تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جنرل راحیل شریف۔ مکہ اور مدینہ میں بھی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 21 ذوالحجہ 1436هـ - 5 اکتوبر 2015م KSA 08:17 - GMT 05:17
جنرل راحیل شریف۔ مکہ اور مدینہ میں بھی؟

ایک زمانہ تھا بلکہ یہ پچھلے پندرہ بیس برسوں کا قصہ ہے کہ دیارِ حرم مکہ و مدینہ میں صرف شریف فیملی کا ڈنکا بجتا تھا۔ وہاں حج ہو یا عمرہ کے دن، شریف فیملی خاص کر میاں نواز شریف حرم پاک اور مسجد نبویؐ میں حج اور عمرہ کی سعادت کے لئے جانے والوں کی دعائوں کا حصہ ہوتے تھے۔ اب کی بار حج کی سعادت کے دوران دونوں مقدس مقامات پر حاضری کے موقع پر محسوس ہوا کہ اب شریف فیملی کے ساتھ ساتھ ایک اور شریف بھی پاکستان کا درد رکھنے والوں کی دعائوں کا نہ صرف حصہ بنے رہے بلکہ ان سے پاکستان کے مستقبل کو سنوارنے، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے داغ کو ختم کرنے کے لئے بڑے خلوص سے امیدوں کا اظہار بھی کیا جاتا رہا۔ یہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف تھے۔ سعودی عرب میں براہ راست کسی بھی ملک کے حکمران یا بڑی شخصیت کو زیر بحث نہیں لایا جاتا البتہ معصوم اور دھیمے انداز میں اس شخصیت کی اپنے ملک کے حوالے سے اچھی کارکردگی کو سراہا جاتا ہے۔

اس بار شریف فیملی (میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف) سے زیادہ جنرل راحیل شریف کا تذکرہ رہا۔ وہاں ہر مقام پر چاہے وہ حرم پاک ہو یا مسجد نبویؐ ،مزدلفہ ہو یا میدان عرفات کا اجتماع یا منیٰ میں قیام کے ایام ہوں، ہر جگہ یہ صورتحال نظر آئی۔ بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ سے آئے ہوئے حاجی حضرات بھی کچھ نہ جانتے ہوئے جنرل راحیل شریف اور فوج کے بارے میں کافی کچھ پوچھتے رہے۔ غرض ایسے لگ رہا تھا کہ جنرل راحیل شریف ہی سب کی امید کی کرن ہیں، کچھ حضرات تو یہ بھی دعا کر رہے تھے کہ جنرل راحیل شریف دہشت گردی کے خاتمے کے مشن کو مکمل کریں اور ان کے اعزازات میں اور اضافہ ہو اور ان کا اقبال بلند ہو۔

ایک زمانے میں یہی معاملات شریف فیملی کے حوالے سے زیر بحث ہوتے تھے اور ان کے بارے میں بھی دعائیں کی جاتی تھیں۔ لیکن اب کی بار اُن کے متوالے تو اسی طرح ان کے گن گاتے ملتے رہے لیکن عام حاجی حضرات اور دیگر حکام ذرا مختلف سوچ کا اظہار کرتے رہے البتہ میاں شہباز شریف کا خصوصی ذکر اس طرح ہوتا رہا کہ وہ ایک اچھے منتظم ہیں جو صوبے میں ڈیولپمنٹ پر فوکس کرتے ہیں، بعض افراد کا یہ کہنا ہے کہ حرم پاک کے توسیعی منصوبے میں اگر ان کی خدمات حاصل کر لی جائیں تویہ منصوبہ مقررہ مدت سے پہلے مکمل ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے کئی چاہنے والے ایسے ہیں جو ان سے ملنا چاہتے ہیں، ان میں ایک صاحب جو شاہی خاندان کے قریب سمجھے جاتے ہیں، وہ آج کل حج کی سعادت حاصل کر کے پاکستان آئے ہوئے ہیں۔

وہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملنا چاہتے ہیں لیکن ان سے ملاقات نہیں ہو پا رہی ہے اور انہیں یہی جواب مل رہا ہے کہ سی ایم صاحب بڑے مصروف ہیں، آپ کا پیغام انہیں جلد پہنچا دیا جائے گا۔ یہ صاحب وزیر اعلیٰ کو سعودی شاہی خاندان کی نئی سوچ اور مستقبل کے تعلقات کی حکمت عملی سے بھی آگاہ کرنا چاہتے ہیں جس سے دونوں ممالک کے حکمرانوں کے درمیان تعلقات میں موجودہ نرمی دوبارہ گرم جوشی میں تبدیل ہو سکتی ہے جس سے پاکستان کو مجموعی طور پر کافی سارے اقتصادی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں اور وہاں ان کے بارے میں پائی جانے والی مثبت سوچ کے مواقع اور بھی بڑھ سکتے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو یہ بات کون بتائے، ان تک یہ بات کون پہنچائے کہ انہیں تعمیراتی اور انتظامی نقطہ نظر سے پسند کیا جاتا ہے۔
 

------------------------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند