تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی میں ایک بار پھر انتخابی مہم کا آغاز.
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 16 ذوالحجہ 1436هـ - 30 ستمبر 2015م KSA 13:46 - GMT 10:46
ترکی میں ایک بار پھر انتخابی مہم کا آغاز.

ترکی میں 7 جون 2015ء کے عام انتخابات کے دوران کسی کو بھی اس بات کی توقع نہ تھی کہ برسر اقتدار جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) تنہا حکومت بنانے کے بھی قابل نہ ہوگی۔ اگرچہ اس جماعت کو پہلے جتنی مکمل اکثریت حاصل کرنے کی تو امید نہ تھی لیکن عام خیال یہی تھا کہ اس بار یہ جماعت صرف سادہ اکثریت ہی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے گی۔ اگرچہ آق پارٹی نے 41 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے لیکن اس کو صرف 258 نشستیں حاصل ہوئیں جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والی ری پبلیکن پیپلز پارٹی (CHP) نے 25 فیصد ووٹ حاصل کئے اور اس کو آق پارٹی سے سات ملین کم ووٹ پڑے۔

آق پارٹی 41 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے باوجود بھی مکمل اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہی تھی ۔ اس کی وجہ اس بار مزید تین جماعتوں کا پارلیمنٹ میں مقررہ حد Electoral threshold کو عبور کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی نشستیں حاصل کرنا تھا ۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کا آق پارٹی کے خلاف غیر اعلانیہ اتحاد تھاتاکہ اسے مکمل اکثریت حاصل کرنے سے روکا جاسکےتاہم ان کا یہ اتحاد قومی اسمبلی کے اسپیکر کے انتخاب تک بھی جاری نہ رہ سکا اور یہ اتحاد کسی قسم کی کوئی مخلوط حکومت تشکیل دئیے بغیر ہی اپنے انجام کو پہنچا۔ حزبِ اختلاف کی ان تینوں جماعتوں نے ساٹھ فیصد کے لگ بھگ ووٹ حاصل کئے تھے لیکن اسکے باوجود یہ جماعتیں مخلوط حکومت قائم کرنے میں ناکام رہیں۔

صدر ایردوان نے 9 جولائی کو آق پارٹی کے چئیرمین احمد داؤد اولو کو نئی حکومت تشکیل دینے کیلئے اختیارات سونپے اور احمد داؤد اولو نے چالیس روز تک حکومت تشکیل دینے کیلئے قومی اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مذاکرات کئےلیکن وہ بھی مخلوط حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہے جس پر صدر ایردوان نے یکم نومبر 2015ء کو قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔ اور اس دوران ملک میں آئین کی رو سے عبوری حکومت تشکیل دی گئی جو یکم نومبر کو ہونے والے عام انتخابات تک قائم رہے گی۔ عبوری حکومت میں پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو انکے اراکین کی تعداد کے تناسب سے وزارتیں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن CHP اور MHP نے فوراً ہی عبوری حکومت میں شامل ہونے سے انکار کردیا جبکہ HDP کے جن دو اراکین کو وزارتیں سونپی گئیں انہوں نے چند روز فرائض ادا کرنے کے بعد اپنے عہدوں سے استعفے دے دیا اور اس طرح یہ عبوری حکومت اس وقت آق پارٹی کے چند وزرا اور غیر جانبدار اراکین پر مشتمل اپنے فرائض ادا کر رہی ہے۔

عام انتخابات سے قبل ترکی کی کئی ایک فرموں نے تمام سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کے بارے میں سروے کروانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ کروائے جانے والے ان تمام سروئیز سے پتہ چلتا ہے کہ آق پارٹی کے ووٹوں میں دو سے چار فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت جن دس فرموں نے سروے کروائے ہیں ان میں سے کئی ایک کے مطابق آق پارٹی کو چوالیس فیصد اور چند ایک کے مطابق 38 فیصد ووٹ حاصل ہونگے جبکہ دوسرے نمبر پر موجود ری پبلیکن پیپلز پارٹی کو 27 اور 25 فیصد کے لگ بھگ ووٹ پڑنے کی توقع ہے اور ملک کی تیسری بڑی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی MHP کو اٹھارہ سے تیرہ فیصد کے لگ بھگ ووٹ پڑنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ان سروے میں سب سے دلچسپ صورتِ حال سات جون کے انتخابات میں پہلی بار پارلیمنٹ میں نشستیں حاصل کرنے والی کردوں کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی ہے۔ ستمبرکےسرو ے کے مطابق اس کو تیرہ فیصد سے دس فیصد ووٹ پڑنے کے امکانات ہیں۔ دو فرموں نے اس جماعت کے بمشکل ہی پارلیمنٹ میںجگہ بنانے کیلئے دس فیصد کی حد عبور کرتے ہوئے دکھایا ہے تاہم عام تاثر یہ ہے کہ سات جون کے عام انتخابات میں HDP کو تین فیصد کے لگ بھگ ووٹ CHP کے ووٹروں نے صرف آق پارٹی کو کلی اکثریت حاصل ہونے سے روکنے کیلئے دئیے تھے ۔ CHP کا یہ حربہ بعد میں اس جماعت کے گلے پڑگیا اور اس پر لعنت ملامت بھی کی گئی کیونکہ HDP نے کامیابی کے بعد دہشت گرد تنظیم " PKK" کے ساتھ مل کر ملک میں ایک بار دہشت گردی کا بازار گرم کردیا اور اس کے ساتھ ساتھ با لواسطہ طریقے سے CHP کے ووٹ HDP کو جانے سے CHP کے اندر بھی بے چینی محسوس کی جانے لگی تھی اسلئےCHP کی جانب سے آئندہ نومبر میں ہونیوالے انتخابات میں تمام اراکین کو خبردار کردیا گیا ہے۔

CHP کے اس فیصلے کا سب سے زیادہ فائدہ بلا شبہ آق پارٹی ہی کو پہنچے گا کیونکہ HDP کے پارلیمنٹ تک پہنچنے کی دس فیصد کی حد عبور نہ کئے جانے کی صورت میں اس جماعت کو ملنے والی اسی فیصد نشستیں براہ راست پہلے نمبر پر آنے والی جماعت کو یعنی آق پارٹی کو اور باقی بیس فیصد دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والی جماعت CHP اور MHP کو منتقل ہو جائیں گی اور آق پارٹی کلی اکثریت حاصل کرتے ہوئے ایک بار پھر تنہا حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیگی۔ اگر یکم نومبر 2015ء کے عام انتخابات میں صورتحال سات جون 2015ء کے عام انتخابات جیسی رہتی ہے تو پھر آق پارٹی کیلئے مخلوط حکومت تشکیل دینے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہ بچے گا۔

آق پارٹی کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے کسی دیگر جماعتوں کے ساتھ مخلوط حکومت تشکیل دینے پر مجبور ہو جاتی ہے تو وہ صرف ایک سال کیلئے حکومت تشکیل دینے کو ترجیح دے گی اور اگلے سال ملک میں ایک بار پھر انتخابات کروانے کیلئے فضا سازگار بنائے گی اور اس عرصے کے دوران صدر ایردوان صدارت چھوڑتے ہوئے دوبارہ پارٹی کی قیادت سنبھال سکتے ہیں اور پھر ان کی قیادت ہی میں آق پارٹی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کرسکتی ہےکیونکہ آق پارٹی کے ووٹرز کی بڑی تعداد اب بھی ایردوان کو حکومت کے سربراہ کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ اب ملک میں صدارتی نظام قائم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

اسی دوران آق پارٹی کی جانب سے انتخابی مہم کیلئے جو نغمہ یا ترانہ منتخب کیا گیا ہے اس کا آغاز ’’بسم اللہ‘‘ سے ہوتا ہے اور CHP نے ایک سیکولر پارٹی ہونے کے ناطے آق پارٹی کے اس ترانے پر پابندی لگوانے کیلئے انتخابی کمیشن سے رجوع کیا اور کمیشن نے فوری طور پر اس ترانے کومذہب کا نام استعمال کرنے کی وجہ سے روک دیا ہے اور خیال یہی ہے کہ انتخابی کمیشن کی جانب سے اس ترانے کے انتخابی مہم کے دوران استعمال پر پابندی لگا دی جائے گی لیکن CHP کے ایسا کرنے سے فائدہ آق پارٹی ہی کو پہنچے گا کیونکہ CHP نے اس سے قبل طویل عرصے تک سیکولرازم کے نام پر ہیڈ اسکارف پر پابندی لگوا رکھی تھی اور آق پارٹی نے اس پابندی کو ختم کروانے کا وعدہ کرتے ہوئے ہی عوام سے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کئے تھے.

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار آق پارٹی ’’بسم اللہ‘‘ سے شروع ہونے والے انتخابی نغمے پر پابندی سے اپنے ووٹوں میں اضافہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں؟ ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے HDP کی پوزیشن کمزور ہوتی جارہی ہے تو MHP اس صورتحال کو اپنے حق میں کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ دہشت گردی کے ان واقعات سے آق پارٹی کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے اور اگر فوری طور پر دہشت گردی کے ان واقعات پر قابو نہ پایا گیا تو آق پارٹی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ آق پارٹی کو جنوب  مشرقی اناطولیہ میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کرنا ہے تو علاقے میں HDP کی جانب سے پید ا کردہ خوف و ہراس کی فضا کو ختم کرتے ہوئے شفاف ووٹنگ کا بندو بست کرنا ہوگا۔

------------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند