تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قصائی اِن ایکشن!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 11 ذوالحجہ 1436هـ - 25 ستمبر 2015م KSA 10:11 - GMT 07:11
قصائی اِن ایکشن!

ہم سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں سے تین دن بکروں کے درمیان گزارتے ہیں،مگر ایک دوست کا کہنا ہے کہ یہ سب نظر کا دھوکا ہے، ہم دراصل پورا سال ہی بکروں اور بکریوں کے ساتھ بسر کرتے ہیں۔ خیر ان فروعی اختلافات میں پڑے بغیر میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے ماضی میں کیسا کیسا بکرا اور کیسی کیسی بکری دیکھی ہے؟ بڑے بڑے قد آور بکروں کو میں نے دیکھا کہ چھری کے سامنے بکری بن گئے بلکہ ایک دفعہ تو ایک عجیب منظر نظر آیا۔ میرے ایک دوست نے پانچ چھ بکرے قربانی کے لئے قطار اندر قطار کھڑے کئے ہوئے تھے، جب پہلے بکرے پر چھری پھیری گئی تو اس کے برابر میں کھڑے بکرے نے منہ دوسری طرف پھیر لیا، جب اس پر چھری چلی تو تیسرے بکرے نے منہ پھیر لیا، حتیٰ کہ ایک ایک کر کے سارے بکرے چھری تلے آتے گئے اور دوسرے منہ پھیرتے گئے حتیٰ کہ ایک ایک کر کے سبھی چشم پوشی کے طفیل اپنے منکے تڑوا بیٹھے تھے۔

ان دنوں ایک بات میں نے یہ بھی نوٹ کی کہ بعض لوگوں نے قربانی کے معاملے میںخسَّت کا ثبوت نہیں دیا بلکہ جس کی جتنی توفیق تھی، اس کے مطابق وہ اس کارخیر میں شریک ہوا، چنانچہ بیس ہزار روپے سے لے کر ستر اسّی ہزار روپے تک کی مالیت کے بکروں کی قربانی دی گئی اور آپ یقین جانیں یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے حقیقی مسرت ہوئی ورنہ مجھے تو یہ شبہ گزرنے لگا تھا کہ ہماری قوم میں اب قربانی دینے کا جذبہ ہی نہیں رہا، مگر بحمد للہ ایسی کوئی بات نہیں، بلکہ آج بھی اگر قربانی کی ضرورت پڑے تو ہم فوراً قربانی کے بکروں کو آگے کر دیتے ہیں!

ویسے ان بکروں کو میں نے دیکھا ہے کہ طبعاً شریف النفس واقع ہوئے ہیں، عید سے ایک روز پہلے جب میں بکرا خریدنے کے لئے بازار گیا تو ایک ریوڑ دیکھا جس میں سینکڑوں بکرے ایک دوسرے سے کاندھے سے کاندھا ملائے اور گردنیں جھکائے چلے جا رہے تھے، ریوڑ کے مالک نے مجھے دیکھا تو بکروں کو رک جانے کا اشارہ کیا، چنانچہ سینکڑوں بکرے گردنیں جھکا کر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے۔ میں نے ان بکروں کو ٹٹولنا شروع کیا، ان کی پسلیوں میں اپنی انگلیاں چبھوئیں، ان کا منہ کھول کر ان کے دانت دیکھے اور اس طرح کے باقی اشاروں کنایوں سے انہیں سمجھایا کہ میں ذبح کرنے کے ارادے سے، انہیں خریدنے آیا ہوں مگر ان کے صبر و تحمل کے کیا کہنے، وہ اسی طرح سر جھکائے کھڑے رہے حتیٰ کہ میں نے ایک بکرے پر انگلی اور پیسے مالک کی ہتھیلی پر رکھ دیئے جس پر اس نے مطلوبہ بکرے کو کان سے پکڑ کر ریوڑ میں سے الگ کیا اور میرے سپرد کر دیا۔ اس وقت میرے ذہن میں ایک بات آئی اور وہ یہ کہ ایسے شریف النفس بکروں کی ماں بھلا کب تک خیر منا سکتی ہے؟

اور ہاں، اس عید پر میں نے ایک اور کاروبار بھی عروج پر دیکھا اور وہ قربانی کے بکروں کا کڑاہی گوشت اور ران روسٹ کرنے کا کاروبار ہے، میں نے اس مضمون کے بینرز جگہ جگہ دیکھے کہ ہم ارزاں نرخوں پر ران روسٹ کرتے ہیں اور کڑاہی گوشت بناتے ہیں چنانچہ اس دفعہ بکروں کی رانیں او رگوشت فریزر میں کم اور تپتی ہوئی آگ پر شاید زیادہ جائیں۔ یار لوگ اسکوٹروں اور کاروں کی ڈگیوں میں رانیں بھر بھر کے ان مقامات پر لائیں گے اور میں ان کی یہ مصروفیت دیکھ کر ایک بار تو خوش ہوا کہ چلو بالآخر ترقی کا ایک مرحلہ یہ بھی طے ہوا، اگلے برس اللہ نے چاہا تو بازاروں میں سالم بکرے بھوننے کے بینرز لگے ہوں گے اور قربانی کا گوشت ادھر سے ادھر کرنے کا جو رواج ہے، اس سے بھی جان چھوٹے گی۔ اس دفعہ ایک بات میں نے یہ بھی نوٹ کی کہ یوں تو قصائیوں کی پذیرائی ہر دور میں ہوتی ہے مگر اس بار تو میں نے انہیں پہلے سے کہیں زیادہ ذیشان پایا۔

عید سے کئی روز پہلے ان سے پبلک ریلیشنگ شروع کر دی گئی چنانچہ عید کی نماز سے پہلے تو ان کے گرد وہ ہجوم اکٹھا ہو گا کہ لگے گا مرشد کے گرد مرید جمع ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اس امر کا خواہشمند ہوگا کہ عید کی نماز کے فوراً بعد اس کا بکرا ذبح کیا جائے۔ میرا قصائی مجھ پر بہت مہربان تھا، اس نے عید سے ایک دن پہلے بھرے مجمع میں مجھے آنکھ ماری اور سر کو ہلکی سی بائیں جانب جنبش دی جس کا مطلب تھا کہ جا بچّے ، تیرا کام ہو گیا ہے۔ اب جا کر بکرے کو پانی پلا، اس کے سر پر ہاتھ پھیر، اس کا ماتھا چوم، ہم کل چھری لے کر تیری طرف پہنچ جائیں گے۔ سو آج صورتحال یہ ہے کہ جس گھر میں قصائی چھری لے کر داخل ہوتا ہے اس گھر کے بھاگ جاگ اٹھتے ہیں۔ آج تو یوں لگتا ہے کہ پوری قوم قصائیوں کی محبت میں گرفتار ہو گئی ہے۔ جب یہ بات میں نے اپنے دوست سے کہی جس نے کہا تھا کہ ہم سال میں تین دن نہیں بلکہ پورا سال بکروں اور بکریوں کے درمیان بسر کرتے ہیں، تو اس نے ایک بار پھر نفی میں سر ہلایا اور کہا ’’ہم لوگ سال میں ایک دن نہیں، بلکہ وقفے وقفے کے بعد اپنی پوری تاریخ میں قصائیوں کی محبت میں گرفتار نظر آتے ہیں! یقین نہ آئے تو تاریخ کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لو!‘‘
--------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند