تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اصل کھیل بہت خوفناک ہے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 17 ذوالحجہ 1436هـ - 1 اکتوبر 2015م KSA 10:59 - GMT 07:59
اصل کھیل بہت خوفناک ہے!

ٹیلی وژن سکرینوں اور اخباری کالموں کے ذریعے ایمان افروز بھاشن دینے والوں کی خدمت میں دست بستہ عرض کرنا ہے تو صرف اتنا کہ کبھی کبھار حقیقتوں کو بھی بیان کردینا چاہیے۔

افغانستان نام کا ملک دنیا کے نقشے پر 1747ء میں نمودار ہوا تھا۔ دلی اور اصفہان میں بیٹھے بادشاہ ان دنوں برطانیہ، روس، ہالینڈ اور فرانس کے استعماری پھیلائو کے سامنے بہت تیزی سے بے اختیار ہورہے تھے۔ احمد شاہ ابدالی نے قندھار کے پشتونوں میں قوم پرستی کی جوت جگائی اور اپنا وطن بنالیا۔

افغان وطن کو ملت میں تبدیل کرنا مگر ایک جاں گسل عمل تھا۔ اس عمل کی تکمیل کے لئے ضروری تھا کہ افغان ریاست اپنے شہریوں سے محاصل جمع کرنے کے کوئی طریقے سوچے۔ فاتح ابدالی اس حقیقت کو سمجھ ہی نہ پائے۔ شاہ ولی اللہ ویسے بھی برصغیر کے مسلمانوں کو مرہٹوں سے بچانے کے لئے انہیں خطوط بھیج رہے تھے۔ ابدالی نے پانی پت کی آخری جنگ جیت کر دلی کا رُخ کیا تو کابل میں اس کے اپنے ہی لوگوں نے تختِ کابل پر قبضہ جمانے کے لئے سازشیں شروع کردیں۔ ابدالی کو گھر کی فکر لاحق ہوگئی۔ وہ کابل لوٹ گئے۔

اس کے بعد ابدالی کی بنائی ریاست کے اخراجات بنیادی طور پر اس خراج سے پورے کئے جاتے جو کشمیر اور سندھ سے اکٹھا ہوتا تھا۔ کشمیر کئی برس تک کابل کی ویسی ہی مفتوحہ جاگیر رہی جیسی بنگال، لارڈ کائیو کی ہوا کرتی تھی۔ افغان اشرافیہ کے لوگ اس جاگیر کو اپنے تسلط میں رکھنے کی خاطر وہاں ویسے ہی عہدے اور مراعات حاصل کرتے جو ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے افسروں کو فراہم کیا کرتی تھی۔

ابدالی کی وفات کے بعد تختِ کابل پر قبضے کے لئے افغان اشرافیہ کے مابین خوں ریز خانہ جنگیاں مستقل ہوتی رہیں۔ ان خانہ جنگیوں کا فوری فائدہ پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور دربار کے قیام اور اس کے زیر تسلط علاقوں میں پھیلائو کے ذریعے اٹھایا۔ دریں اثناء لدھیانے میں بیٹھے ایسٹ انڈیا کمپنی کے مکار افسران نے شاہ شجاع کے ذریعے افغانستان پر اپنا قبضہ جمانے کی کوششیں شروع کر دیں۔

لندن کو ہمارے ان ’’دنوں کے قومی سلامتی کے وجود کو خطرات‘‘ بیان کرنے والے مفکرین کے ذریعے سمجھایا گیا کہ اگر افغانستان پر قبضہ نہ کیا گیا تو زارِ روس بخارا اور ایران سے ہوتا ہوا وہاں پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد منزل اس کی ’’سونے کی چڑیا‘‘ ہوگی۔
رنجیت سنگھ نے کمال ہوشیاری سے شاہ شجاع کے ذریعے کھیلی اس گریٹ گیم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ شاہ شجاع کو اپنا لشکر راجستھان، شکارپور اور بالآخر قندھار کے راستے کابل تک لے جانا پڑا۔ رنجیت سنگھ نے اس کی ’’مصروفیات‘‘ کا فائدہ اٹھا کر افغانستان کے ’’سرمائی دارالخلافہ‘‘-پشاور- پر قبضہ کرلیا۔

ہمیں یہ تو بارہا بتایا گیا ہے کہ شاہ شجاع کے تخت کو بچانے کے لئے گئی برطانوی فوج کے ساتھ افغانستان کے مردانِ کوہستان نے کیا عبرت ناک سلوک کیا تھا۔ اس کے بعد مگرکیا ہوا۔ یہ کوئی بتانے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔

انگریز بڑا کائیاں تھا۔ زیادہ سے زیادہ خطوں پر یونین جیک لہرانے کی تڑپ ضرور رکھتا تھا مگر ہمہ وقت یہ حساب کتاب بھی کرتا رہتا کہ سامراجی تسلط منفعت بخش دھندا ہے بھی یا نہیں۔ 1840ء میں پنجاب پر قبضے کے بعد اس نے یہاں نہری نظام قائم کیا تو نقد آور فصلوں کا رواج چلا۔ ان فصلوں سے مالیے کی صورت گرانقدر رقوم ملیں۔ ان رقوم سے ریلوے اور ٹیلی گرام کے جال کو وسیع تر کرتے ہوئے انگریز اپنے تسلط کو مزید مستحکم کرنے میں جت گیا۔ افغانستان کے بارے میں اس نے طے کرلیا کہ وہاں قبضے کا کوئی ٹھوس اور دور رس مالی فائدہ نہیں۔ بہادری یا بزدلی کا اس پورے قضیے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

امیر عبدالرحمان افغانستان کا اب تک سب سے زیادہ کامیاب حکمران ثابت ہوا ہے۔ انگریزوں نے اسے معقول وظیفے دے کر مستحکم کیا اور بدلے میں ڈیورنڈلائن کے سمجھوتے پر دستخط کروالئے۔ پاک-افغان سرحد پر مقیم قبائلیوں کی ’’خودمختاری‘‘ بھی اسی پالیسی کے تحت تسلیم کی گئی۔ سیدھا اور واضح ہدف یہ تھا کہ افغانوں کو ان کے ملک تک محدود رکھو اور اپنے تحفظ کو مزید یقینی بنانے کے لئے ’’خود مختار قبائلی علاقوں‘‘ کی دیوار بھی قائم رکھو۔

کمیونسٹ روس برطانوی سامراج جیسا کائیاں اور جہاں دیدہ نہیں تھا۔ ستمبر 1979ء میں افغانستان کو خانہ جنگی سے بچانے کے نام پر وہاں درآیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ ’’افغان جہاد‘‘ کی داستانوں سے جڑی کہانیوں کی بدولت ہم سب خوب جانتے ہیں۔

یہ بات مگر کوئی نہیں سمجھاتا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سرمایہ دارانہ نظام کے حتمی تسلط کے لئے سوویت یونین کے ساتھ ایک فیصلہ کن جنگ لڑنا تھی۔ یہ جنگ یورپ میں بھی لڑی جاسکتی تھی۔ وہاں مگر ’’دیتانت‘‘ برتا گیا۔ ’’جہاد‘‘ کے ذریعے لادین روس کو تباہ کرنے کے لئے پاکستان، افغانستان اوربے تحاشہ عرب ممالک کے نوجوان ہزاروں کی تعداد میں تیار بیٹھے تھے۔ ان کے دلوں میں مچلتی تڑپ کو Communication Strategy کے بے تحاشہ ہتھکنڈوں کے ذریعے جنون کی صورت دی گئی۔ ان جنونیوں کو ایک سپرطاقت کی فوج کو بے بس بنانے کے لئے جدید ترین ہتھیار فراہم کئے گئے۔ ڈالروں بھرے صندوق بھی جہازوں میں لد کر آتے رہے۔ میدانِ جنگ سچ گیا۔ رونق لگ گئی۔ سوویت یونین شکست کھا کر بکھر گیا مگر خوں ریزی، وحشت اور تباہی ہمیشہ کے لئے افغانستان کا مقدر بن گئی۔

وحشت اور جنون سے آزاد ہوکر امن، استحکام اور خوشحالی کی طرف کیسے بڑھنا ہے؟ یہ فیصلہ صرف افغانوں کو کرنا ہے۔ پڑھے لکھے افغانوں کی اکثریت مگر War Economy کے علاوہ زندہ رہنے کے اور کسی ڈھنگ سے واقف ہی نہیں۔ ان کی آرزو ہے تو بس اتنی کہ کسی نہ کسی طرح افغانستان کے ہمسایے اور دنیا پر اپنے اثر کو پھیلانے والی عالمی قوتیں ان کے معاملات کے بارے میں مسلسل متفکر رہیں۔ انگریز کی طرح اوبامہ کی قیادت میں اب امریکہ بھی نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر پھیلے مسلمانوں کو ’’تہذیب یافتہ جمہوری مملکتیں‘‘ بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ امریکہ کی عدم دلچسپی کے تناظر میں افغانستان کی گیم پاکستان، ایران، بھارت اور کسی حد تک چین کے سپرد کردی گئی ہے۔ وہ جانیں اور افغان۔

پاکستان کا اصل قومی مفاد تقاضہ کرتا ہے کہ ہم کسی نہ کسی طرح خود کو افغانستان کے معاملات سے قطعی طورپر جدا کرلیں۔ افغان مگر یہ ہونے نہیں دیں گے۔ بھارت سے محبتیں بڑھاکر ہمیں پریشان کرتے رہیں گے۔ چین جو اپنا یار ہے قندوز پر شب خون حملے کے بعد سب سے زیادہ پریشان ہوا ہوگا۔ قندوز پر حملہ کرنے والوں کی اکثریت بدخشاں سے آئی تھی اور بدخشاں ان دنوں سنکیانگ سے آئے ’’مجاہدین‘‘ کا مرکز بن چکا ہے۔ قندوز پر قبضہ کرنے والوں کی حتمی منزل کابل نہیں چترال اور سوات کے راستے پاکستان کو چین سے ملانے والی شاہراہ ریشم تک تباہی، بے ثباتی اور ہیجان پھیلانا ہے۔ قندوز پر حملے کو خدارا محض اشرف غنی کی کمزوری کا ثبوت سمجھ کر خوشی سے بغلیں نہ بجائیں۔ اصل کھیل کو سمجھیں جو بہت خوفناک ہے۔

----------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند