تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قبائلی علاقوں کا صوبہ پختونخوا میں انضمام…
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 27 ذوالحجہ 1436هـ - 11 اکتوبر 2015م KSA 09:47 - GMT 06:47
قبائلی علاقوں کا صوبہ پختونخوا میں انضمام…

فرنگی استعمار پورے طمطراق سے ہندوستان پر غالب ہو رہا تھا،تاہم ایک موقع پر انہیں جنوبی ہندوستان کی ایک ریاست میں زبردست مزاحمت کا سامنا تھا، تحقیق پر پتہ چلا کہ اس ریاست کے باشندے کٹر ہندو ہیں اور وہ اپنے راجہ سے عقیدت کی حد تک وفادار ہیں۔ انگریز نے غدارانِ وطن کے تعاون سے اس کا قابلِ عمل حل ڈھونڈ نکالا، آس پاس کے علاقوں سے 12 سو گائے جمع کیں،آگے آگے یہ گائے تھیں اور پیچھے پیچھے استعماری فوج، بہادر ہندو ریاستی فوج کو عظیم امتحان کا سامنا تھا، اگر فائر کرتے ہیں تو گولی گائے’’گائو ماتا‘‘ کو لگتی ہے، نہیں کرتےہیں تو فرنگی فوج کی پیش قدمی کو روکا نہیں جاسکتا، وہ اس کشمکش میں رہے ، اور اس دوران اُنہیں سبق سکھاتے ہوئے فرنگی استعمار ریاست کے اردگرد پر قابض ہو کر اعلان کر رہا تھا All is fair in love and war ’’جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے‘‘ یہ اگرچہ کلیسا کے جدید نو آبادیاتی فکر کا سیاسی نظریہ تھا، لیکن برصغیر میں فرنگی نے یہ نظریہ مغلوں سے مستعار لیا تھا، مغلوں نے افغانوں (پختونوں) سے ہندوستان کا اقتدار چھینا تھا، اپنی حاکمیت برقرار رکھنے کی خاطر وہ پیسہ اور مذہب فروشوں کو بروئے کار لاتے رہے، مثالیں بہت ہیں، صرف ایک پر اکتفا کرتے ہیں، جب پیر بابذید انصاری ( پیر روشن) پختونوں کی فقید المثال جمعیت کے ساتھ مغلوں پر حملہ آور ہوئے، تو اوسان خطا مغلوں نے یہی کامیاب نسخہ آزمایا کہ پیر روشن کو مذہب فروشوں کی مدد سے ’’پیر تاریک‘‘بنا ڈالا۔ پھر رنجیت سنگھ، جس نے ایرانیوں اور بعد ازاں انگریزوں کے توسط سے پختون علاقوں پر دسترس حاصل کر لی تھی، وہ اور اس کے جاں نشین بھی زرخرید مسلمانوں کو ہی کام میں لائے تھے ، سکھوں کیخلاف سید احمد بریلوی اور سید اسمٰعیل شہید کی عظیم تحریک کی ناکامی کی وجہ بھی کوئی اور نہیں، مذہب فروش تھے…

اب ایسے عالم میں نو آبادیاتی نظام کے خالق و مالک انگریز، ایسے مجرب نسخوں سے کس طرح غافل رہ سکتے تھے، پھراس پختون قوم کے حوالے سے جس سے 1857ء سے 1877ء تک بیس سال میں گیارہ جنگوں کی نوبت آئی، ان میں 1863ء میں لڑی جانے والی امبیلہ (بونیر + مردان) کی جنگ بھی تھی، جس میں نہ صرف انگریزوں کو، وہ جو کہتے ہیں کہ چھٹی کا دودھ یاد آگیا تھا، بلکہ پختون شعراء نے ایسا شاہکار، رزمیہ ادب تخلیق کیا کہ اور تو اور فرانسیسی مستشر ق جیمز ڈار مستیٹر اس سارے منظر نامے کو اپنی کتاب ’’ دَپختونخوا ہار و بہار‘‘ میں محفوظ کرنے پر مجبور ہوا۔ اسی طرح وہ تاریخی معرکہ، جوڈیورنڈ لائن اور قبائل میں ایجنسیوں کے قیام کیخلاف برپا ہوا تھا۔ سیدبہادر شاہ، ظفر کاکا خیل، پختون تاریخ کی روشنی میں رقمطراز ہیں کہ’’ 1897ء کی جنگ میںتمام پختون ، فرنگی استعمار کیخلاف یک آواز تھے،پختونوں نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے، اس سے قبل اور نہ ہی اس کے بعد پھر تاریخ نے پختونوں کے ایسے کسی اتحاد کا مظاہرہ دیکھا (صفحہ1145 تا 1150) جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ تین اینگلو افغان جنگوں میں کیسی کیسی حرکتوں کا عمل دخل تھا، تفصیل کا یہ موقع نہیں، تاہم یاددہانی یہ کرانی ہے کہ جب انگریزکابل پر قابض ہوا تو افغانوں نے اُن کی 16 ہزار فوج کی ایسی درگت بنائی کہ اُن میں ایک بھی زندہ نہ بچ سکا،صرف ایک ڈاکٹر برائڈن تھے، جو زخمی حالت میں جلال آباد پہنچے، لیکن پھر انہی فاتح افغانوں کے کابل کو انگریز نے جلا ڈالا،کیونکہ ان کے دست و بازو وطن فروش افغان ہی تھے!!

بعض پختونوں کا المیہ یہ ہے کہ بقول ولی خان صاحب یہ بڑے بڑے پہلوانوں کے آگے تو سینہ سپر ہو جاتے ہیں لیکن پیسےکے سامنے جیسے کہ یہ موم کی گڑیاہوں..... ٖ!!Sir Welliam barton.india's north west frontier میں بتاتے ہیںکہ ’’وائسرائے لارڈ کرزن کے دور 1899-1905ء میں سرحد میں حریت مخالف مہم پر صرف دو لاکھ 48 ہزار پونڈ خرچ ہوئے حالانکہ اس سے قبل کے دور میں پانچ سال میں 45 لاکھ پونڈ خرچ ہوئے تھے (صفحہ72) یہ رقم ’’ماجب‘‘ کے نام پر اعلانیہ دی جاتی تھی جبکہ دیگر رقوم خفیہ ہوتی تھیں، اس رقم کا اتنا اثر تھا کہ ایک قبیلہ بسا اوقات دوسرے قبیلے کیخلاف بھی جنگ لڑنے سے دریغ نہیں کرتاتھا، یوں لڑائو اور حکومت کرو کی پالیسی پوری آب و تاب کے ساتھ کامیابی کا سفر طے کرتی رہی، پختونخوا(سرحد) کے اس وقت کے گورنر جارج کنگھم کی ڈائری میں اُن رقوم کی وہ ساری تفصیلات ہیں جو انگریز سرکار نے وطن و دین فروشوں کو وقتاً فوقتاً دیں۔ عرض یہ کرنا ہے کہ یہ پختون بیلٹ ہی تھی جو استعماری پالیسیوں کی راہ میں مزاحم تھا، اور اس ناطے یہ عالمی سامراجی پالیسی کا محور و جز لا ینفک تھی۔

دہلی کا استحکام، روسی ریچھ اور بعد ازاں اشتراکیت پر نظر اسی خطے سے وابستہ تھی، چنانچہ ضروری تھا کہ پختونوں کا شافی علاج کیا جائے اور یہ علاج پختونوں کی تقسیم کے بغیر ممکن نہ تھا، چنانچہ حریت پسند پختونوں کو چار ٹکڑوں میں تقسیم کردیا گیا، یہ ایجنڈا ملکوں، خانوں اور دین فروشوں کے تعاون سے پایہ تکمیل تک پہنچایاگیا۔ مجھ سمیت ہر پختون کیلئے یہ بات باعث رنج ہے کہ پختونوں جیسے جری و دیندار لوگوں کے بعض بڑوںکے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ پیسوں پر بکتے ہیں، مگر جہاں ہم پختونوں کے محاسن بیان کرتے نہیں تھکتے، وہاں ان کے ایسے عیوب کا تذکرہ بھی ضروری ہے، جن کے باعث یہ آج زوال پذیر ہیں، مذکورہ کتاب کے صفحہ 98 پر تو سرویلیم بارٹن یہاں تک لکھتے ہیں کہ ہمارے انٹیلی جنس افسر نے جس خان، ملک اور ملا سے رابطہ کیا تو اس نے انہیں مایوس نہیں کیا۔ Eighteen years in the Khyber میں سر ایڈورڈ جو برطانوی سامراج کے پہلے دور کے کامیاب نمائندوں میں سے تھے،ایسے متعدد حوالے دیئے ہیں۔یہ امر کیا حیرت انگیز نہیں ہے کہ پختونوں سے دہلی کا اقتدار چھیننے والا ظہیرالدین بابر جب فرغانہ میں خانہ جنگی سے تنگ آکر وطن چھوڑنے پر مجبور ہوا، تو وہ صرف 240 ساتھیوں کے ہمراہ کابل آیا اور کسی مزاحمت کے بغیر بادشاہ بن گیا۔اس سلسلے میںیہاں ہم کسی غیر کی نہیں، ایسے اپنے کی گواہی لیتے ہیں، جنہیں حضرت اقبال جاوید نامہ میں شاعر افغان شناس وحکیم ملتِ افغان کہتے ہوئے اُن کی حق گوئی کویوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

خوش سرودآں شاعرِ افغاں شناس
آنکہ بنید باز گوید بے ہراس
آن حکیم ملتِ افغانیاں
آن طبیب علت ِافغانیاں
رازقو مے دید و بے باکانہ گفت
حرفِ حق باشوخئی رندانہ گفت
جی ہاں انہی خوشخال خان خٹک کا کہنا ہے
پختانۂ لکہ مگس ورباند ے گرزی
ورتہ ایخے مغل دَحلواتال دے

یہاں کہنا یہ مقصود ہے کہ پختونوں کی تقسیم میں غیروں سے کہیں زیادہ اپنوں کا ہاتھ تھا۔ بہر صورت آج اگر قبائلی نمائندے اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ ان کا علاقہ تو پختونخوا ہی کا اٹوٹ انگ ہے اور وہ اس صوبے کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ انہیں اس حق سے محروم کرنے کی کوئی کوشش کی جائے، غلامی کے اپنے حقائق ہوتے ہیں، آزادی کے بعد ایک آزاد ریاست میں علاقہ غیر کا تصور کیا معنی رکھتا ہے ؟ کیا کہیں اور بھی ایسا ہے کہ ایک ملک میں صوبوں کو تو تمام تر حقوق حاصل ہو ں اور فاٹا یا قبائلی علاقوں کے نام پر ایک بڑے حصے کو جملہ حقوق سے محروم رکھا گیا ہو؟ انگریز نے تو یہ سارا کچھ اپنے توسیع پسندانہ مفادات کے تحفظ کی خاطر کیا تھا ،یہاں سوال یہ ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں انگریز ہی کا دیا ہوا انتظام اب تک کن مقاصد کے لئے قائم ہے؟

----------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند