تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایک تھا گدھا، ایک تھی گدھی!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 19 ذوالحجہ 1436هـ - 3 اکتوبر 2015م KSA 12:52 - GMT 09:52
ایک تھا گدھا، ایک تھی گدھی!

اپنی تو ساری عمر گدھوں کے درمیان ہی گزری ہے، ہم انہیں گدھا اور وہ ہمیں گدھا سمجھتے رہے، اور یوں بقائےباہمی کے اصول کے تحت دونوں کی اچھی گزری۔ بس کچھ عرصہ پیشتر دونوں کے درمیان اس وقت کچھ شکررنجی پیداہوئی جب یہ خبر گردش میں آئی کہ ہم اپنے اس محنتی باوفا اور دیرینہ ہمدم کو ذبح کرتے رہے ہیں، اس کی کھال کھینچ کر عالمی مارکیٹ میں فروخت کرتے اور اس کا گوشت کھاتے رہے ہیں۔ تو مجھے اس پر یقین نہ آیا، البتہ جب اس عید قربان پر بکرے کا گوشت کھایا تو کچھ مزا نہ آیا، اسکا ٹیسٹ اس سے مختلف تھا جو ہم برسوں سے کھاتے چلے آرہے تھے، تب مجھے بھی یقین آیا کہ دال میں واقعی کچھ کالا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی اندازہ ہوا کہ اپنے دوستوں کی کھال کھینچنے اور ان کا گوشت کھانے میں جو مزہ ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں۔ حفیظ جالندھری نے بھی کچھ اسی قسم کے پس منظر میں؎

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

والا شعر کہا تھا، ممکن ہے ان دنوں گدھے یہ شعر ایک دوسرے کیساتھ فیس بک پر شیئر کررہے ہوں، ایک اندازہ یہ بھی ہوا کہ جو مزا حرام میں ہے وہ حلال میں ہو ہی نہیں سکتا، یار لوگ ایسے ہی تو حرام کی طرف نہیں لپکتے!

ان لمحوں میں، میں نے یہ بھی سوچا کہ گدھے کے ساتھ تو ہم نے بے وفائی کی ہی ہے، کیا اس بے وفائی کی زد میں کوئی گدھی بھی تو نہیں آئی؟ اس پر بات بعد میں ہوگی فی الحال یہ تحقیق ضروری ہے کہ کیا گدھی کی اپنی فطرت میں وفا ہے کہ نہیں؟ چنانچہ مجھے موقع ملا تو میں کسی گدھے سے پوچھوں گا۔ البتہ جہاں تک اس سوال کا تعلق کہ قتل عام کی زد میں گدھوں کے علاوہ گدھیاں بھی آتی ہیں تو اس حوالے سے مفروضہ یہ ہے کہ شاید ایسا نہ ہوا ہو کیونکہ برادرم عامر رضوی نے مجھے بتایا ہے کہ گدھی کثیر الاستعمال چیز ہے رضوی صاحب گدھی اسپیشلسٹ تو نہیں ہیں۔ مگر اس کے کثیر الاستعمال ہونے کے حوالے سے انہوں نے مجھے حتمی طور پر بتایا کہ گدھی صرف بار برداری کیلئے استعمال نہیں ہوتی بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں میں اس کا دودھ بھی بہت مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے کیونکہ یہ انسانی دودھ کے قریب ترین ہے چنانچہ انڈیا میں یہ دو ہزار روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہوتا ہے اور یورپ میں تو اس کی قیمت بہت زیادہ ہے، میں نے ڈیلی ٹیلیگراف میں گدھی کے دودھ کے خصائص کے حوالے سے ایک رپورٹ پڑھی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ اس سے مہنگے ترین کاسمیٹکس تیار ہوتے ہیں، سوئٹزرلینڈ کی ایک کمپنی کے تیار کردہ فیس لوشن کی قیمت چار سو یورو ہے، قلوپطرہ کی خوبصورتی کا راز ہی گدھی کے دودھ میں پوشیدہ تھا وہ سات سو گدھیوں کے دودھ سے نہاتی تھی۔ اس طرح نیرو کی بیوی جب سفر کرتی تو گدھیوں کا ایک ریوڑ اس کے ساتھ ہوتا، نپولین کی ہمشیرہ بھی اپنی جلد کی خوبصورتی کیلئے گدھی کا دودھ ہی استعمال کرتی تھی اور تو اور دنیا کا سب سے مہنگا پنیر بھی گدھی کے دودھ ہی سے تیار ہوتا ہے ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق مستقبل کا دودھ گدھی کا دودھ ہی ہے۔

ڈیلی ٹیلی گراف کی یہ رپورٹ تو کہیں بعد میں شائع ہوئی ہے مجھے اس سے بہت پہلے یہ شک گزرتا تھا کہ جس حسینہ کی خوبصورتی سے میں مسحور ہورہا ہوں اس کا کوئی نہ کوئی تعلق گدھی سے ضرور ہے، چنانچہ یہ شک اس کی ہنہناتی ہوئی گفتگو سے صحیح نکلتا تھا اور کبھی پتہ چلتا تھا کہ اس کا تعلق کسی گدھی سے نہیں، کسی گدھے سے ہے۔ اخباری رپورٹ میں جس پنیر کا ذکر ہوا ہے ایک دفعہ پیرس میں میں نے یہ پنیر چکھا تھا جس کی لذت کی داد میں نے میزبان کو دولتی مار کر دی تھی، بہرحال گدھے کی کھال اور گوشت فروخت کرنے والے تاجروں سے میری درخواست ہے کہ وہ آئندہ یہ کاروبار کرتے ہوئے اس جانور کی جنس کا تعین کر لیا کریں تاکہ گدھے کے ساتھ پرانا سلوک اگر وہ جاری رکھنا چاہتے ہیں تو بے شک جاری رکھیں۔ البتہ گدھیوں کو اس ریوڑ سے الگ کر لیا کریں۔ اس پہچان کیلئے انہیں کسی ماہر کی ضرورت نہیں، گدھا اپنی پہچان خود کراتا ہے۔ ریوڑ میں سے جو گدھیاں وہ الگ کریں، انہیں پالیں پوسیں اور ان کا دودھ ایکسپورٹ کریں اور یوں اپنا اور قومی خزانہ زرمبادلہ سے بھر دیں انہیں اس حوالے سے یہ طعنہ سننے کو ملے گا کہ یہ شخص گدھی کی کمائی کھاتا ہے، تو کیا فرق پڑتا ہے حرام کی کمائی کھانے والے اس طرح کے طعنے تو سنتے ہی رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دو کان کس لئے دیئے ہیں ایک سے سنیں اور دوسرے سے نکال دیں۔
اور اب آخر میں منیر احمد منیر کا ایک خط۔ منیر نے قائداعظم محمد علی جناح اور تاریخ پاکستان پر بہت اہم کام کیا ہے ان کا یہ خط نذر قارئین ہے:

روزنامہ جنگ لاہور 21 اگست 2015ء ’’1950ء کے آس پاس قسط (2)‘‘ میں آپ نے لکھا ہے ’’قائداعظم کے سیکرٹری خواجہ محمد شریف طوسی‘‘ قاسمی صاحب! طوسی صاحب کو قائداعظم کی قربت کا خصوصی اعزاز حاصل رہا، وہ قائداعظم کے سیکرٹری نہ تھے، قائداعظم کی مستقل رہائش گاہیں دو تھیں، بمبئی میں مالا بار ہل اوردہلی میں 10 اورنگ زیب روڈ طوسی صاحب ایم بی ہائی اسکول وزیرآباد میں ہیڈماسٹر تھے۔ اسکول میں موسم گرما کی چھٹیوں میں دہلی یا بمبئی جہاں قائداعظم ہوتے طوسی صاحب وہاں پہنچ جاتے۔کوئی شخص قائداعظم کی ذاتی لائبریری میں نہیں جاسکتا تھا، اب تک کی دستیاب معلومات کے مطابق محمد شریف طوسی واحد شخص تھے جنہیں قائداعظم کی ذاتی لائبریری تک رسائی حاصل تھی۔

قائداعظم کا ان پر یہ اعتماد لائبریری تک محدود نہ تھا وہ قائداعظم کی فائلیں بھی دیکھ سکتے تھے، قربت کے اس خصوصی اعزاز کے دوران میں قائداعظم کے نام علامہ اقبال کے خطوط ان کے ہاتھ لگے، تاریخی نقطہ نظر سے ’’لیٹرز آف اقبال ٹو جناح‘‘ کے نام سے انہیں شائع کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ آج یہ خطوط تاریخی دستاویز ہیں، سرکاری ملازمت کے سبب طوسی صاحب مطالبہ قیام پاکستان کے حق میں ایم آر ٹی کے قلمی نام سے اخبارات میں مضامین لکھتے رہے، ان مضامین کے مجموعے ’’نیشنلزم ان کنفلکٹ ان انڈیا‘‘ اور ’’پاکستان اینڈ مسلم انڈیا‘‘ کے نام سے چھپے، دیباچہ ان کا قائداعظم نے لکھا، شروع میں ان کا مقام اشاعت قائداعظم کی مالابار ہل بمبئی والی رہائش گاہ تھی۔

’’وٹ رنز آف ہسٹری‘‘ کے عنوان سے قائداعظم کی مختلف لیٹروں کے ساتھ خط و کتابت بھی طوسی صاحب نے مرتب کی۔تحریک قیام پاکستان کے کیسے کیسے خاموش اور جاں نثار سپاہی گزرے ہیں۔ نئی نسل کو کیا پتہ۔ اب یہ بے خبری اور لاعلمی پھیلانے کا ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ذمہ دار ہے مجرمانہ حد تک۔ ہمارے مبینہ ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مولانا ابوالکلام کی پیش گوئیوں کا اپنے اخباری کالموں میں بہت چرچا کیا اور رواں تبصرے کے ساتھ انہیں حرف بہ حرف درست قرار دیتے رہے۔ قاسمی صاحب! آپ نے بھی کچھ نہ کہا ، بس تلملا کر رہ گئے کہ جبار مرزا نے منع کردیا ہے میرا جواب بھی کہیں شائع نہ ہوا۔ اللہ ہمارے میڈیا کو ہدایت دے۔ والسلام منیر احمد منیر -

------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند