تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی میں اُردو زبان کی سو سالہ تقریب کی تیاریاں.
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 23 ذوالحجہ 1436هـ - 7 اکتوبر 2015م KSA 09:17 - GMT 06:17
ترکی میں اُردو زبان کی سو سالہ تقریب کی تیاریاں.

ترکی اور پاکستان یک جان دو قالب ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان جو لازوال اور بے مثال تعلقات ہیں یہ ہم لوگوں کا ایک ایسا اثاثہ ہے جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ دنیا میں ترکی واحد ملک ہے جہاں پاکستان اور پاکستانی باشندوں کو اتنی عزت اور احترام دیا جاتا ہے کہ پاکستانی اس چاہت اور احترام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ ترک باشندوں کی پاکستان سے محبت کا ان کے ان الفاظ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ’’پاکستان کا کا نام آتے ہی بہتا پانی تک رک جاتا ہے‘‘۔ ترکی زبان کا یہ محاورہ کسی سے گہری محبت کے اظہار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

ترکوں کو صرف پاکستان ہی سے محبت نہیں ہے بلکہ پاکستان کی قومی زبان اُردو جو کہ ترکی زبان ہی کا لفظ ہے سے بھی گہری اُنسیت اور محبت ہے۔ ترکوں کی اُردو زبان سے محبت کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ ان میں سے بڑی وجہ اُردو زبان کا ترک حکمرانوں ہی کے زیر سایہ پروان چڑھنا ہے۔ اگرچہ ترکی میںبڑی تعداد میں پاکستانی آباد نہیں لیکن اُردو زبان کو ترکی میں فروغ دینے کیلئے ترک اساتذہ بڑا اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں استنبول یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لٹریچر کے اُردو ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام استنبول میٹرو پولیٹن اور سمندر پار ترک اور متعلقہ کمیونٹی کے ادارے کے تعاون سے ’’ترکی میں تعلیم و تدریس کا سو سالہ سفر‘‘ کے زیر عنوان بارہ تا چودہ اکتوبر ایک سمپوزیم منعقد کیا جا رہا ہے جس میں پاکستان، ہندوستان اور دیگر ممالک کے علاوہ ترکی سے بڑی تعداد میں محققین اپنے مقالے پیش کریں گے جنہیں بعد میں کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔

انہی تاریخوں کے دوران تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ ترکی میں اپنی طرز کا پہلا سمپوزیم ہوگا کیونکہ ترکی میں اس سے پہلے کبھی بھی اُردو زبان کے بارے میں اتنے بڑے اور علمی سمپوزیم کا اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں استنبول یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لٹریچر کے اُردو ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حلیل طوق ایر قابلِ ستائش ہیں جنہوں نے اس سمپوزیم کیلئے شب و روز محنت کی۔ انکو اس سلسلے میں سفیر پاکستان جناب سہیل محمود صاحب کا بھی بھر پور تعاون حاصل رہا ہے۔ آج کے اس کالم میں اُردو زبان کی تاریخ پر مختصر سی روشنی ڈالنے کیساتھ ساتھ استنبول یونیورسٹی میں اُردو زبان کی تعلیم و تدریس کے بارے میں کچھ آگاہی فراہم کرتا چلوں۔

اگرچہ ’’اُردو‘‘ لفظ پہلی بار ترک حکمران ’’ کیول تیگین (Kul Tigin) ‘‘ کے کتبوں جنہیں اورحون(Orhun) کتبوں کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے کے بھائی بلگے کاغان (Bilge kagan) کی طرف سے 732ء میں گیوک ترک زبان میں منگولیا میں کنندہ کیاگیا تھا اور پھر منگولوں نے ان الفاظ کو ترکی زبان سے مستعار لیتے ہوئے محل، کیمپ ، خیمے اور لشکر کے معنوں میں استعمال کرنا شروع کردیا۔ (خیال رہے کہ ترکی اور منگولیائی زبانیں آلتائی لسانی گروپ سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں آپس میں بڑا گہرا رشتہ موجود ہے) ہندوستان میں لفظ ا ُردو کے استعمال کی مغل دور سے قبل کے دور میں بھی مثالیں ملتی ہیں لیکن مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کے دور میں یقیناً لفظ اُردو کا استعمال عام ہو چکا تھا کیونکہ تزکِ بابری میں اس لفظ کا تذکرہ کئی مقامات پر موجود ہے۔

اکبر کے دور میں اس لفظ کے مرکبات عام استعمال کئے جاتے تھے، مثال کے طور پر ’’اُردوئے معلیٰ‘‘، ’’ اُردوئے علیا‘‘، ’’اُردوئے بزرگ‘‘، حتیٰ کہ’’ اُردوئے لشکر‘‘۔ تمام مرکبات میں اُردو کا مطلب شاہی کیمپ، محل اور لشکر ہے۔ اکبر کے درباری وقائع نویس ابوالفضل نے اپنی مشہور کتاب ’’آئینِ اکبری‘‘میں ایسی ہی ایک خیمہ گاہ یا لشکر گاہ ’’اردوئے ظفر قریں‘‘‘ کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ دہلی کے قریب ہی نئے شہر کے بسنے کے کچھ ہی عرصے بعد پہلے لال قلعے اور پھر پورے شاہجہاں آباد کو ’’اُردوئے معلی‘‘ اور بعض اوقات صرف ’’اُردو‘‘ کہا جانے لگا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مغل بادشاہ اکثر سفر میں رہتے تھے اس لئے انکی قیام گاہ اُردوئے معلی یعنی شاہی کیمپ کہلانے لگی تھی۔

اٹھارہویں صدی میں اُردو زبان کو ہندی کہا جاتا تھا۔ دراصل اس زبان کیلئے ہندی یا ہندوی نام صدیوں سے استعمال ہوتا چلا آیا تھا۔ انیسویں صدی تک اُردو زبان کو ہندی ہی کہا جاتا تھا یقیناً فارسی مغلوں کے دور میں ہندوستان بھر کی سرکاری زبان تھی لیکن اورنگ زیب کے انتقال (1707ء) کے بعد مغل قلم کاروں کا شیرازہ بکھرنا شروع ہو گیا اور اٹھارہویں صدی کے اختتام پر مغل سلطنت عملاً اُردوئے معلی (شاہ جہاں آباد) تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔مغلیہ سلطنت کے زوال پذیر ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ اُردو زبان کو ہوا کیونکہ اُردو زبان ایک خاص علاقے سے نکل کر پورے ہندوستان میں پھیلنا شروع ہوگئی اور فارسی زبان کا دبدبہ ختم ہو کر رہ گیا اور سلطنتِ مغلیہ کے آخری فرمانرواؤں نے فارسی کی بجائے اُردو زبان ہی میں اشعار کہنا شروع کردی یے۔

قصہ مختصر یہ کہ رفتہ رفتہ اُردو فارسی کو ہٹا کر دہلی کی فصیح اور مستند زبان کے تخت پر براجمان ہو گئی اور لوگ اسے ’’زبانِ اُردوئے معلی‘‘ کہنے لگے۔ ظاہر ہے کہ ترکیب لمبی تھی، اسلئے سکڑ کر’’اُردوے معلی‘‘ اور آخر کار صرف ’’اُردو‘‘ بن گئی۔جب انگریز ہندوستان آئے تو انہیں یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہواکہ ہندو اور مسلمان ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ ایک ایسی زبان جس کا ڈھانچا اور صرف و نحو خالصتاً مقامی ہیں لیکن جس نے فارسی اور فارسی کے توسط سے عربی زبان سے اثر قبول کیا ہے اور جو عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔

فورٹ ولیم کالج کے بانیوں میں جان گلکرسٹ جنہوں نے ہندی اور اُردو پر بہت کام کیا انہوں نے اس زبان کو ’’ہندوستانی‘‘ زبان کا نام دیدیا تاکہ ہندوئوں اور مسلمانوں میں زبان کے فرق کو کم سے کم کیا جا سکے۔ انگریزوں کے ہندوستان پر قبضے کے ساتھ ہی مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہو گئے اور ایک پسی ہوئی قوم کی طرح اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنے لگے۔ برصغیر کے مسلمانوں کی نظریں اب اس دور کی ایک دیگر عظیم سلطنت عثمانیہ پر مرکوز ہو کر رہ گئیں۔ سلطنتِ عثمانیہ بھی زوال کا شکار ہونا شروع ہوگئی لیکن ہندوستان کے مسلمانوں نے ایسے آڑے وقت میں ترکوں کو تنہا نہ چھوڑا اور ان کیلئے باقاعدہ تحریک خلافت کا آغاز کیا اور ہندوستان سے جوق در جوق لوگوں نے حجاز کے راستے ( حجاز موجودہ سعودی عرب اُس وقت سلطنتِ عثمانیہ ہی کا ایک حصہ تھا) ترکی پہنچنا شروع کردیا۔

ترکی پہنچنے والوں میں عبدالجبار خیری اور عبدالستار خیری دو بھائی بھی شامل تھے ان دونوں بھائیوں میں سے بڑے بھائی عبدالجبار خیری نے ’’دارالفوندہ اُردو لسانی معلمی‘‘ یعنی ’’دارالفنون میں اُردو زبان کا معلم‘‘ کی حیثیت سے فرائض انجام دینا شروع کر دیئے اور 1917ء تک وہ یہ فرائض ادا کرتے رہے اور یوں استنبول میں ایک صدی قبل اُردو زبان کی باقاعدہ تعلیم و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اسی دوران استنبول سے ’’پیک اسلام‘‘، ’’جہان اسلام‘‘ اور ’’الدستور‘‘ کے نام سے اُردو کے تین اخبارات شائع ہوئے جس سے استنبول میں مقیم ہندوستانی مسلمان استفادہ کرنے لگے۔ اس دور میں استنبول سے تین اُردو زبان میں شائع ہونیوالے اخبارات سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اس دور میں بڑی تعداد میں ہندوستان کے مسلمان استنبول میں آباد ہوچکے تھے لیکن استنبول میں انگریزوں اور اتحادی ممالک کے قبضے کے بعد اُردو زبان کی تعلیم و ترویج کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور عبدالجبار خیری اور عبدالستار خیری برادران دیگر ہندوستانی مسلمانوں کی طرح استنبول سے کہیں اور منتقل ہوگئے اور یوں استنبول میں اُردو کی تعلیم و ترویج رک گئی۔

ترکی میں اُردو کا دوسرا دور 1956ء میں انقرہ یونیورسٹی میں شرو ع ہوا اور اسکے بعد قونیا کی سلجوق یونیورسٹی میں شعبہ اُردو قائم کیا گیا اور پھر دارالفنون یعنی استنبول یونیورسٹی میں دوبارہ سے اُردو کے شعبے کا اجراء کیا گیا۔ ترکی میں جن ترک شخصیات نے اُردو کی خدمت کی ہے ان میں بلا شبہ پروفیسر ظفر حسن ایبک، پروفیسر علی نہات طارلان، ڈاکٹر عبدالقادر قارا حان ودیگر شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، پاکستان کے کئی سابق سفیروں سمیت راقم اور خاص طور پر کرنل ریٹائرڈ مسعود اختر شیخ نے بھی اپنے قیامِ ترکی اور اسکے بعد بھی ترکی زبان کے شاہکاروں کا اُردو اور اُردو زبان کے شاہکاروں کا ترکی زبان میں ترجمہ کرتے ہوئے قارئین کو مستفید کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

-----------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند