تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت کی جنگی تیاریاں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 25 ذوالحجہ 1436هـ - 9 اکتوبر 2015م KSA 09:02 - GMT 06:02
بھارت کی جنگی تیاریاں

معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی لیڈروں اور فوجی افسران کو پاکستان کیخلاف بیانات دینے کا دورہ پڑ گیا ہے۔ بھارت کے برگیڈ یر ایس کے چیمہ نے سری نگر میں 15 کور ہیڈ کواٹر میں فوج کی طرف سے منعقد ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ : ’’ راولپنڈی میں پاک فوج کے ہیڈ کواٹر پر حملے کا آپشن موجود ہے۔ ایک اور بمبئی حملے کا انتظار کئے بغیر پاکستان میں ایسا اپریشن کرنا چاہیے جیسا اسامہ بن لادن کیخلاف امریکہ نے کیا تھا‘‘۔ 1965ء کی جنگ کی یادگار مناتے ہوئے بھارتی آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ سہاگ نے اپنے ٹروپس کی بہادری کی بہت تعریف کی اور ساتھ ہی فرمایا کہ: ’’ موجودہ حالات میں جنگی سٹریٹیجی تبدیل ہوگی۔ اب پاکستان کے ساتھ جب بھی جنگ ہوگی یہ مختصر اور شدید ہوگی۔

اس میں رد عمل کا وقت نہیں ہوگا اس لئے ٹروپس کو شارٹ وار کیلئے تیار رہنا ہوگا جو کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے‘‘۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کسی نہ کسی صورت پاکستان کے ساتھ گڑ بڑ چاہتا ہے۔ اسی وجہ سے کنٹرول لائن پر بھی امن قائم نہیں ہو رہا۔ بے گناہ آدمی مارے جا رہے ہیں۔ چند ہفتے پہلے پاکستان کی طرف سے ڈی رینجرز اور بھارت کی طرف سے ڈی جی باڈرز سیکورٹی فورس کے درمیان اسی مسئلہ پر بات چیت بھی ہوئی۔ بھارت کی طرف سے وزیر داخلہ سمیت یقین دلایا گیا کہ آئندہ بھارت کی طرف سے ابتدا نہیں ہوگی لیکن دوسرے ہی دن کیل سیکٹر میں ہمارے دو آدمی شہید کر دئیے گئے۔

بھارت کے بیانات اور عمل میں منافقت ہے جس وجہ سے دو نوں پڑوسی امن سے نہیں رہ سکتے ۔ بھارت ویسے بھی اپنے آپ کو علاقے کا چوہدری سمجھتا ہے اور اپنے تمام پڑوسیوں کو انگوٹھے کے نیچے دبا کر رکھنا چاہتا ہے۔پاکستان کے متعلق تو بھارت کی روز اول سے ہی یہ خواہش ہے کہ خدانخواستہ پاکستان کو اکھنڈ بھارت میں شامل کیا جائے ۔بھارتی لیڈرز بھی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ موجودہ بھارتی وزیر اعظم نر یندرامودی تو منتخب ہی پاکستان دشمنی پر ہوا ہے ۔

بھارت نے اس سال پاکستان کیخلاف مختلف جنگی مشقوں کے ذریعے بہت تیاری کی ہے۔اس وقت ایک بہت بڑی جنگی مشق راجستھان میں جاری ہے۔ یہ ستمبر کے آخر میں شروع ہوئی ہے اور نومبر کے آخر تک جائیگی۔بھارت کے پاس تین سٹرائیک کورز ہیں اور یہ مشق 21ویں کور کررہی ہے جو بھارت کی سب سے زیادہ مؤ ثرسٹرائیک کور شمار ہوتی ہے۔کور کے علاوہ جنوبی ہند کے تمام ٹروپس بھی مشق میں شامل ہیں۔ اس میں 30 ہزار ٹروپس اور سینکڑوں کے حساب سے T.72 اور T.90 بھارت کے Main Battle Tanks حصہ لے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ آرٹلری گنز، ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم بھی شامل ہیں۔ جنگ اور وقت کی کمی کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے ان تمام ہتھیاروں کے استعمال کی افیشنسی چیک کرنے کیلئے سٹیلائیٹ ، ڈرونز ، گرائونڈ اور ائیر بورن راڈار کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔

یہ ایک بہت بڑی جنگی مشق ہے اور اسکی خصوصی بات یہ ہے کہ اس میں ایک فرضی جنگی لائن کھینچ کر اس سے آگے دشمن کا علاقہ تصور کیا گیا ہے اور اس فرضی دشمن کے علاقے میں چھاتہ برادر فوج کے جوان گرائے جائینگے جو دشمن کی پلیں یا دیگر اٹارگٹس کو نقصان پہنچائیں گے ۔جھانسی اور حیدرآباد کے درمیان تمام چھائونیوں کے ٹروپس حصہ لے رہے ہیں۔مقصد فوجی مشق کو حقیقی روپ دیکر "Finetune war Fighting Strategies'' ڈیویلپ کرنا ہے ۔ اس علاقے میں جنگی مشق کے خاص مقاصد ہیں کیونکہ صادق آباد سے نیچے سکھر تک ہماری سرحد جنگی لحاظ سے زیادہ مضبوط نہیں۔ اسے Soft Belly Of Pakistan بھی کہا جاتا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہماری نیشنل ہائی وے اور ریلوے لائن سر حد کے نزدیک سے گزرتی ہیں۔ بھارت کی میجر جنگی وار پلان کے مطابق نیشنل ہائی وے اور ریلوے لائن کو کاٹ کر پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے تا کہ کراچی سے تیل شمال کی طرف نہ پہنچ سکے۔

گو اب پاکستان نے موٹر وے اور انڈس ہائی وے کی شکل میں متبادل سڑکیں بنا لی ہیں لیکن تا حال دونوں لائنز آف کمیونیکشن پاکستان کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ 1986ء میں بھی بھارتی جرنیل سندر جی نے ان لائنز کو کاٹنے کا منصوبہ بنایا تھا جب اس نے ’’براس ٹیک‘‘کے نام سے اس علاقے میں ایک بہت بڑی مشق کی تھی جس میں لائیو ا یمونیشن بھی ساتھ لایا گیا تھا تا کہ اچانک حملہ کر کے یہ لائنز کاٹ دی جائیں حالانکہ جنگی مشقوں میں لائیو ایمو نیشن ساتھ لانے کی روایت نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے بھارتی منافقت کا پتہ پاکستانی قیادت کو بھی چل گیا اور بر وقت رد عمل کر کے بھارتی منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ یاد رہے کہ اس سال بھارت نے اور بھی بہت سی جنگی مشقیں کی ہیں جنکی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے۔ 10 اپریل کو چین کے ساتھ مل کر فوجی ایکسر سائز کی۔ 23 اپریل سے 2 مئی تک ’’وارونا‘‘ نام کی ایک بہت بڑی نیول مشق فرانس کیساتھ مل کر گوا کے علاقے میں کی گئی۔اس میں ائیر کرافٹ کیر یر، ڈسٹرائرز، خفیہ فریگیٹ، گائیڈڈ مزائل گرنیڈ، تیل ٹینکرز، سب میر ین اور فاسٹ اٹیک کرافٹ جیسے ہتھیار استعمال ہوئے۔

ائیر فورس اور ایویشن نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔یکم مئی سے 20 مئی تک ’’گرج پراہار‘‘ کے نام سے پاکستان کے نزدیک مشق کی گئی۔ جس میں بھارت کے مشہور گرج ڈویژن کے 8 ہزار ٹروپس نے حصہ لیا۔ جنگی مشق میں جنگی گاڑیاں، ٹینکس، آرٹلری گنز، سرویلینس سسٹم اور ائیر فورس نے حصہ لیا۔ اس مشق کا مقصد بیان کیا گیا ہے:۔

''The expertise affords an opportunity to commanders, at all levels to exercise their command and control, integrating the latest state of the art assets of reconnaissance and surveillance into a net work - centric decision making matrix''.

(ہر لیول کے کمانڈرز کو اپنی کمانڈ کنٹرول کرنے کا تجربہ دیا جائے دوسرا سرویلنس اینڈ ریکونیسنس کے جدید ترین ہتھیاروں کو جنگی نیٹ ورک میں لا کر ایک ہی فیصلہ کے تحت سب ہتھیار مشترکہ طور پر کام کر سکیں کہیں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو )۔ان مشقوں کے علاوہ بھی بھارت نے جاپان، سری لنکا، امریکہ اور بر طانیہ کے ساتھ بھی مشترکہ مشقیں کی ہیں اور اسے اپنی جنگی طاقت پر بڑا ناز ہے اس لئے بھارتی آرمی چیف اور بھارتی لیڈرز پاکستان کو بار بار سبق سکھانے کی باتیں کررہے ہیں۔لیکن بھارت کو معلوم ہونا چاہیے گو پاکستان آرمی نے اتنی زیادہ جنگی مشقیں تو نہیں کیں لیکن عرصہ دراز سے حقیقی جنگ لڑ رہی ہے ۔حقیقی جنگ میں لڑنا اور جنگی مشقیں کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ بھارت کی جنگی تیاریاں اپنی جگہ لیکن بھارت کو احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان نہ کیک کا ٹکڑا ہے اور نہ گلاب جامن کہ اٹھا کہ منہ میں ڈال لیا جائے ۔یوم ِ شہدا کے موقعہ پر ہمارے آرمی چیف نے ٹھیک جواب دیا تھا کہ ’’ جنگ روایتی ہو یا غیر روایتی ، شارٹ ہو یا لانگ، ہاٹ ہو یا کولڈ ہم تیار ہیں‘‘۔ اس اعلان کے بعد بھارتی چیف اور بھارتی لیڈرز کے ذہنوں میں کسی قسم کا خلل نہیں رہنا چاہیے۔

--------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند