تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
انڈونیشیا: خونی بربریت کے پچاس سال!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 19 ذیعقدہ 1440هـ - 22 جولائی 2019م
آخری اشاعت: اتوار 27 ذوالحجہ 1436هـ - 11 اکتوبر 2015م KSA 11:01 - GMT 08:01
انڈونیشیا: خونی بربریت کے پچاس سال!

یکم اکتوبر 1965ء کو علی الصبح انڈونیشیا کے جزائر میں بہیمانہ قتل عام شروع ہوا۔ امریکی سامراج جکی پشت پناہی سے فوجی جرنیلوں اور ملاؤں کی جانب سے کمیونسٹ تحریک کے خلاف اس خونریز رد انقلاب کا مقصد سب سے زیادہ مسلمان آبادی والے اس ملک مین سوشلسٹ انقلاب کو کچلنا تھا۔ پچاس برس قبل انڈونیشیا میں ہونے والی بربریت کی تحقیقات کے لئے بننے والے بین الاقوامی عدالتی ٹریبونل کا اجلاس اگلے ماہ ہیگ میں ہوگا۔ ہیگ ہالینڈ کا دارالحکومت ہے جس نے صدیوں انڈونیشیا پر حکومت کی ۔ ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا محاسبہ جکارتہ میں نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ جنرل سوہارتو کی آمریت کے خاتمے کے ستر برس بعد بھی انڈونیشیا پر اسی فوجی اور سیاسی اشرافیہ کی حکمرانی ہے جو اس بربریت میں ملوث تھی۔

پاکستان میں 1960 ء1970ء کی دہائیوں میں تعلیمی اداروں میں باہیں بازو کے طلبہ کے کؒاف فاشست ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے مذہبی بنیاد پرست جماعتیں اور انکی متشدد طلبہ تنظیمیں یہ نعرہ لگاتی تھیں کہ ہ م پاکستان کو انڈونیشیا بنا دیں گے۔ ان دنوں جب سیاست میں نظریات کو کسی حد تک فوقیت حاصل تھی اور کارپوریٹ سرمائے اور کالے دھن کے ہاتھوں طلبہ اور عوامی سیاست سے نظریات کا خاتمہ نہیں ہوا تھا تو یہ بنیاد پرست کم ازکم دیانت داری سے یہ اعتراف تو کرتے تھے کہ امریکی سامراج پوری دنیا میں انکا آقا اور انداتا ہے۔

انڈونیشیا میں ہونے والے جبر و بربریت کا اندازہ سی آئی اے کی ڈی کلاسی فائڈ فائلوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ خو دسی آٗی اے کے مطابق سوہارتو کاکو بیسویں صدی کے بدترین قتل عاموں میں سے ایک تھا۔ قتل و غارت میں بنیادی کردار فوج کا تھا لیکن فوجی جرنیلوں اور سامراجیوں کا نہضۃ العلما جیسی مذہبی بنیاد پرست تنظیموں کے مسلح گروہوں کی پوری معاونت حاصل تھی، جو پاکستان کی جماعت اسلامی جیسی ہی تنظیم ہے۔ کمیونسٹوں اور انکے ہمدردوں کو قتل کرنے میں پیش پیش سپیشل فورسز کا سربراہ کرنل ساروایدھی گزشتہ برس تک صدر رہنے والے سوسیلو بامبینگ یودھویونو کا سسر تھا۔ انڈونیشیا میں فوج بدستور بہت زیادہ طاقتور ہے اور گزشتہ نصف صدی سے 65 کے قتل عام میں انکی معاونت کرنے والے بہت سے مسلح گروہ اور افراد آج بھی ہر طرح کی پکڑ سے آزاد ہیں۔ سچ کریدنے کی کوشش کرنے والوں کو قتل کی دھمکیاں ملنا عام ہے۔ موجودہ صدر جوکو ویدوو نے ریاست کی جانب سے 65 کے قتل عام پر کم ازکم معافی مانگنے کا عندیہ دیا تھا لیکن اب وہ اس موقف سے بھی پیچھے ہٹ چکے ہیں۔

ساری دنیا کے محنت کش عوام سرمایہ داروں اور انکی ریاست کی وحشت سے بخوبی واقف ہیں۔ تاریخ کا پہلا پرولتاری انقلاب 1871ء میں پیرس میں آیا جہاں پندرہ مارچ سے اٹھائش مئی تک استحصال زدہ اکثریت نے مٹحی بھر سرمایہ داروں کی اقلیت پرستر روز تک حکومت کی تھی۔ لیکن اس پرولتاری انقلاب کو بےرحمی سے خون میں نہلا دیا گیا۔ اٹھارہ لاکھ کی آبادی کے شہر میں اسی ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یعنی پیرس کی 4.4 فیصد آبادی کا قتل عام کیا گیا۔ 1965-66ء میں انڈونیشیا کی آبادی تقریبا نو کروڑ تھی۔ اگرچہ اس بارے میں مختلف اندازے پیش کئے گئے ہیں لیکن فوجی آپریشن کے کمانڈر جنرل ساروایدھی کے اپنے اعتراف کے مطابق تیس لاکھ لوگ قتل کئے گئے جو آبادی کا 3.3 فیصد بنتے ہیں۔ یہ سب کچھ جمہوریت اور انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیدار امریکی سامراج کے ایما پر کیا گیا۔

انقلاب کوئی واقعہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سماجی عمل کا نام ہوتا ہے جس کا دورانیہ بوض اوقات بہت طویل بھی ہوسکتا ہے۔ انڈونیشیا کے انقلاب کا آغاز ستارہ اگست 1945ء کو ہوا اور اگلے بیس برس تک اس میں کئی نشیب و فراز آئے۔ تاہم اس عرصے میں کوئی بھی گروہ یا طبقہ حتمی طور پر فتح یاب نہ ہو سکا۔ سرمایہ دار طبقے میں اتنی قوت نہیں تھی کہ وہ محنت کش عوام پر اپنا تسلط قائم کر سکے ، دوسری جانب محنت کشوں کی قیادت بھی اپنی نظریاتی کمزوریوں اور ٹھوس لائحہ عمل کے فقدان کے باعث اقتدار حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔ اس تعطل کی وجہ سے عوامی رہنما سویئکارنو برسراقتدار آگی۔ انقلابی نعرہ بازی اور سوشلسٹ لفاظی کے باوجود دوسرے عیار اصلاح پسندوں کی طرح سوئیکارنو نے کئی چالیں چلیں لیکن سوشلزم کی جانب پیش رفت کا اہم ترین فریضہ ادا نہیں کیا، جو سرمایہ دارانہ ریاست کو گرا کر اسکی جگہ ایک نئی مزدور ریاست قائم کرتا۔

کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کے تھیسز کے مطابق آخری تجزیے میں ریاست مسلح افرات کے جتھوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ فیصلہ کن موڑ پر سپریم لیڈر سوئیکارنو کا ریاست پر کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ سوئیکارنو کسی بھی اصلاح پسند کی طرح سرمایہ دارانہ پارلیمنٹ کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اس خوش فہمی کا شکار تھا کہ وہ واقعی اقتدار کا مالک ہے۔ بدقسمتی سے محنت کش عوام کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈونیشیا پی کے آئی سوئیکارنو کی پیروی میں اسکی اصلاح پسندی کو سہارا دیتی رہی۔ پی کے آٗی کا موقف تھا کہ سرمایہ دارانہ ریاست میں سے عوام دشمن عناصر کو بتدریج نکال کر انکی جگہ عوام دوست عناصر کو شامل کر کے اسے عوامی ریاست بنایا جا سکے۔ تمام اصلاح پسند لیڈروں کو یہی غلط فہمی ہوتی ہے کہ اگر وہ زیادہ سیٹیں جیت کر پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر لیں تو سرمایہ دارانہ ریاست ختم ہوجائے گی اور محنت کش برسراقتدار آجائیں گے۔ لینن نے اپنی کتاب ریاست اور انقلاب میں اس بیہودہ خیال کو بےرحم تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

لینن نے ٹھوس دلائل اور تاریخی حقائق کی روشنی مین ثابت کیا تھا کہ حکمران طبقے کے مفادات کا تحفظ اور جبر واستحصات سرمایہ دارانہ ریاستی مشینری کے خمیر میں شامل ہے اور سوشلسٹ انقلاب کی حتمی کامیابی کے لیے ایسی ریاست کا انہدام ضروری ہے۔ نلینن نے یہ شہر آفاق کتاب نومبر 1917ء کے انقلاب کے چند ماہ قبل انڈر گراؤنڈ رہتے ہوئے لکھی تھی جسکا مقصد بالشویک پارٹی کو اقتدار پر قبضہ کر کے سرمایہ دارانہ ریاست کی تباہی اور ایک نئی مزدور ریاست کے قیام کے لئے نظریاتی اور تنظیمی طور پر تیار کرنا تھا۔ لیکن سٹالن ازم کی مرحلہ وار انقلاب کی تھیوری مین غرق پی کے آئی کی قیادت نے اپنے ممبران کو کبھی اس کام کے لئے تیار ہی نہیں کیا تھا۔ اس تھیوری کے مطابق انقلاب کا کردار بورژوا جمہوری ہوگا، چنانچہ اس کا فیرضہ مزدور ریاست کی بجائے عوامی ریاست کی تشکیل ہوگا جس کا طریقہ اہلکاروں کی بتدریض تبدیلی ہے۔ پی کے آئی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ڈی این آئیڈٹ اور دوسرے لیڈران کا موقف تھا کہ طبقاتی جدوجہد ، قومی جدوجہد کے آگے ثانوی حیثیت رکھتی ہے جو کہ مارکسزم کی اساس سے کھلا انحراف تھا۔

رجعتی جرنیل اور سرمایہ دار بخوبی جانتے تھے کہ انہیں طبقاتی جدوجہد کا سامنا ہے۔ تناؤ بڑھتا گیا اور کمیونسٹوں اور فوج کے بنیاد پرست افسرانکے درمیان شدید تصادم ہونے لگے۔ یاد رہے کہ انڈونیشیا کی فوج کے پچاس فیصد سے زائد سپاہی اور جونیئر افسران پی کے آٗئی کے ہمدرد یا باقاعدہ ممبر تھے۔ یکم اکتوبر 1965ء کو پی کے آٗی کے ہمدرد افسران کے ایک گروپ نے چھ فوجی جرنیلوں کو قتل کر دیا، یہ فوجی کو کو کا آغاز تھا جسے تیس ستمبر کی تحریک کا نام دیا گیا۔ کو کامیاب نہ ہو سکا لیکن اسے جواز بناتے ہوئے جنرل سوہارتو نے پی کے آئی کے خلاف امریکی و برطانوی خفیہ ایجنسیوں اور اسلامی بنیاد پرستوں کی معاونت سے قتل عام کا آغاز کر دیا۔ 2012ء میں ڈنمارک کے ڈائریکٹر جوشوا اوپن ہائمر، نے ایک انڈونیشیائی باشندے کے تعاون سے ان خونی واقعات کی تفصیل پر ڈاکومنٹری فلم The Act of Killing ریلیز کی ہے جس میں رونگٹے کھڑے کر دینے والے انکشافات قتل عام میں ملوث افراد نے خود کئے ہیں۔

سوہارتو کی ظالمانہ آمریت کے ہاتھوں نسلیں برباد ہوئیں۔ اٹھائیس سال بعد 1998ء میں ایک نئ عوامی بغاوت کے ذریعے سوہارتو کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ لیکن نوجوانوں اور محنت کشوں کی انقلابی طاقت کو جمہوریت کے نام پر زائل کر دیااا گیا۔ اس عظیم تحریک کے سترہ سال بعد آج انڈونیشیا کے عوام غربت ، بے روزگاری ، ذلت اور محومی کے ہاتھوں برباد ہیں۔ مالدار طبقات کی جمہوریت استحصالی سرمایہ داری کو قائم رکھنے کا محض ایک ہتھکنڈہ ہے۔ آںے والے دنوں میں نئی بغاوتیں ابھریں گی۔ انڈونیشیا کے عوام کے لیے انکے پرکھوں کا خون انقلاب کے اسباق سمیٹے ہوئے ہے!

-----------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند