تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حج خانہ کعبہ سے ایک مشترکہ اعلامیہ ہے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 10 ذوالحجہ 1436هـ - 24 ستمبر 2015م KSA 07:51 - GMT 04:51
حج خانہ کعبہ سے ایک مشترکہ اعلامیہ ہے

آج دیار حجاز میں حج ہے۔ مگر ہم دوسرے دن حج منائیں گے۔ ہماری بقر عید بھی دوسرے دن ہو گی۔ ان دنوں کو خانہ کعبہ کے ساتھ مربوط اور منسلک کر دینا چاہیے۔ یہ یکجہتی کی عظیم مثال ہو گی۔ سب لوگ خانہ کعبہ میں موجود ہوتے ہیں۔ ہم خطبہ حج بھی سن رہے ہوتے ہیں۔ دنیا میں ہر کہیں یہ آواز سنی جا رہی ہوتی ہے۔ اس بار ہمارے میڈیا نے یہ اہتمام کیا تھا کہ خطبہ حج کا اردو ترجہ بھی سنوایا گیا۔ یہ بہت بابرکت صورتحال ہے۔ یہ پیغام ساری دنیا کے مسلمانوں اور انسانوں تک پہنچ گیا۔

رحمت اللعالمین، محسن انسانیت رسول کریم حضرت محمدﷺ نے جو خطبہ حج عطا فرمایا تھا یہ انسانیت کا منشور ہے۔ قرآن کریم میں بھی اللہ کا مخاطب انسان ہے۔ حضور کریمؐ نے نحوست کو ختم کر دیا۔ سب کو معاف کر دیا۔ اگر انسان اور مسلمان حضورؐ کے فرمان کی اصل کو سمجھیں تو یہ دنیا جنت بن جائے۔

یہاں منصورالرحمن آفریدی نے بہت انوکھی بات کی۔ آپؐ نے چند منٹ میں پورے اسلام کو بیان کر دیا۔ اتنے کم وقت میں کوئی بھی سب حقیقت کو بیان نہیں کر سکتا۔ منصورالرحمن آفریدی اہل اور اہل دل انسان ہیں۔ عاشق رسولؐ ہیں۔ رسول کریمؐ نے اختصار کے معجزے سے کمال کر دکھایا۔ اختصار میں بیان کا ایسا اختیار ہے جو آدمی کو قادر مطلق کے قریب تر کر دیتا ہے۔ عبدالقادر کے یہی معانی ہیں۔ اللہ کے بندے کو اختصار سے کام لے کر تاثیر بیان کے سارے قرینے اپنا لینا چاہئیں اور آپﷺ قادر مطلق کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ آپؐ نے اللہ کے دین کو مکمل کر دیا۔ رسول کریمؐ کی ارشاد کی ہوئی تمام باتیں ایک آئیڈیل معاشرے کے لیے ضروری ہیں۔ آفریدی صاحب نے کہا کہ ہمیں مبالغے اور غلو سے بچنا چاہیے۔ اپنی طرف سے اپنی باتیں دین میں داخل نہیں کرنا چاہئیں۔

خانہ کعبہ میں سب مسلمان برابر ہیں اور ایک جیسے ہیں۔ نہ کوئی سنی نہ شیعہ نہ بریلوی نہ وہابی نہ اہل حدیث نہ کچھ اور؟ حج کے مناظر دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک ہونے کی سب سے بڑی تلقین ہے۔ یہ انقلابی بات بھی حضور نبی کریمؐ نے خطبہ حج میں فرمائی کہ میری یہ باتیں ان تک پہنچا دو جو یہاں نہیں ہیں۔ ممکن ہے وہ تم سے زیادہ پاسداری کرنے والے ہوں۔ آپؐ کے فرمان میں یہ حکم بھی ہے کہ ہمیں ان باتوں کی زیادہ پاسداری کرنا چاہیے۔ آپؐ سے زیادہ کمیونی کیشن اور پیغام رسانی کی روح سے باخبر کوئی نہیں ہے۔ آپؐ کی باتیں سب دنیا تک پہنچ گئی ہیں۔ آپؐ کی یہ خواہش تھی اور اللہ نے آپؐ کی ہر خواہش کو پورا کر دیا۔ آپؐ نے آسمان کی طرف انگشت شہادت کرتے ہوئے فرمایا لوگو گواہ رہنا میں نے اللہ کا پیغام پوری طرح سب تک پہنچا دیا۔ آج یہ پیغام پوری دنیا میں پہنچ گیا ہے۔

میری التجا ہے کہ آج کے تقاضوں کے مطابق بہت جامع خطبہ امام کعبہ عطا کرتے ہیں تو اس کے ساتھ آپؐ کا آخری خطبہ بھی اس کے ساتھ پڑھا جائے تاکہ مسلمانوں کے دل میں یہ پیغام پھر تازہ ولولے کی طرح بار بار زندہ ہو سکے۔ آفریدی صاحب نے اس سے آگے بڑھ کر بات کی کہ اس موقع پر مسلمانوں کا ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہونا چاہیے۔ یہ دنیا والوں کے لیے آنکھیں کھول دینے والی خبر ہونا چاہیے۔ جہالت کے خلاف جہاد، ظلم و ستم اور بے انصافی کو ختم کرنے کے لئے ایک آئیڈیل زندگی کو عام کرنا ہے۔ اس طرح سیرت رسولؐ سے آگہی ایک انعام کی طرح لوگوں تک پہنچنا چاہیے اور عشق رسولؐ صرف مسلمانوں کے لیے نعمت نہ ہو۔ پوری دنیا کے لیے ایک تحفہ ہو۔

آفریدی صاحب اپنی بات چیت میں واصف صاحب کو ضرور یاد کرتے ہیں۔ واصف صاحب ایک روحانی دانشور تھے۔ میں نے ان سے واصف صاحب کا یہ جملہ شیئر کیا۔ ’’شیطان اس لیے مردود اور گمراہ ہوا کہ اس کا ایک معبود تو تھا مگر محبوب نہ تھا۔‘‘ خطبہ حج سنتے ہوئے ہمیں رسول کریمؐ کے آخری خطبے کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ وہ ہمارے محبوب ہیں۔ اللہ کے محبوبؐ نے فرمایا کہ اللہ معبود ہے اور محبوب بھی ہے۔ حضور کریمؐ کی باتوں میں اصل حقیقت اپنی تاثیر معنویت اور ملائمت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ آپؐ نے ایک جلیل القدر دعا فرمائی تھی۔ ’’اے اللہ مجھے چیزوں کو دکھا جیسی کہ اصل میں وہ ہیں۔‘‘

حج وہی ہے جو خانہ کعبہ میں پڑھا گیاتو ہم اس سے دوسرے دن کیوں حج مناتے ہیں۔ خطبہ حج میں اس بار امام کعبہ نے فرمایا اسلام کی اصل طاقت واحدانیت ہے۔ ایک ہونا اور ایک جیسا ہونا۔ اسلام سلامتی کا دین ہے اور یہی دین حق ہے۔ مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو قتل نہیں کرتا۔ داعش مسلم امہ کو تباہ کرنے کی سازش اور کوشش ہے۔ فتنہ و فساد پھیلانے والے اسلام کی غلط تشریح پیش کر رہے ہیں۔ اسلام نے کسی بے گناہ کی جان لینے سے منع فرمایا ہے۔

حج ایک عالمی اور بین الاقوامی سرگرمی ہے۔ دنیا بھر میں حج کے لیے ایک دن ہونا چاہئے۔ مسلمان صرف مسلمان ملکوں سے نہیں آئے وہاں سے بھی آتے ہیں جو مسلمان ملک نہیں ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان خانہ کعبہ کے آس پاس ہوتے ہیں اور ایک ہی لباس میں ہوتے ہیں۔ یہ اتحاد طاقت ڈسپلن نظم و ضبط برابری اور مساوات کا ایسا مظاہرہ ہے جس کی کوئی مثال کسی مذہب اور قوم میں نہیں ملتی۔ فریضہ حج کے وقت جو احرام باندھا جاتا ہے یہی سفید کپڑا انسان کا کفن بنتا ہے۔ ان باتوں کو سمیٹ کر آفریدی صاحب نے بہت خوبصورت منظر کا نقشہ کھینچا۔ یہ ایک پیغام ہے جس کی قدر مسلمانوں کو کرنا چاہیے اور انسانوں کو بھی اس پر غور کرنا چاہیے۔ وہاں کوئی تفریق اور تخصیص نہیں ہوتی۔ نہ شیعہ نہ سنی نہ بریلوی اور وہابی نہ کچھ اور؟ وہاں مرد اور عورتیں بھی اکٹھی ہوتی ہیں۔ یہ مخلوط معاشرے کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ نہ کسی کو مرد ہونے نہ کسی کو عورت ہونے کا احساس ہوتا ہے اور یہی ایک اچھائی اور بھلائی سے بھرے ہوئے معاشرے کی مثال ہے۔ آفریدی صاحب نے کہا کہ وہاں ہمیں یہ تفکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم تفریق پیدا کرنے والے لباس اور ہر احساس کو خود سے الگ کر دیں۔ ہم نے وہ سب کچھ چھوڑ دیا ہے جو ہمیں تقسیم کرتا ہے۔

حاجی کو ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچے کی طرح کہا گیا ہے۔ اس وقت ہر کوئی ایک ہی حالت میں ہوتا ہے۔ حج کے موقع پر یہ سرگرمی اجتماعی بھی ہے اور انفرادی بھی ہے۔ کوئی امیر غریب، حاکم اور محکوم کوئی کالا اور گورا نہیں ہے۔ سب برابر ہیں۔ اس وقت سب تقوے کے لحاظ سے بھی برابر ہیں۔ اس لمحے میں بھی دوسروں کے ساتھ بھلائی کا احساس ضروری ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کا حج قبول ہوتا ہے کہ اس اجتماع میں کسی ایک کا حج بھی قبول ہو تو سب کا حج قبول ہو جاتا ہے۔ ایک موقع پراس آدمی کے لئے سب کا حج کا قبول ہوا جس نے حج کیا ہی نہ تھا۔ ایک غریب آدمی نے اپنی کمائی سے تھوڑا تھوڑا پیسہ جوڑا کہ حج کرے گا۔ حج پر جانے سے ایک دن پہلے ہمسائے میں گیا تو وہاں بچے رو رہے تھے ان کی ماں نے بتایا کہ انہوں نے کئی دنوں سے کھانا نہیں کھایا اور میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ وہ شخص گھر گیا اور ساری جمع پونچی لا کے اس فاقہ کش عورت کے ہاتھ پر رکھ دی۔ اس کی نیت اور بھلائی کی بدولت سب کا حج قبول کر لیا گیا۔ حج محبتوں کا سفر ہے۔ معرکہ روح و بدن ہے۔ مگر اللہ کے نزدیک سب سے بڑی نیکی اللہ کے بندوں سے بھلائی ہے۔

دل بدست آرد کہ حج اکبر است

کسی کا دل جیت لینا اس کے ساتھ محبت کرنا بھلائی کرنا سب سے بڑا حج ہے۔ بار بار حج پر جانا اللہ کے حضور پیش ہونا اور حضور کریمؐ کے ہاں حاضری دینا ایک سعادت اور برکت ہے مگر دوسروںکا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ حج کے پیسوں سے کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا بھی حج کی طرح کی نیکی ہے۔ یہ کتنی بڑی حقیقت ہے کہ سرور کائناتؐ سرکار دوعالم رسول کریمؐ نے زندگی میں صرف ایک حج کیا تھا۔ کیا خوب بات ہے کہ مسلمان کا عمل عبادت ہے۔ عبادت عمل نہیں ہے۔

------------------------
بہ شکریہر وزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند