسلامی دنیا گھری ہوئی ہے۔ اس میں بھی وہی عناصر پیش پیش ہیں جو خود کو دوسروں سے زیادہ مسلمان، اللہ کے مقرب اور زمانے بھر کے صالحین شمار کرتے ہیں۔ ان کی نظروں میں جو شخص ان کے نظریات سے متفق نہیں وہ کافرو زندیق، منافق اور اللہ اور خدا و رسول کا باغی اور واجب القتل ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو آج کے ان نام نہاد اسلام کے نام لیوائوں کو مساجد کو خون آلود کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ورنہ ایک عام مسلمان مسجد میں کسی شخص کے قتل کا سوچ بھی نہیں سکتا چہ جائے کہ وہ ایک نہیں سیکڑوں جانوں سے کھیلنے کی منصوبہ بندی کرے۔

پاکستان اور افغانستان میں مساجد میں بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نام آتا رہا ہے۔ یہ تنظیم خود بھی ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔ شام، عراق، لیببیا، کویت، سعودی عرب اوربحرین میں دولت اسلامی عراق وشام "داعش" مسلمانوں کو مساجد میں خون میں نہلانے کا مشغلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم النصرہ فرنٹ بھی شام اور عراق میں یہی کھیل کھیل رہی ہے۔ مصر میں القاعدہ کا ایک ذیلی گروپ "القدس بریگٰیڈ" سرگرم عمل ہے، جو نہ صرف چن چن کر اہم شخصیات کے قتل میں ملوث ہے بلکہ مساجد کو بھی نشانہ بنا چکا ہے۔ افریقی ملکوں بالخصوص نائیجریا اور الجزائر میں بوکو حرام آج تک درجنوں مساجد کو شہید اور ہزار ہا انسانوں کا خون پی چکی ہے۔ 'بو کو حرام' اور طالبان کے درمیان ایک گہری مماثلت یہ بھی ہے کہ دونوں اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں مغربی تعلیم کو خلاف اسلام قرار دیتے ہوئے اسکولوں کو تباہ اور بچوں کو اغواء اور قتل کر رہے ہیں۔ یوں مساجد میں خون خرابے کا چلن ان لوگوں کےہاتھوں ہو رہا ہے جو اپنی نظر میں زمین پر خدا کے 'اوتار' ہیں۔

بوکر حرام اب تک نائیجریا، الجزائر اور دوسرے افریقی ملکوں میں ڈیڑھ سو سے زائد مساجد کو شہید کرچکی ہے۔ بوکو حرام کی ان کارروائیوں کی وجہ سے لوگوں نے کئی بڑی بڑی مساجد میں نماز جمعہ کی نماز ادا کرنا چھوڑ دی ہے۔

شام اور عراق میں داعش اور القاعدہ نواز گروپ بے شمار مساجد کو شہید کرچکے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے مساجد کو خون میں نہلانے کا مکروہ سلسلہ خلیجی ممالک میں بھی پھیلنے لگا ہے۔ چند ماہ کے دوران کویت میں چار مساجد، سعودی عرب میں پانچ، بحرین میں دو مساجد میں دہشت گردی کے حملے ہو چکے ہیں جن میں سیکڑوں نمازی شہید ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں مساجد کی شہادت کا سلسلہ سنہ2001ء کے بعد سے وقفے وقفے سے جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کے حملوں کے نتیجے میں پچھلے چودہ برسوں کے دوران پانچ سو مساجد براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہو چکی ہیں۔ چار جولائی 2003 کو کوئٹہ کی جامع مسجد میں دہشت گردوں نے حملہ کرکے 53 نمازیوں کو شہید کیا۔ 2004ء میں مذہبی مقامات کو پانچ بار دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی سال کر کراچی میں سندھ مدرستہ الاسلام سے ملحقہ حیدری مسجد اور ایم اے جناح روڈ پر واقع مسجد امام علی رضا پر خود کش دھماکوں مین 40 نمازی شہید ہوئے۔ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں مزار پر حملے میں 50 افراد مارے گئے۔

اسلام آباد میں امام بری کے مزار پر حملے میں 25 افراد جاں بحق ہوئے۔ سنہ 2006ء میں کراچی میں نشتر پارک کے قریب ایک میلاد النبی کے جلسے میں 60 افراد لقمہ اجل بنے۔ جولائی 2006ء میں پشاور کنٹونمنٹ بورڈ کی مسجد میں دھماکے سے 15 افراد لقمہ اجل بنے۔ فروری 2009ء میں ڈیرہ غازی خان کی مسجد میں خود کش دھماکے میں 32 افراد مارے گئے۔ مارچ میں پشین میں کربلا مدرسہ اور اس سے ملحقہ مسجد میں بم دھماکے سے تین درجن افراد شہید ہوئے۔ جمرود چھائونی کی مسجد میں خودکش حملے میں 76 افراد کو شہید کیا گیا۔ اپریل 2009 میں چکوال میں ایک امام بارگاہ میں خودکش بمبار نے گھس کر 24 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جون میں اپر دیر کی ایک جامع مسجد نشانہ بنی جس میں 40 نمازی شہید ہوئے۔ چند روز بعد نوشہرہ کنٹونمنٹ بورڈ کی مسجد میں دھماکہ ہوا جس میں سترہ نمازی مارے گئے۔12 جون 2009ء کو لاہور میں جامعہ نعیمہ میں ہونے والے دھماکے میں علامہ سرفراز نعیمی سمیت متعدد افراد مارے گئے۔

سنہ 2010ء میں کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار اور ملحقہ مسجد کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں 30 جانیں گئیں۔ اسی سال کوئٹہ میں میزان چوک میں بیت المقدس کی آزادی کے لیے نکالی گئی ریلی میں دھماکے سے 55 افراد مارے گئے۔ درہ آدم خیل کی مسجد میں دھماکے سے 18 بچوں سمیت 65 نمازی مارے گئے۔ 2013ء میں نورہ سیٹھی کےقریب تبلیغی جماعت کی مسجد کو دھماکے سے شہید کیا گیا جس میں 23 نمازی شہید ہوئے۔ اسی سال ہنگو کی ایک جامع مسجد میں 28 افراد مارے گئے۔

خیبر پختونخوا میں 2013ء اور اس کے بعد مساجد اور عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 500 لوگوں کی زندگی کے چراغ گُل ہوگئے ہیں۔ 10 جنوری کو مینگورہ میں مکی مسجد میں نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 25 نمازی جان سے گئے، سال کا سب سے ہلاکت خیز واقعہ 22 ستمبر کو پیش آیا، جب پشاور کے کوہاٹی چوک میں واقع گرجے میں دو خوف ناک خودکُش دھماکوں میں 80 سے زاید ہلاکتیں ہوئیں۔ 9 مارچ کو پشاور کے مینا بازار سے ملحقہ محلہ باقر شاہ میں نماز ظہر کے دوران مسجد کو ہدف بنایا گیا، پیش امام سمیت 6 افراد اس افسوس ناک واقعے کی نذر ہوگئے۔

17 مئی کو مالاکنڈ کے گائوں بازدرہ بالا کی دو مساجد دہشت گردوں کا نشانہ بنیں۔ نماز جمعہ کے اجتماع کے موقع پر ہونے والے یکے بعد دیگرے دھماکوں میں 20 نمازی جاں بحق ہوگئے اور مساجد بھی شہید ہو گئیں۔ 21 جون کو پشاور کی فیصل کالونی جی ٹی روڈ کی مسجد نشانہ بنی، جس میں پولیس اہلکار سمیت 15 افراد جاں بحق ہو گئے۔ سنہ 2013ء میں 10 محرم الحرام کو راولپنڈی کے راجہ بازار کی جامع مسجد میں خود کش دھماکے اور فائرنگ سے دسیوں نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔ تازہ واقعہ پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں پاک فضائیہ کے مرکز کی مسجد میں پیش آیا جس میں تیس نمازی شہید ہوئے۔

مساجد میں خون خرابے کے مذکورہ تمام واقعات کی ذمہ داری کسی نہ کسی مذہبی گروپ نے قبول کی اور اس کے جواز کے لیے بھی اپنے تئیں دلائل پیش کیے۔ مگر یہ سوال ہمیشہ تشنہ جواب رہے گا کہ خود کو اسلام کا نام لیوا کہلوانے والے انسانیت سے اس قدر عاری اور مساجد کے دشمن کیوں ہیں؟۔
-----------
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند