تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
گائے کے پجاریوں کی درندگی!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 24 ذوالحجہ 1436هـ - 8 اکتوبر 2015م KSA 06:36 - GMT 03:36
گائے کے پجاریوں کی درندگی!

چلیے مان لیتے ہیں کہ بھارت کی حکمراں جماعت اور زعفرانی انقلاب کی پرچارک بھارتیہ جنتا پارٹی 'بی جے پی' کے زیر اقتدارریاست اتر پردیش کے ضلع گوتم بدھا نگر کے قصبہ دادری کے رہائشی محمد اخلاق کے گھر سے ذبحہ کردہ بچھڑے کا گوشت برآمد ہونا گائو ماتا کے پجاریوں کے لیے ناقابل برداشت 'صدمہ' تھا مگرفخر سے گائے کا پیشاب پینے والوں نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کیوں نہ کی کہ وہ جس شخص کو جان سے مار رہے ہیں وہ واقعی ان کی گائو ماتا کی توہین اور اس کے گوشت خوری کا مرتکب بھی ہوا ہے؟۔

یہ تنہا محمد اخلاق کا مقدمہ نہیں بلکہ بھارت کے ان تیس کروڑ مسلمانوں کا اجتماعی المیہ ہے کہ وہ آئے روز اس طرح کے واقعات میں جیتے اور مرتے ہیں۔ اخلاق احمد خوش قسمت ہے کہ وہ ہندو بلوائیوں کے وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں شہادت کا رتبہ پانے کے بعد اپنی جنت کا راستہ ہموار کرگیا مگراس کے ساتھ پیش آئے المناک واقعے نے ہندو بنیے کا مکروہ چہر کچھ ایسا بے نقاب کردیا کہ وہ ہزار پردوں میں بھی منہ چھپائیں توچہرے کی کالک صاف دکھائی دے۔

بھلے بھارتی نیتائوں کا دعویٰ ہوگا کہ ان کا ملک [ہنودستان] دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہے، مگر اخلاق کی شہادت نے دو اور دو چار کی طرح واضح کردیا کہ جمہوریہ تو قد کاٹھ میں بہت بڑی ہے مگر اس کا مکروہ چہربہ قول اقبال' اندروں چنگیز سے تاریک تر' ہے۔ محمد اخلاق کا قتل بھارت میں نہتے مسلمانوں کے قتل عام کے طویل سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اسی ریاست اتر پردیش میں چند ہفتے قبل بھارتی پولیس نے ایک جیل سے مسلمان نوجوان کو گھیسٹ کر باہرنکالا اور لاٹھیوں سے پیٹتے پیٹتے اسے جان سے مار ڈالا۔ اس کی لاش اس طرح مسخ کردی گئی کہ اس کی شناخت بھی نہ ہوسکی۔ مگر چونکہ بڑی جمہوریہ کی پولیس کی کارستانی تھی، اس لیے مسلمان کیڑوں مکوڑوں کی وہاں کیا حیثیت ہے۔

پچاس سالہ محمد اخلاق کو کیا معلوم تھا کہ وہ کن وحشیوں کے ملک میں بستا ہے۔ مگر اس کے جانے کے بعد بھارتی مسلمانوں کو یہ طے کرلینا چاہیے کہ ان میں سے اب ہرایک 'محمد اخلاق' ہے۔ کیونکہ ہرایک کے اڑوس پڑوس میں گائو ماتا کے پجاری اور اس کے پیشاب سے اپنے دھرم کوترو تازہ رکھنے اور نوزائیدوں کو پیشاب کی گھٹی دینے والے' بنیے' تھوک کے حساب سے پائے جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ کوئی گائے ذبحہ کرے تو ہی اسے سزا دی جا سکے۔ ہندوئوں کے خیال میں مسلمانوں کا گائے ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھانے کا ارادہ ہی ناقابل معافی و جان لیوا جرم ہے۔

تعصب کا شکار بھارتی میڈٰیا بالخصوص الیکٹرانک ذرائع ابلاغ نے بھی محمد اخلاق کے سفاکانہ قتل کے واقعے کو دبانے اورمجرموں کو بچانے کی بھرپور کوشش کی مگر بعض صحافتی حلقوں نے واقعےکے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ ریاست اتر پردیش میں سوائے گائے ذبحہ کرنے کےبیف کی باقی تمام اقسام پرکوئی پابندی نہیں۔ حتیٰ کہ ایودھیا میں جہاں پورے سال بیف پرپابندی ہوتی ہے۔ عید بقرہ کے موقع پر تین دن تک باقاعدہ ذبیحہ کی اجازت دی جاتی ہے۔ گائوں کے لوگوں کا بتانا ہے کہ محمد اخلاق کوئی عام آدمی نہیں بلکہ گائوں کے ایک سرکردہ قابل احترام شخص تھے۔ گائوں کے لوگوں میں ہونے والے تنازعات کو مٹانے میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔ کئی بار ہندئوں اور مسلمانوں میں ہوئے تنازعات کوفرو کرنے میں بھی انہوں نے بھرپورمصالحتی کردار ادا کیا مگر ہندو بنیے ان سے ہمیشہ شاکی ہی رہے۔ عین ممکن ہے کہ گائے کے ذبیحہ کی آڑ میں ہندئوں نے اپنی کسی دیرینہ رنجش کی بھڑاس نکالنے کے لیے ان کے ساتھ یہ سلوک کیا ہو۔

مقامی صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ محمد اخلاق گھر پرتھے جب انہوں نے گلی میں شور سنا، کچھ لوگ اونچی اونچی آوازوں میں کہہ رہے تھے کہ اخلاق کے گھر میں بیف پک رہا ہے۔ یہ آوازیں سنتے ہی آس پاس کے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ہندو بھالے، درانتیاں اور لاٹھیاں لے کران کے گھرکی طرف دوڑ پڑے۔ اخلاق کو گھر سے گھیسٹ کرباہر نکالا اور بھالوں اور درانتیوں سے نہایت وحشیانہ انداز میں قتل کرڈالا۔ ہندو انتہا پسندوں کی خوئے انتقام اخلاق کے سانس نکل جانے کے بعد بھی ٹھنڈی نہ ہوئی اور وہ اینٹوں اور پتھروں کے ساتھ اس کا سر کچلتے رہے، یہاں تک کہ اس کی میت ناقابل شناخت ہوگئی تھی۔ اخلاق کے بیٹے دانش نے باپ کو بچانے کی کوشش کی تو اسے بھی مار مار کرلہو لہان کردیا گیا۔

چونکہ موضع بدھا نگرمیں مسلمان گھرانوں کی تعداد بہت کم ہے، اس لیے ہندوئوں کو ان کا وجود کسی صورت میں قابل برداشت نہیں ہے۔ محلے میں ایک چھوٹی سی مسجد ہے۔ ہندئوں کے کئی مندر ہیں۔ مرکزی مندرکے لائوڈ اسپیکر سے اعلان کیا گیا کہ محمد اخلاق نامی مسلمان نے گائے کا بچھڑا ذبحہ کیا ہے۔ یہ خبرانتہا پسند ہندئوں پربرق بن کرگری۔ جس کے بعد جو ہوا وہ چشم فلک نے دیکھا۔

بھارتی پولیس نے محمد اخلاق کے بہیمانہ قتل کے حوالے سے جو کردار نبھایا وہ خلاف توقع نہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ پیش آئے مظالم پربھارتی پولیس کا عموما یہی طرزعمل رہا کرتا ہے۔ پولیس نے خود بتایا کہ محمد اخلاق پرحملے کرنے والے ہندو اشرار کی تعداد 200 سے زیادہ تھی مگر پولیس کارروائی کا تماشا ملاحظہ کیجیے کہ ایف آئی آر میں کُل 10 افراد کے نام شامل کیے۔ ان میں سے بھی چھ ملزمان کی عمریں 14 سال سے بھی کم ہیں۔

بات صرف محمد اخلاق کے سفاکانہ قتل تک محدود نہیں بلکہ ہندوشرپسندوں نے دادری محلے کے متصل قصبے کی ایک مسجد پربھی دھاوا بول دیا اور مسجد کو شہید کردیا گیا۔ ان تمام واقعات پر بھارت کی 'مٹی پائو سرکار' کا طرز عمل بھی بہت خوب رہا۔ ریاست کے مرکزی وزیر مہیش شرما نے ہندئوں کی منظم کارروائی کو "غلط فہمی" کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے گائے کے پچاریوں کی بریت کی بھرپور مہم چلائی۔ بی جے پی کے مقامی لیڈروں نے تو حد ہی کردی جب انہوں نے گرفتار کیے گئے تمام ہندئوں کو بے قصور قرار دیتےہوئے گائے ذبحہ کرنے والوں کو مجرم قرار دیا۔ ٹھاکر پریش سنگھ نے کہا کہ اخلاق کو قتل کرنے والے نہیں بلکہ گائے کو کاٹنے اور اس کا گوشت کھانے والے مجرم ہیں۔ انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

محمد اخلاق کے قتل کا واقعہ عید کے ایام میں پیش آیا مگرعید سے کئی ہفتے قبل ہی بھارت میں بیف اور گائے کے ذبیحہ کا اتنا شدید ہنگامہ برپا تھا،جیسے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ گائے ذبحہ کرنا اور اس کا گوشت کھانا ہو۔ اس ہنگانے کے اثرات پورے بھارت حتیٰ کہ مسلم اکثریتی ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھی واضح طورپر دیکھے گئے جہاں مسلمانوں اور ہندئووں کے درمیان متعدد بار تصادم بھی ہوا۔

یہ سوال اپنی جگہ آج بھی موجود ہے کہ بھارتی حکومتیں بیف کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کرسکی ہیں۔ کئی ریاستوں میں بیف کا استعمال قانونا جرم نہیں سمجھا جاتا۔ حتیٰ کہ بعض ریاستوں بالخصوص گوا میں بیف کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں۔ ہندو بھی کھلے عام بیف خرید کرتے ہیں۔ نیز ملک کی آٹھ شمال مشرقی ریاستوں میں بیف پرامتناع نہیں۔ اگر کئی ریاستوں میں بیف پرپابندی نہیں تو محمد اخلاق کو گائے ذبحہ کرنے کے جرم میں کیوں قتل کیا گیا؟

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند