تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تاریخ کی اسیری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 شوال 1440هـ - 20 جون 2019م
آخری اشاعت: بدھ 16 ذوالحجہ 1436هـ - 30 ستمبر 2015م KSA 13:36 - GMT 10:36
تاریخ کی اسیری

پاکستان اور افغانستان کا باہمی تعلق بھائیوں جیسا نہیں ہے۔ اشرف غنی صاحب نے وہ بات زبان قابل سے کہہ دی جو تاریخ زبان حال کہلاتی آئی ہے۔ سعودی عرب اور ایران بھی بانداز دگر یہی کہہ رہے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ہم نے تاریخ کی بات سمجھی نہ اشرف غنی صاحب کی سمجھ پائیں گے۔

قندوز پر طالبان کا قبضہ پاکستان اور افغانستان کے مابین بڑھتے فاصلوں میں اضافہ کرے گا۔ کابل سے واشنگٹن تک اس کامیابی کا سہرا پاکستان ہی کے سر سجے گا۔ نتیجتا اسکا وبال بھی ہمارے سر ہوگا۔ یہ تاریخ کا جبر ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت معلوم ہوتا ہے کہ ہم تلاش نہیں کر پائے۔ کشمیر پر وزیر اعظم نواز شریف صاحب کا حالیہ موقف بھی یہ بتا رہا ہے کہ صرف افغانستان ہی نہیں، ہم کسی معاملے میں بھی تاریخ کا رخ موڑنے پر قادر نہیں ہیں۔ مزید بدقسمتی یہ ہے کہ دوسری طرف صف آرا بھی اسی جبر کا شکار ہیں۔ یہ نریندر مودی ہوں یا اشرف غنی، سب اسی کے اسیر ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس خطے کے عوام کو بھی ابھی مزید جبر سہنا ہے۔ انہیں افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں مرنا ہے یا عالمی قوتوں کی پشت پناہی سے قائم حکومت کے ہاتھوں۔ اسی طرح اہل کشمیر پاکستان اور بھارت کی باہمی آویزش کی نذر ہو رہے ہیں۔ دونوں کا دعویٰ ہے کہ دوسرا لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اسکا فیصلہ جو بھی ہو ایک فیصلہ تو تاریخ رقم کر چکی۔ دونوں اطراف کشمیری مر رہے ہیں۔ انکے پاس اس وقت یہی انتخاب ہے ۔ وہ بھی اسی تاریخی جبر کے اسیر ہیں۔

انسانی تاریخ کا کہنا ہے کہ دنیا میں قیادت کے منصب پر دو طرح کے لوگ فائز رہے ہیں۔ ایک وہ جو تاریخ کے جبر سے آزاد ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ جو تاریخ کے جبر کے اسیر ہوتے ہیں۔ پہلی صف میں تھوڑے لوگ کھڑے ہیں۔ اکثریت دوسری صف میں ہے۔ اس لیے ہزاروں سالوں میں تاریخ نے بہت کم رخ بدلا ہے۔ اسکا دھارا ایک خاص رو میں بہتا اور پھر بہتا چلا جاتا ہے۔ سیاست، علوم، فنون ، ہر میدان میں یہی عالم ہے۔ تاہم ایک خاص وقفے کے بعد انسان کا تہذیبی ارتقا پکار پکار کر تبدیلی کو آواز دیتا ہے۔ وہ زبان حال سے اعلان کرتا ہے کہ اب پامال راستوں پر مزید سفر ممکن نہیں رہا۔ ذہین لوگ اسکی پکار کو سنتے اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ تبدیلی کہاں ضروری ہے اور کیوں؟ دوسرے تبدیلی کی ضرورت کو محسوس تو کرتے ہیں مگر یہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ نبض پر ہاتھ رکھ کر متعین طور پر تبدیلی کا مقام بنا سکیں۔ وہ بالفعل تبدیلی کو مان لیتے ہیں مگر انکا فتویٰ تبدیلی کے خلاف ہی ہوتا ہے۔ اس سے شخصیت میں جو تضاد پیدا ہوتا ہے، وہ قوموں کو ابہام کے حوالے کر دیتا ہے اور یوں وہ تاریخ کے قافلے سے بچھڑ جاتی ہیں۔ اس خطے کے مکینوں کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔

گزشتہ ساٹھ ستر سال کے عرصے میں جنوبی ایشیا میں دو بڑے واقعات ہوئے۔ ایک برصغیر کی تقسیم اور دوسرا افغانستان پر سوویت یونین کا حملہ۔ اس خطے کے کروڑوں عوام انکے منفی اثرات کی زد میں ہیں۔ سوویت یونین تو اسکی قیمت ادا کر کے ایک بھولی بسری داستان بن چکا۔ افغانستان پر البتہ جو زخم لگا، وہ ابھی تک ایسا تازہ ہے کہ اسکی سرزمین انسانی لہو سے مسلسل رنگین ہے۔ یہ طالبان کا لہو ہو یا صف کی دوسری طرف کھڑے افغانوں کا، ہے تو انسانی لہو۔ اب تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زمین کو اگر انسانی لہو نہ ملا تو بنجر ہوجائے گی۔ کچھ یہی معاملہ سرزمین کشمیر کا بھی ہے۔ ہر جگہ فریقین موت کو گلیمرائز کرتے ہیں مگر مردے کو جتنا سرخی پاؤڈر لگا لیں، اس میں روح تو نہیں پھونکی جا سکتی۔ آج یہ خطہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اسے تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ زمین ایک حد سے زیادہ انسانی لہو کا متحمل نہیں ہو سکتی۔ ایک وقت آتا ہے کہ وہ اسے اگل دیتی ہے۔ افسوس کہ ابھی یہاں وہ قیادت پیدا نہیں ہوئی جو تبدیلی کی اس پکار کو سن سکے۔

اشرف غنی صاحب کا بیان اور طالبان کی فتح، دونوں اس بات کا اعلان ہیں کہ ابھی امن اس خطے سے بہت دور ہے۔ سرحد کے دونوں طرف کوئی ایسا فرد موجود نہیں ہے جو تاریخ کا رخ بدلنے کی خواہش رکھتا ہے یا اسکی صلاحیت۔ پاکستان جانتا ہے کہ پشاور میں ہونے والے دونوں انسانیت سوز واقعات میں ملوث لوگ افغانستان میں بیٹھے ہیں۔ افغانستان میں لوگوں کی بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ وہاں برپا فساد کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ قومی ریاست کا ایک المیہ یہ ہے کہ ریاست کے موقف کی تائید ہی حب الوطنی ہے۔ یوں کوئی خود کو غدار نہیں بنانا چاہتا۔ اس طرح فریقین کا موقف تبدیل نہیں ہوتا اور عوام اسکا کشتہ بنتے رہتے ہیں۔ اشرف غنی صاحب سے ہم نے امیدیں وابستہ کیں کہ یہ حامد کرزئی صاحب سے مختلف ہوں گے۔ معلوم ہوا کہ افغانستان کی سیاست کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ پاکستان کے مخالف دکھائی دیں۔ گویا آپ تاریخ کے اسیر رہیں۔ اشرف غنی صاحب نے بھی اسی روش کو اپنا لیا ہے۔ انہوں نے بتا دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے لوگ بھائی نہیں، دو مختلف ریاستوں کے شہری ہیں۔ اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ افغانستان میں اب پاک افغان دوستی کا نعرہ سیاسی افادیت کھو چکا۔

اسی طرح کی تبدیلی ہمیں پاکستان میں نواز شریف صاحب کے ہاں بھی ملتی ہے۔ 1998ء میں ہمیں یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ شاید یہ وہ آدمی ہے جو اس خطے کو تاریخ کی اسیری سے نکال سکتا ہے۔ کچھ ایسا ہی تاثر واجپائی صاحب نے بھی دیا تھا۔ آج معلوم ہوا کہ وہ محض ایک خواب تھا۔ واجپائی صاحب کی جگہ مودی صاحب نے لے لی اور نواز شریف صاحب نے خود ہی اپنے گزشتہ موقف سے رجوع کر لیا۔ اسکا مفہوم اسکے سوا کچھ نہیں کہ ابھی جنوبی ایشیا کو مزید تاریخ میں جینے کا فیصلہ کیا۔ آج یورپ عالمی جنگوں کی قید سے آزاد ہو چکا۔ دوسری طرف جنوبی ایشیا کے ساتھ مشرق وسطی بھی تاریخ کا اسیر ہے۔ یوں یہ دونوں علاقے اس وقت فساد کا گھر ہیں۔ وقت کے سب سے بڑے مقتل یہیں آباد ہیں۔ صرف عراق میں گزشتہ چار سال میں کم و بیش تین لاکھ پچاس ہزار افراد مارے گئے۔ اس سے قبل امریکہ کی آمد کے بعد جو لوگ مارے گئے، وہ اس کے علاوہ ہیں۔ جنوبی ایشیا کے مقتولین کی تعداد تو ہم سب جانتے ہیں۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں تھی۔

اس خطے کو بدلنا ہے تو اسے تاریخ کی اسیری سے نکالنا ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اسے 1947ء کی نفسیاتی فضا سے نکال سکے۔ قائد اعظم اور گاندھی دونوں یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہاں کے لوگ ہمیشہ ایک تلخی کی گرفت میں رہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو قائد اعظم کبھی باہمی تعلقات کے مستقبل کو امریکہ اور کینڈا کے تعلقات کے مماثل ہونے کی خواہش کرتے اور نہ سرحد پار رہ جانے والے مسلمانوں کو بھارت کا وفادار شہری بننے کو مشورہ دیتے۔ اسی طرح گاندھی بھی پاکستان کے اثاثوں کیلئے بھوک ہڑتال نہ کرتے۔

پاکستان اور افغانستان کو بھی سوچنا ہے کہ انہیں کب تک 1979ء کے واقعات کا اسیر رہنا ہے۔ 1947ء اور 1979ء کے واقعات میں دو سبق پوشیدہ ہیں جنہیں اب زبان قال سے کہا جا رہا ہے۔ ایک یہ کہ ریاستوں کے باہمی تعلقات بھائیوں کی طرح نہیں ہوتے۔ دوسرا یہ کہ تاریخی واقعات کی اسیری کی ترقی میں مانع ہوتی ہے۔ جو رہنما ان اصولوں کی روشنی میں سیاست کرے گا، وہی اس خطے کا مقدر بدلے گا۔ اس وقت تک اشرف غنی اور مودی پر گزارا کریں۔ آپ اس فہرست میں حسب توفیق اضافہ کر سکتے ہیں۔

--------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند