تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نیپال : بھارت پھونک پھونک کر چلے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 11 ذوالحجہ 1436هـ - 25 ستمبر 2015م KSA 09:56 - GMT 06:56
نیپال : بھارت پھونک پھونک کر چلے!

نیپال میں نئے آئین کے اعلان کا دن ویسا کیوں نہیں ہو سکتا تھا جیسا کہ دیگر ملکوں میں سدا ہوتا ہے۔ نیپال کے نئے آئین کے اعلان کے پہلے روز چالیس لوگ مارے گئے اور ابھی مدھیس میں مظاہروں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ صدر رام برن مادھو خود مدھیسی ہیں۔ انہوں نے اس آئین کو سر آنکھوں پر رکھا اور اس پر دستخط کیے۔ پھر بھی کیا وجہ ہے کہ آئین سبھا کے 601 ممبروں میں سے 85 فیصد ممبران نے اسکی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ سبھی مدھیسی اور تھارو 60 ممبروں نے اسکا بائیکاٹ کیا؟

اس بائیکاٹ کی تین خاص وجوہ ہیں۔ پہلی : اس آئین میں پورے نیپال کو صرف سات صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اگر صوبوں کی تعداد بڑھا دی جاتی تو یہ آئین حقیقت میں زیادہ طاقتور بن جاتا۔ اب تک محروم رہنے والوں کو لگتا کہ اقتدار میں انکا بھی حصہ ہے ۔ دوسری جو سات صوبے بنائے گئے ہیں انکی حدود میں بھی ایسی کاٹ چھانٹ کی گئی ہے کہ پہاڑیوں کے مقابلے مدھیسیوں کو اور تھاروی کی آدم شماری برابر ہونے پر بھی انکو نشستیں کافی کم ملیں گی۔ تیسری : ریزرویشن نشستوں میں کچھ گھپلے کا شک ہے۔ جو سیٹیں صرف محروموں کے لیے رکھی جانی تھیں، ان میں کچھ پہاڑی ذات والوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ نیپال میں پہاڑی لوگ سب سے زیادہ طاقتور اور خوشحال ہیں۔

اگر مدھیسی اور تھارو لوگوں کو انصاف نہیں ملے گا، تو نیپال میں کہرام مچ جائے گا۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ اقلیتی ہیں، لیکن وہ بھی ماؤوادیوں کی طرح تشدد کا راستہ پکڑ سکتے ہیں۔ وہ جس علاقے میں بسے ہوئے ہیں یعنی ترائی کا علاقہ، وہ بھارت سے لگا ہوا ہے۔ اگر تشدد کے سبب ہجرت ہوتی تو لاکھوں لوگ بہار اور یو پی میں بھر جائیں گے۔ بھارت کے لیے نیا سر درد کھڑا ہوجائے گا۔ اسی لیے خارجہ سیکرٹری کو وزیر اعظم مودی نے نیپال بھیجا تھا۔ ان حالات میں انہیں تو خالی ہاتھ واپس لوٹنا ہی تھا۔ کوئی افسر کتنا ہی قابل ہو، لیڈروں کے آگے انکی حیثیت کیا ہوتی ہے؟ ظاہر ہے کچھ بھی نہیں۔ اس لئے بھارت سرکار کو نئے نیپالی آئین کا گرم نرم خیر مقدم کرنا پڑا ہے۔ مودی اور سشما سوراج کو چاہیے تھا کہ وہ نیپالی لیڈروں سے خود بات کرتے ، یا ایسے لوگوں کو کھٹمنڈو بھیجتے جو تجربہ کار ہوں۔ جو نیپالی لیڈروں کو اچھا طرح سے جانتے ہوتے اور ان سے کسی بھی معاملے میں دوٹوک بات کر سکتے۔ اب بھی وقت ہے کہ اس سلسلے میں کچھ ٹھوس کر لیا جائے۔ نیپال می سات صوبوں کو اگلے برس حقیقی شکل دی جائے گی۔

بھارت چاہے تو ایک مددگار ثالث کا کردار نبھا سکتا ہے۔ اگر ہم نے اس سلسلے مین م ناسب طور پر خبردار ہو کر کام نہ کیا تو ہمارے سر پر مداخلت کار بھارت کا کالا داغ لگا دیا جائے گا، جسے صاف کرنا آسان نہ ہوگا، اس لیے بھارت کو نیپال میں آئین کے نفاذ کے معاملے مٰں پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھانا ہوں گے۔

ریزرویشن: بھاگوت کا درست مشورہ

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیان کا مین تہ دل سے خیر مقدم کرتا ہوں۔ انہوں نے وہی بات کہنے کی ہمت دکھائی جو مین گزشتہ کئی برسوں سے لکھ رہا ہوں ،اور کہہ رہا ہوں۔ موہن بھاگوت جی نے یہی تو کہا ہے کہ ریزرویشن پر دوبارہ بحث ہوتا کہ حقیقی اور محروم لوگوں کو اسکا فائدہ ہو۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ریزرویشن ہی ختم کر دو۔ انکی بات کو ذرا دھیان سے سمجھیں تو اسکا مطلب یہی نکلے گا کہ ریزرویشن کو ضرور بناؤ تاکہ وہ ضرورت مند لوگوں کیلئے مفید ثابت ہو سکے۔ انہوں نے جیسا کمیشن بنانے کی بات کہی ہے، وہ دانش مندانہ ہے۔ انہوں نے ریزرویشن سے سیاسی فائدے اٹھانے کو غیر واجب بتایا ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ اس میں موہن جی نے غلط کیا کہا ہے؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ موہن جی کی بات سے سب سے زیادہ مرچی کس کو لگی ہے؟ ملائی دار لیڈروں کو! محروموں کے ملائی دار طبقوں میں سب سے زیادہ ملائی مارنے والے لیڈر بوکھلا گئے ہیں۔ انہیں خوف محسوس ہو رہا ہے کہ کہیں انکی دکانوں پر تالے نہ پڑ جائیں۔ انکی دکان میں صرف ایک ہی سڑی ربڑی بکتی ہے جسکا نام ہے ذات پات۔ اگر ذات پات ختم ہو گئی تو یہ لیڈر بیچارے بھوکے مر جائیں گے۔ انہیں ووٹ کون دے گا؟ انکی طرف توجہ کون کرے گا؟ یہ اپنی ایمانداری سادگی اور اہلیت کے حوالے سے سارے ملک میں مشہور ہو چکے ہیں۔ محروموں ، جنگلوں میں رہنے والوں اور شیڈول کاسٹ والوں کو بھی پتا چل چکا ہے کہ انکے لیے پیدا ہونے والے مواقع پر جھپٹا مارنے والا طبقہ کونسا ہے؟

وہ جان چکے ہیں کہ انکے لیڈر ہی انکی پشت پر چھرا بھونکنے کا کام کر رہے ہیں۔ وہ لوگ کسی کے رحم اور خیرات پر زندہ نہیں رہنا چاہتے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس لائق بنیں کہ نوکریاں خود چل کر انکے پاس آئیں ۔ یہ تبھی ہو سکتا ہے جب انکے بچے تعلیم یافتہ ہوں گے۔ اگر تعلیم میں انہیں سو فیصد ریزرویشن ملے گا، تو نوکریاں انہیں اپنے آپ ملیں گی۔ اگر وہ تعلیم حاصل نہیں کریں گے تو انہیں ریزرویشن والی نوکری بھی کون دے گا؟ تعلیم میں ریزرویشن ان سب کو ملے گا جو غریب ہیں ، محروم ہیں، ضرورت مند ہیں، ذات کی بنیاد پر نہیں، ضرورت کی بنیاد پر ریزرویشن ملے گا، اس نئے انتظام میں کوئی دلت، کوئی جنگلی، کوئی محروم، کوئی بیک ورڈ کلاس چھوٹے گا نہیں۔ ان میں صرف جو ملائی دار لوگ ہیں، وہ چھوٹ جائیں گے۔ موہن جی تو اتنے دور بھی نہیں گئے ہیں۔ انہوں نے تو صرف اشارہ کیا ہے۔ نئی سوچ کی ضرورت بتائی ہے۔ گجرات میں پٹیلوں، مہاراشٹر میں مراٹھوں، ہریانہ میں جاٹوں اور راجستھان میں گوجروں کی تحریک نے بھی اس ضرورت میں محدود کیا ہے۔ ریزرویشن کی اٹ پٹے بندوبست کے سبب بھارت کی مختلف ذات پات والوں کے بیچ کہیں خانہ جنگی نہ پیدا ہو جائے، اس خطرے کو پیش نظر رکھ کر سرکار اور سارے ملک کو موہن جی کے مشورے پر دھیان دینا چاہیے۔
-------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند