تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فلسفہ ٔ قربانی سمجھنے کی ضرورت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 10 ذوالحجہ 1436هـ - 24 ستمبر 2015م KSA 08:21 - GMT 05:21
فلسفہ ٔ قربانی سمجھنے کی ضرورت

قربانی کے حوالے سے اس وقت کچھ متضاد قسم کے رویے سامنے آرہے ہیں۔ بعض لوگ جو احکامِ شریعت کی فقہی حیثیت سے واقف نہیں۔ اپنے مزاج اور رائے کو شریعت کے تابع نہیں کرسکے، ان کاکہناہے کہ قربانی پر جو وسائل خرچ ہوتے ہیں وہ کسی فلاحی کام میں لگانے چاہئیں کہ اس وقت فلاحی کام کی عامۃ المسلمین کو بہت ضرورت ہے۔ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ فلاح حقیقی اور فلاح دارین تو اللہ کا حکم پورا کرنے سے ملتی ہے اور اللہ کا حکم تو یہ ہے قربانی کے تین دنوں میں جانور کا نذرانہ دینے سے بہتر کوئی عمل ایسا نہیں جو ابنِ آدم اللہ کی بارگاہ میں پیش کرسکے۔

سال کے ان مبارک دنوں کا افضل ترین عمل جو تمام قدیم شریعتوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا، اسے چھوڑ کر عقل و قیاس یا ہمدردی و خیرخواہی کے گھوڑے دوڑانا عقل کو بٹا لگانے کے مترادف ہے۔ اس سے بچنا چاہئے۔ قربانی پر اعتراض کرنے والوں کو خوفِ خدا کرنا چاہئے، کیونکہ قربانی ایک مستقل واجب، عبادت اورشعائر اسلام میں سے ہے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے 10 سالہ قیام میں ہر سال قربانی فرمائی۔ صحابہ کرامؓ،تابعینؒ، تبع تابعینؒ، ائمہ مجتہدینؒ، اسلاف ؒ اور اکابرؒ… غرض، پوری امت کا متوارث، متواتر اور مسلسل عمل بھی قربانی کرنے کا ہے۔

قرآن و حدیث میں قربانی کرنے کی بے حد فضیلت آئی ہے۔قرآن کی سورۃ الحج کی آیت 34 ہے۔ ترجمہ: ’’اور ہم نے ہر اُمت کےلئے قربانی اس غرض کےلئے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں، لہٰذا تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، چنانچہ اُسی کی فرماں برداری کرو، اور خوشخبری سنادو اُن لوگوں کو جن کے دل اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔‘‘ اسی طرح قرآن کی سورۃ الحج کی آیت نمبر 67 ہے: ’’ہم نے ہر اُمت کے لوگوں کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے، جس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں۔‘‘ اسی طرح سورۃ الکوثر کی آیت 2 ہے: ’’ لہٰذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لئے نماز پڑھو، اور قربانی کرو۔‘‘ قربانی کی فضیلت پر بے شمار احادیث بھی آئی ہیں، ان میں سے چند ایک احادیث ملاحظہ کیجیے۔

ترجمہ: ’’حضرت عائشہؓسے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ کے نزدیک قربانی کے دن بندوں کے تمام اعمال میں پسندیدہ ترین عمل جانور کا خون بہانا ہے اور بندہ قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت حاضر ہوگا۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اللہ کی بارگاہ میں شرف قبول حاصل کرلیتا ہے، لہٰذا تمہیں چاہئے کہ خوش دلی سے قربانی کرو۔ ‘‘ (ترمذی: 1/ 180) اسی طرح ایک اور حدیث ہے:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص استطاعت رکھنے، صاحبِ نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔‘‘ (ابن ماجہ: 226، مسند احمد)

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور اس عرصۂ قیام میں آپ مسلسل قربانی فرماتے رہے۔‘‘ (ترمذی: 182/1) امام ابن کثیر، امام رازی اور دیگر مفسرینؒ نے تصریح فرمائی ہے کہ خون بہا کر جانوروں کی قربانی کا دستور شروع دن سے ہی تمام اَدیان و مذاہب میں چلا آ رہا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں خصوصاً مسلم دنیا میں کتنی قربانیاں ہوتی ہیں، آئیے! اس کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔

اسلامی دنیا کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک انڈونیشیا ہے۔ اس کی آبادی ساڑھے 25 کروڑ ہے اور اس میں سے 1 کروڑ 8 لاکھ 40 ہزار لوگ ہر سال قربانی کرتے ہیں۔ اسلامی ممالک میں آبادی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر پاکستان ہے۔ آبادی قریباً 20 کروڑ اور ہر سال 1 کروڑ 22 لاکھ لوگ قربانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی آبادی 15 کروڑ 14 لاکھ اور 80 لاکھ 72 ہزار بنگالی ہر سال قربانی کرتے ہیں۔ مصر 8 کروڑ 5 لاکھ 24 ہزار آبادی اور 62 لاکھ 23 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ ترکی 7 کروڑ 46 لاکھ آبادی اور 48 لاکھ 20 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ ایران 7 کروڑ 38 لاکھ آبادی اور 21 لاکھ لوگ قربانی کرتے ہیں۔ مراکو 3 کروڑ 23 لاکھ آبادی اور 8 لاکھ 40 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ عراق 3 کروڑ 11 لاکھ آبادی اور 4 لاکھ 72 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ الجیریا 3 کروڑ 48 لاکھ آبادی اور 4 لاکھ 12 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ سوڈان 3 کروڑ 8 لاکھ آبادی اور یہاں 2 لاکھ 54 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ سعودی عرب 2 کروڑ 54 لاکھ آبادی اور یہاں حج کی وجہ سے سب سے زیادہ قربانی ہوتی ہے۔

قریباً 1 کروڑ 50 لاکھ 30 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ افغانستان 2 کروڑ 90 لاکھ آبادی اور 2 لاکھ 10 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ ازبکستان 2 کروڑ 68 لاکھ آبادی اور 1 لاکھ لوگ 60 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ شام 2 کروڑ 8لاکھ آبادی اور 1 لاکھ قربانی کرتے ہیں۔ کویت کی 5 لاکھ آبادی اور 98 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ ملائیشیا 1 کروڑ 70 لاکھ آبادی اور 95 ہزار قربانی کرتے ہیں۔ تونیسیا 1 کروڑ 34 لاکھ آبادی اور 87 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں اور یمن 2 کروڑ 8لاکھ آبادی اور 80 ہزار لوگ قربانی کرتے ہیں۔ یہ وہ بڑے بڑے اسلامی ممالک ہیںجن میں قربانیوں کی تعداد دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ ہے تا ہم دیگر اسلامی ممالک جیسے فلسطین، لیبیا، اردن، جبوتی، موریطانیہ، گیمبیا، تاجکستان، آذر بائیجان، ترکمانستان، قازقستان، کرغزستان، قطر، بحرین، عمان اور متحدہ عرب امارات جیسے درجنوں ممالک ہیں جن میں قربانی ہوتی ہے۔ اسی طرح بعض غیر مسلم ممالک میں بھی مسلمان قربانی کرتے ہیں۔ جیسے بھارت اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ بھارت کے 17 کروڑ مسلمانوں میں سے 1 کروڑ سے زائد لوگ قربانی کرتے ہیں۔ اب آپ چند لمحوں کے لیے رک جائیے اور درج بالا ممالک میں قربانیوں کے اعدادو شمار کا مجموعہ ملاحظہ کیجیے۔

یہ 6 کروڑ 20 لاکھ93 ہزار قربانی کرنے والے افراد بن جاتے ہیں۔ اگر اس میں دیگر تمام مسلم ممالک کے صرف 50 لاکھ اور غیرمسلم ممالک بالخصوص بھارت کے مسلمانوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ مجموعہ 7 کروڑ 70 لاکھ 93 ہزار بن جاتا ہے۔ ہم فرض کرتے ہیں یہ پونے 8 کروڑ لوگ مل کر 3 کروڑ جانور ذبح کرتے ہیں تو ان 3 کروڑ جانوروں کے گوشت کا اوسطاً مجموعی وزن کتنا ہوگا؟ ہم اس کو اس اندازے سے حل کرتے ہیں کہ چھوٹے اور بڑے جانور کا اوسط وزن 50 کلوگرام فکس کردیتے ہیں تو یہ ایک ارب 50 کروڑ کلو یعنی 3 کروڑ 75 لاکھ من گوشت بن جاتا ہے۔ اگر ہم اس گوشت کی فی کلو قیمت 500 روپے ہی رکھیں تو اس گوشت کی کل قیمت 7 کھرب 50 ارب بن جاتی ہے۔ اب ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں اور 3 کروڑ جانوروں کی کھالوں کا حساب لگاتے ہیں۔

ہم چھوٹی اور بڑی کھال کی اوسط قیمت 1800 روپے ہی رکھ لیتے ہیں تو اس کا مجموعہ 54 ارب روپے بن جاتے ہیں۔ جانوروں کی ہڈیاں اور آنتیں وغیرہ بھی فروخت ہوتی ہیں، لیکن ہم ان کو شمار میں نہیں لارہے۔ یوں امت مسلمہ ہر سال 8 کھرب اور 4 ارب کی قربانی کرتی ہے۔ یاد رکھیں! ہر صاحبِ نصاب پر قربانی واجب ہے۔ استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سخت ناراضی کا اظہار فرمایا ہے حتیٰ کہ اس کا عیدگاہ کے قریب آنا بھی پسند نہیں فرمایا۔ قربانی درج ذیل 6 شرطوں سے واجب ہوتی ہےـ:’’ مسلمان ہونا، مقیم ہونا، آزاد ہونا، بالغ ہونا، عاقل ہونا، صاحب نصاب ہونا۔ــ‘‘ بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ فرضیت ِزکوٰۃ اور وجوب ِقربانی کا نصاب ایک ہی ہے۔ ہم پر چونکہ زکوٰۃ فرض نہیں، لہٰذا قربانی بھی واجب نہیں، حالانکہ دونوں کا نصاب الگ الگ ہے۔ اپنے علاقے کے کسی مستند عالم دین سے یہ مسئلہ سمجھ لینا چاہئے۔ 

----------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند