تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی میں خانہ جنگی کے آثار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 18 ذوالحجہ 1440هـ - 20 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 18 ذوالحجہ 1436هـ - 2 اکتوبر 2015م KSA 08:08 - GMT 05:08
ترکی میں خانہ جنگی کے آثار

جون 2015ء میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج طیب اردوان اور انکی بنیاد پرست اور رجعتی جماعت اے کے پی کے لیے بڑا دھجکا تھے۔ 2002ء کے بعد وہ پہلی مرتبہ پارلیمانی اکثریت سے محروم ہوئے ہیں۔ طیب اردوگان درحقیقت جارحانہ نیو لبرل سرمایہ داری کے سیاسی نمائندہ ہیں جسکے حکمران ٹولے نے اپنے دور اقتدار میں بڑے پیمانے کی نجکاری کے ذریعے ریاستی اثاثوں کو جی بھر کے لوٹا ہے۔ اے کے پی کے دور حکومت میں مٹھی بھر سرمایہ دار امیر سے امیر تر ہوئے ہیں جبکہ امارات اور غربت کی خلیج وسیع تر ہوگئی ہے۔ 2008ء کے بعد دنیا بھر کی طرح ترک معیشت بھی تیزی سے زوال پزیری کا شکار ہے اور مصنوعی معاشی ابھار کیلئے استعمال کئے جانے والے تمام حربے اب نامراد ہیں۔ سماج، بالخصوص محنت کش طبقے اور نوجوانوں میں اردوان سے نفرت اور بےچینے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے قبل اردوگان حکومت کے خلاف مئی تا اگست 2013ء میں بھی ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جن پر بدترین ریاستی تشدد کیا گیا تھا۔ عوامی ایجیٹیشن اتار چڑھاؤ کےساتھ بدستور جاری رہی ہے۔

اب ایک بار پھر اپنے خلاف ایک ابھرتی ہوئے طبقاتی تحریک کو دیکھ کر ترک حکمران قومی بنیادوں پر خانہ جنگی کو بھڑکا رہے ہیں۔ ترکی میں کرد اقلیت خصوصا بائیں بازو کی کرد پارٹی HDP پر حملے کیے جارہے ہیں جن میں دفاتر کا جلاؤ گھیراؤ، کردوں کی دکانوں، کاروباروں اور محلوں پر حملے شامل ہیں۔ اسی دوران کردستان ورکرز پارٹی کے عراق اور ترکی میں بہت سے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی گئی ہے۔ یہ سب اس وقت کیا گیا جب پی کے کے ترک ریاست کے ساتھ امن مذاکرات کے عمل میں داخل ہو چکی تھی۔ ترکی کے جنوب مشرقی حصے کے درجن بھر علاقوں کو خصوصی سکیورٹی زون قرار دیا جا چکا ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر درجنوں حملے کیے جا رہے ہیں۔ ابھی تک کردوں کی دوسو سے زائد اموات ہو چکی ہیں جبکہ دوسو کے قریب ترک پولیس والے ہلاک ہوئے ہیں۔ اسوقت سب سے اہم سیزرے شہر کا محاصرہ تھا۔ ایک لاکھ بیس ہزار کی آبادی کے اس شہر میں 92 فیصد افراد نے ایچ ڈی پی کو ووٹ دیا تھا۔ دس ہزار فوجی تعینات تھے اور محاصرہ ختم ہونے تک درجنوں افراد بمباری سے قتل ہو چکے ہیں جن میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں۔

اردوان کے مطابق یہ داعش اور پی کے کے کی دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے لیکن گرفتار کیے گئے اڑھائی ہزار افراد میں داعش سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد سو سے بھی کم ہے جبکہ باقی تمام بائیں بازو کے کارکن یا قوم پرست ہیں۔ درحقیقت اس مہم کے دوران ہونے والے حملوں کا فائدہ داعش کو پہنچ رہا ہے جسکا اب تک سب سے مضبوط دشمن پی کے کے اور اس سے متعلقہ دیگر تنظیمیں تھیں۔ بہت سے مواقع پر پی کے کے پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ داعش کے خلاف لڑنے کے لیے محاذ پر جارہی تھیں۔ کئی ماہ سے پی کے کے مطالبہ کر رہی تھی کہ وہ ترکی سے اپنی رہی سہی گوریلا قوتوں کو باہر نکالنے کیلئے محفاظ راستہ چاہتے ہیں۔ اردوان نے اس سے انکار کر دیا کیونکہ مارچ کے بعد سے وہ مذاکرات کیلئے تیار نہیں۔

اردوان کبھی بھی پی کے کے کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار نہیں تھا۔ انکا خیال تھا کہ وہ کرد تحریک اور بائیں بازو کو ترکی کے حکمران طبقے کے قومی ریپبلیکن حصے کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ کئی سالوں کی تیز ترین معاشی بڑھوتری کے باوجود آبادی کی اکثریت کے حالات زندگی میں کوئی بہتری نہیں آ سکی جبکہ ایک چھوٹی سی اقلیت کی دولت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور اب جب ملک کو ایک معاشی بحران کا سامنا ہے تو اسکی قیمت بھی غریبوں کو ہی چکانی پڑ رہی ہے۔ 2013ء کی غازی پارک کی تحریک عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی ایک جھلک تھی۔ اردوان کا آمرانہ طرز حکومت شام اور دیگر ممالک میں سامراجی مداخلت اور جدید سیکولر ترکی میں إذۃبی بنیاد پرستی کا فروغ ترکی میں انکے خلاف نفرت کا باعث بن رہا ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں میں راستہ نہ ملنے پر اس تحریک نے اپنا اظہار کرد تحریک اور اسکے سیاسی ونگ ایچ ڈی پی میں کیا ہے۔

حکمران طبقے کی کوششوں کے برخلاف ترک اور کرد نوجوانوں میں یکجہتی پیدا ہورہی ہے اور ایچ ڈی پی موجودہ نظام سے نفرت کرنے والے نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بن رہی ہے ۔ کوبانی کے معرکے میں خستہ ہتھیاروں اور معمولی امداد سے کردوں کی اردوان کی حمایت یافتہ داعش کے خلاف چھ ماہ کی لڑائی اور فتح نے اس میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے ۔ یہاں سے ہی ایچ ڈی پی منظر عام پر آئی اور پورے ملک میں لاکھوں افراد کی پارٹی بن گئی۔ سماجی و جمہوری اصلاحات کے انقلابی پروگرام اور غازی پارک کی تحریک کے جذبے کو جوڑ کر اس نے 13 فیصد ووٹ حاصل کیے اور پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں پہنچ گئی۔ اپنی حکمرانی کو محفوظ بنانے کیلئے حکمران محنت کش طبقے کو قومی بنیادوں پر تقسیم کر کے ترکوں اور کردوں کو آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں ۔ لیکن اس سے ایچ ڈی پی کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرد علاقوإ میں اردوان کا یکطرفہ اعلان جنگ کے خلاف غصہ کسی وقت بھی انقلابی تحریک میں ڈھل سکتا ہے۔ سیزرے شہر کے محاصرے کے خلاف محصور شہر کی جانب ایچ ڈی پی کے مارج میں ہزاروں افراد نے شمولیت اور اس کے نتیجے میں مسلح افواج کی پسپائی عوام کے انقلابی موڈ اور عزم کا اظہار ہیں۔

کرد عوام کو ترک حکمران طبقے کی جارحیت کے خلاف دفاع کو حق حاصل ہے لیکن انفرادی اور مسلح کارروائیوں کی بجائے عوامی سیاسی مزاحمت کی ضرورت ہے۔ دفاع کا بہترین طریقہ ایچ ڈی پی اور پی کے کے اور ملحقہ تنظیموں سے جڑے لاکھوں لوگوں کو ساتھ ملاتے ہوئے عام ہڑتال کی کال ہے۔ ہر محلے فیکٹری اور سکول میں عوامی اور دفاعی کمیٹیان ہی سیاسی جدوجہد اور ریاستی اور مسلح حملوں کے خلاف دفاع کا راستہ ہیں۔ اسی طرح ترک محنت کشوں اور نوجوانوں سے بھی اردوان کے خلاف جدوجہد میں حمایت کی اپیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت جمہوری حقوق پر بھی حملے کر رہی ہے اور خانہ جنگی کو ابھار کر وہ آمریت کا راستہ ہموار کر رہی ہے۔

میڈیا نسل پرستی کا زہریلا پروپیگنڈا کر رہا ہے لیکن اس سے عوام کی بےچینی کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ملک کے مغربی حص؁ میں بھی نفرت بڑھ رہی ہے ۔ فوجیوں کے جنازوں پر عوام حکومت کے خلاف نفرد کا اظہار کر رہے ہیں۔ کرد علاقوں میں خانہ جنگی کے خلاف تحریک کو فوج کے اندر میں کافی حمایت ملے گی۔ حکومت مخالف تحڑیک بڑے شہروں کے محنت کشوں اور نوجوانوں سے لک کے وسطی اور مغربی حصوں تک پھیل سکتی ہے۔

موجودہ بحران صرف اردوان حکومت کا نہ نہیں بلکہ ترک سرمایہ داری کا بحران ہے جو سرمایہ داری کے عالمی بحران کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ حکمران طبقہ عوام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے اور اقتدار کو بچانے کیلئے مسلسل دائیں بازو کی جانب جھک رہا ہے۔ بہت سے ریپبلکن بورژ وامبصرین اور روایتی بورژ وازی کے ارکان اردوان کے اقدامات پر شدید تنقید کر رہے ہیں کہ وہ ملک میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیںلیکن 1960ء اور 70ء کی دہائی میں انقلابی تحریکوں کو کچلنے کے لیے انہی لوگوں نے خود ایک خونخوار آمریت مسلط کی تھی۔ حالیہ عام انتخابات میں بھی انکا پروگرام اور زیادہ نجکاری، ڈی ریگولیشن اور لبرلائزیشن، یعنی محنت کشوں پر مزید حملے تھا۔ترک حکمرانوں کا رویہ ترک سرمایہ داری کی بوسیدگی اور طفیلی کردار کا عکاس ہے ۔ انکے خلاف کسی بھی جدوجہد کو سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد سے جوڑنا ہوگا۔ ترک اور کرد محنت کشوں کے مفادات مفادات الگ الگ یا متضاد نہیں ہیںْ اس نظام کی بربریت انہیں حکمران طبقے کے ٹکروں کی خاطر ایک دوسرے سے لڑںے پر مجبور کرتی ہے اور دولت مند اور بااثر اشرافیہ لوگوں کے لیے عذاب پیدا کرتے ہوئے خود انتہائی پرتعیش زندگی بسر کر رہی ہے۔ نجات کا واحد راستہ تمام مظلوموں کی متحد جدوجہد ہے جسکا مقصد تمام وسائل پر قبضہ کرنے انہیں اجتمائی بہتری کیلئے استعمال کرنا ہو۔

----------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند