تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آرڈر آرڈر!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 17 ذوالحجہ 1436هـ - 1 اکتوبر 2015م KSA 11:23 - GMT 08:23
آرڈر آرڈر!

وکلاء کے اعلیٰ ترین دو اداروں پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کونسل نے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے الوداعی ڈنر اور ریفرینس کا بائیکاٹ کیا۔ یہ روایت تھی کہ رخصت ہونیوالے جج کو وکلاء برادری کی طرف سے ایک پروقار تقریب میں شاندار تکریمی الفاظ میں الوداع کہا جاتا تھا۔ اس تقریب میں وہ وکلاء بھی شامل ہوتے تھے جن کیخلاف کسی جج نے حتمی فیصلے صادر فرمائے ہوتے تھے۔ بعض اوقات ان وکلاء کا یہ خیال بھی ہوتا تھا کہ ان کیخلاف کیے گئے فیصلے درست نہ تھے بلکہ شاید انصاف کے معیار پر پورے بھی نہ اترتے تھے۔ مگر پھر بھی عدلیہ کے احترام کے نازک آئینے میں بال نہ آتا تھا لیکن چونکہ وکلاء کی موجودہ قیادت ترقی پسندی کی دعوے دار ہے۔ اس لیے اس روایت شکنی کا اعزازان کی ترقی پسندی کو جاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ روایاتِ کہنہ کو ختم کر کے نئی اقدار کی داغ بیل رکھی جا رہی ہے۔ اس واقعہ سے تمام عدلیہ کو یہ واضح پیغام ملا کہ بار کے منتخب عہدہ داروں کو عام وکیل نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ان سے مخصوص مرّبیانہ سلوک کی توقع رکھنا ناجائز نہیں۔ کوئی بھی وکیل جو اپنے انتخاب پر لاکھوں کروڑوں روپے پانی کی طرح بہا دیتا ہے ، عام وکیل کس طرح ہو سکتا ہے۔

اس واقعہ کا نئی اقدار بننے کی طرف اشارہ ہے۔
تیر ی اقدار تجھے اکسائیں تو اُن سے کہہ دے
رات کے حُسن کا معیار اندھیرا ہو گا

اس بائیکاٹ کی وجہ کیا تھی؟ یہ ایک قانونی، ثقافتی اور سیاسی سوال ہے۔

بحریہ ٹائون پرائیویٹ لمٹیڈ کی طرف سے تین درخواستوں کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل بنچ کے سامنے ایک جائیداد کے بارے میں یہ استدعا کی کہ حکومت اس جائیداد کی حد بندی اور نشاندہی نہ کرے۔ اس پر ایک غیر ضروری کھینچا تانی شروع ہو گئی۔بحریہ ٹائون پاکستان کی ایک شہرہ آفاق کمپنی ہے بدقسمتی سے بار بار متنازعہ بن جاتی ہے۔ اِدھر اِس کمپنی کے وکیل عام وکیل نہیں بلکہ آئندہ آنیوالے سپریم کورٹ کے انتخابات میں انسانی حقوق کی عَلم بردار محترمہ عاصمہ جہانگیر کی طرف سے سپریم کورٹ کی صدارت کے امیدوار ہیں۔

ان انتخابات میں دوسری جانب حامد خان ایڈوکیٹ کے گروپ کا امیدوار مقابلے میں موجود ہے۔ ان دو گروہوں کے درمیان نکتہ نظر کا تفاوت وکلاء کی تحریک میں ہی پیدا ہو چکا تھا اور آج بھی وہی تفرقہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ گو کہ اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے مگر و کلاء برادری کی مستقل تقسیم کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ یہ تقسیم نظریاتی نہیں ہے بلکہ کسی حد تک مفادات پر مبنی ہے۔ اس تقسیم نے رینگ کر عدلیہ میں بھی گروہ بندی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ دونوں گروہ ججوں کی تقرری میں بھی فعال دکھائی دیتے ہیں۔ اگر عدالتی فیصلوں میں کہیں کہیں اسی تقسیم کا پرتَو دکھائی دیتا ہے تو یہ بھی اسی سبب کا نتیجہ ہے۔ موجودہ بحریہ ٹائون والے کیسوں میں سیاسی آمیزش کو تلاش کرنے کیلئے زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔

سپریم کورٹ کے انتخابات کی آمد آمد ہے ۔۔۔بار کی فضا ء میں درجہ حرارت بڑھ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بحریہ ٹائون کے ان جائیداد کے مقدمات میں جیت ضروری تھی۔ جیت کے امکانات بڑھانے کیلئے مئوکل کافی تگ و دَو کرتے ہیں۔اُس میں مناسب وکیل کا چنائو بھی شامل ہے اور یہ کوئی بُری بات بھی نہیں ہے ۔ یہ ہر مئوکل کا صوابدیدی حق ہے لیکن مئوکل کی توقعات بعض اوقات وکیل کو ہر حالت میں جیتنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔بحریہ ٹائون کمپنی شروع سے ہی مایوسی کا شکا ر تھی اور پہلے ایک جج جسٹس جواد پر بد اعتمادی کی فضا ء قائم کی گئی اور پھر آہستہ آہستہ پورے بنچ کو اس بد اعتمادی کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس بد اعتمادی کو سطحی اور سر سری انداز میں آگے بڑھایا گیا۔ استدلالی اور ٹھوس واقعاتی بنیادیں فراہم نہیں کی گئی لیکن اس کمزور بد اعتمادی کی بنیاد پر وکلاء توقع رکھ رہے تھے کہ مذکورہ جج کو خود بخود بنچ سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔محض وکیل کی پسندیدگی یا کمزور خدشات یا توہمات یا مفروضوں سے جج کو ہٹوانے کا اختیار یا حق وکیل کو حاصل نہیں ہے۔

جواد ایس خواجہ اکیلے جج نہیں تھے بنچ پہلے دو ججوں پر مشتمل تھا درخواست گزار کی التجا ء پر نئے بنچ کو تین ججوں پر اُستوار کیا گیا۔ چیف جسٹس کے علاوہ اس بنچ میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس قاضی فیض عیسیٰ بھی شامل تھے اور اس متنازعہ معاملے میں تینوں جج صاحبان کا مشترکہ اور متفقہ فیصلہ سامنے آیا۔ باروں نے اِن تین ججوں میں سے ایک جانیوالے جج کو نیزے کی انی پر رکھ لیا کیونکہ شاید جانے والا جج نفع نقصان دینے کی پوزیشن میں نہیں رہتا۔ باقی بھی کچھ جج صاحبان نے اسی کیس میں منفی فیصلے سنائے تھے۔لیکن اُن سے نہ گلہ نہ شکوہ نہ اظہارِ ناراضگی۔

18/12/13 کو جسٹس اعجاز افضل خان نے بھی اپنے فیصلے میں حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کیوں کسی جائیداد کی حد بندی کے تعین سے حکومت کو روکا جائے شاید درخواست گزار کے وکلاء اس سوال کا جواب دینے میں مشکل محسوس کر رہے تھے۔ اس لیے انہوں نے تاخیری حربے استعمال کرنا شروع کر دیئے تاکہ عدالتی کاروائی کو التوا بلکہ کھٹائی میں ڈال دیا جائے۔ اور اس سٹریٹجی میں یہ امر بھی پیشِ نظر تھا کہ چند ایام کے بعد جسٹس جواد ایس خواجہ ریٹائر ہو رہے تھے۔ سائیلان کے وکیلوں کی استدعا کے مطابق عدالتی کاروائی بار بار ملتوی کی جاتی رہی۔ بیرسٹر علی ظفر کی غیر ضروری طور پر پانچ گھنٹے تک کی طویل بحث بھی صبر سے سُنی گئی ۔پھر ایک ایسا وقت آیا کہ عدالت کی نظر میں مزید التوا نہ دیا جا سکتا تھا لیکن وکلاء نے ہر صورت میں التوا کے حصول کو ہی مقدمے کی ہار جیت کا پیمانہ سمجھ لیا۔

گفتگو میں الفاظ ہمیشہ ہوا کا جھونکا ہوتے ہیں۔ جس کی سمت کی تشریح میں کافی گنجائش ہوتی ہے مگر جب الفاظ تحریر میں آ جائیں اور ریکارڈ کا حصہ بن جائیں تو اُن کو نگلنا یا اُگلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک درخواست اور ایک خط دیوار پر لکھا گیا۔ درخواست کو تو سپریم کورٹ کے دفتر نے واپس کر دیا۔

مگر پھر بیرسٹر علی ظفر کی لا فرم کی طر ف سے راجا ظفرخالق خان ایڈوکیٹ نے چیف جسٹس کے نام ایک یونہی سا خط عدالت کے کورٹ میں پھینک دیا۔ جو جائیداد کے مقدمے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ محض التوا حاصل کرنے کے بارے میں تھا۔ اسی درخواست اور خط نے توہین عدالت کیلئے راہ ہموارکی لیکن سپریم کورٹ کی صدارت کیلئے امیدوار کا اپنے الفاظ کو واپس لے لینا یا معافی کا طلبگار ہونا اُسکی شان کے شایان نہ تھا اس لیے اس سے احتراز کیا گیا۔ خط اور درخواست کی ذمہ داری قبول کرنے میں آنکھ مچولی کھیلی گئی۔ دوسری جانب عدالت تھی کہ انصاف کے ڈولتے سنگھاسن کو سنبھال رہی تھی۔

آئین پاکستان سپریم کورٹ کے رولز اور پاکستان لیگل پریکٹیشنرزاینڈ بار کونسل رولز 1976ء اور دیگر قانونی حوالوں کی روشنی میں بیرسڑ علی ظفر کو اپنے غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے ایک سال کیلئے سپریم کورٹ میں پریکٹس کرنے سے روک دیا گیا۔ ان کا لائسنس کینسل کر دیا گیا۔ ان کو سپریم کورٹ کے وکلاء کی فہرست کے خارج کر دیا گیا مگر ان کیلئے ایک راستہ کھلا بھی چھوڑا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے رویے پر سوچے اپنے پیشے کی ذمہ داریاں سمجھے پشیمانی محسوس کرے اور درخواست دے تو ان کا لائسنس بحال کیا جا سکتا ہے ۔

کسی زمانے میں جج کی میز پر ایک ہتھوڑا ہوا کرتا تھا۔ جج اُس ہتھوڑے کو بجا کر ’’آرڈر ۔آرڈر‘‘ کہہ کر نظم و ضبط اور خاموشی طاری کرتا تھا۔ اب ہتھوڑا غائب کر دیا گیا ہے اور آزادی ہو نہ ہو ،آزادی کا چرچا تو بہرحال قائم رکھا گیا ہے۔ کبھی کبھی ہتھوڑے کی جگہ توہین عدالت کو استعمال کر لینے میںکوئی خاص مضائقہ نہیں۔

عدالت کے فیصلے اور دو معزز باروں کے احتجاجی فیصلے نے کچھ بنیادی نقائص کی نشاندہی کی ہے افراد آتے جاتے رہتے ہیں۔افراداداروں کیلئے قربانی دیتے ہیں،افراد کی انا کیلئے اداروں کو بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔کوئی بڑے سے بڑا شخص بھی ادارے سے بڑا نہیں ہوتا۔ افراد کو جتنا بڑا کریں گے ادارے اتنا ہی کمزور اور معذور ہوتے جائیں گے۔
 

------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروی نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند