تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کشمیر اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 27 ذوالحجہ 1436هـ - 11 اکتوبر 2015م KSA 11:08 - GMT 08:08
کشمیر اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہے

پاکستان کی بہادر فوج کے جری سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے لائل انسٹی ٹیوٹ لندن میں خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کے پالیسی سازوں اور دارالعوام کے اراکین پر واضح کیا کہ پاکستان، ہندوستان میں کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کشمیر کے مسئلے پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ جب تقسیم ہند میں ریڈ کلف ایوارڈ نے بدنیتی سے گورداسپور ہندوستان میں شامل کردیا تو کشمیر کی آزادی کیلئے قبائلی لشکر 22 اکتوبر 1947ء کو کشمیر کی سرحد عبور کر کے سری نگر تک جا پہنچے، مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان سے مدد طلب کی مگر ہندوستان نے شرط رکھی کہ وہ پہلے کشمیر کا ہندوستان کیساتھ باقاعدہ الحاق کا اعلان کرے۔

چنانچہ راجہ نے ایسا ہی کیا جس کی وجہ سے ہندوستان کی باقاعدہ فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئیں اور اس پر غاصبانہ قبضہ کر لیا جس پر پاکستان کی افواج کے دستے بھی بریگیڈیئر اکبر کی قیادت میں کشمیر میں داخل ہو گئے۔ جب ہندوستان کو محسوس ہوا کہ پاکستان کے قبائل اور مقامی کشمیریوں کا لشکر کشمیر کا ایک تہائی حصہ آزاد کرا چکا ہے لیکن ایسا نہ ہوا کہ مکمل کشمیر پر کشمیری مجاہدین اور قبائلی لشکر قابض ہو جائے وہ کشمیر کے مسئلے کو 13 اگست 1948ء کو اقوام متحدہ میں لے گیا چونکہ ہندوستان کو کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ کی حمایت حاصل تھی تو اسے یقین تھا کہ ریفرنڈم میں اسے فتح حاصل ہوگی مگر یکم جنوری 1949ء کو ہندوستان اور پاکستان میں سیز فائر ہوگیا اور کنٹرول لائن وجود میں آ گئی مگر آج تک ہندوستان اقوام متحدہ کی قرارداوں پر عملدرآمد سے گریزاں ہے اس لئے آج 67 سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان کے سپہ سالار کو یہ کہنا پڑا کہ کشمیر اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہے اسی سے ملتی جلتی بات وزیراعظم نواز شریف نے بھی اقوام متحدہ میں کہی کہ آج تک مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا حقیقتاً اقوام متحدہ کی ناکامی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف اور سپہ سالار جنرل راحیل شریف کا اقوام عالم کے سامنے پاکستان اور کشمیری عوام کے تاریخی موقف کا اعادہ کرنے سے ان چھیانوے ہزار شہداء کی روحوں کو یقینا قرار ملا ہوگا جنہوں نے آزادی کشمیر کیلئے اب تک جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ 1957ء میں ہندوستان نے کشمیر کو آرٹیکل 370 ہندوستان کے آئین کے تحت انڈین یونین میں سپیشل سٹیٹس دیکر اس کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کردیا حالانکہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے ہمیشہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، ریاست جموں وکشمیر پر جب ہندو راجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی تو یہاں کی آبادی کا 77 فیصد مسلمانوں پر مشتمل تھا۔ کشمیر کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے بھارت ہر حالت میں اس پر قابض ہونا چاہتا تھا، لارڈ مائونٹ بیٹن نے یہاں پر بڑا مکروہ کردار ادا کیا اور وہ راجہ کو بھارت سے الحاق کیلئے مجبور کرتا رہا، کانگریسی ذہن کے مالک کشمیری لیڈر بخشی غلام نے کشمیری رہنمائوں کو بھارت کیلئے کام کرنے کیلئے آمادہ کیا، ہندو فرقہ پرست تنظیموں کو کشمیر میں مسلمان حریت پسندوں کو دبانے کیلئے بھجوایا گیا تاہم حریت پسند کشمیریوں نے نہ صرف بھارتی عزائم کو ناکام بنایا بلکہ راجہ کی باقاعدہ فوج کو شکستوں پر شکستیں دینا شروع کر دیں اور خاصا بڑا علاقہ آزاد کرا لیا۔

بلتستان اور گلگت سے بھی حریت پسندوں نے ڈوگرہ فوجوں کو باہر دھکیل دیا جب آزادی کی تحریک نے زور پکڑا تو اسے کچلنے کیلئے مجاہدین کے لشکر کا مقابلہ کرنے کیلئے ہندوستانی افواج کشمیر میں ایسی داخل ہوئیں کہ آج تک دس لاکھ سے زیادہ ہندوستانی فوج کشمیر میں تعینات ہے اور نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم ڈھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے جو قرار داد بھارت سلامتی کونسل میں یکم جنوری 1948ء کو لے کر گیا اس پر آج تک عملدرآمد نہ ہو سکا جو کہ اقوام عالم کی بے حسی اور ہندوستان کی مکاری کو ظاہر کرتا ہے کہ قرارداد بھی خود پیش کی اور آج تک اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہے اس قرارداد کے اہم نقاط یہ تھے۔ (1) فوری طور پر جنگ بندی ہو۔

(2) ریاست جموں وکشمیر سے دونوں ممالک کی افواج اور دیگر متحارب عناصر نکل جائیں۔

(3) ریاست میں ایک مخلوط حکومت قائم ہو جس میں مختلف جماعتوں کو نمائندگی دی جائے۔

(4) صورت حال معمول پر آجائے تو ریاست میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کرائی جائے۔

اگست 1949ء تک بھارت نے کوئی مثبت قدم نہ اٹھایا اور نہ ہی اپنے نمائندے مشترکہ کمیٹی کیلئے پیش کئے۔ اقوام متحدہ نے آسٹریلیا کے ایک جج سراوون ڈکسن کو جولائی 1950ء میں اپنا نامزد نمائندہ برصغیر بھیجا، اسکے مطابق طے کیا گیا کہ پاکستان کی افواج کشمیر سے پہلے نکل جائیں اور کچھ روز بعد بھارتی افواج بھی چلی جائیں ۔ آزاد کشمیر کی افواج اور ناردرن سکائوٹس جیسی تنظیمیں ختم کردی جائیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی افواج اور ملیشیا کو توڑ دیا جائے۔ رائے شماری کیلئے پورے کشمیر میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کے تحت ایک تنظیم عمل میں لائی جائے اور ہر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ساتھ اقوام متحدہ کا ایک مبصر ہو تاکہ رائے شماری میں کسی قسم کی مداخلت نہ ہو۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں شیخ عبداللہ کی وزارت عظمیٰ کے تحت حکومت برقرار رہے۔ البتہ ایسا بندوبست کیا جائے کہ شیخ صاحب اپنے مطلب کے نتائج کیلئے موثر کارروائی نہ کر سکیں۔ اسکے علاوہ ڈکس نے یہ بھی فارمولا پیش کیا کہ سارے جموں وکشمیر میں واحد انتظامیہ قائم ہو جو مکمل طور پر غیر جانبدار ہو اور غیر سیاسی افراد پر مشتمل ہو اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ براہ راست اقوام متحدہ کا کنٹرول ہو جائے۔

ڈکسن کا پلان ناکام ہوگیا۔ بھارت ہٹ دھرمی کا آغاز کر چکا تھا اسے اقوام متحدہ نے اپنا تسلط جمانے کیلئے کافی وقت فراہم کردیا تھا ڈکسن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ’’بھارت کی افواج نسبتاً زیادہ آبادی والے حصے میں موجود ہے ایسے میں اگر ریاستی ملیشیا اور ریاستی پولیس کو اپنا اثر قائم کرنے کا موقع دیا جاتا ہے تو کشمیری عوام اپنی رائے کا آزادانہ اظہار نہیں کر سکیں گے اور اگر رائے شماری کا نتیجہ پاکستان کی توقعات کے برعکس نکلا تو وہ یہ کہتے ہیں حق بجانب کہ رائے شماری آزادانہ اور منصفانہ نہیں تھی۔ سراوون ڈکسن کی ناکامی کے بعد ڈاکٹر گراہم اقوام متحدہ کے نمائندے بن کر برصغیر آئے۔ سلامتی کونسل نے 30 مارچ 1951ء کو مسئلہ کشمیر پر غور کرنے کے بعد ایک قرارداد منظور کی اور کہا کہ 13 اگست 1948ء اور 5 جنوری 1949ء کی قراردادوں کے مطابق وادی سے تمام افواج باہر نکال لی جائیں ڈاکٹر گراہم کو رائے شماری کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرنے اور اس پر عمل کروانے کیلئے بھیجا گیا۔

ڈاکٹر گراہم نے تین مہینے تک دونوں ممالک کے نمائندوں اور کشمیریوں کے مختلف گروپوں سے ملاقاتیں کیں تاہم ڈاکٹر گراہم نے 21 دسمبر کو اپنی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کی اور اپنی بے بسی کا اظہار ان الفاظ میں کیا، ’’میں قائل ہوگیا ہوں کہ بھارت کو افواج واپس بلانے پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایسے حالات پیدا کئے جا سکتے ہیں کہ کشمیری عوام کی دھونس اور دھاندلی سے متاثر ہوئے بغیر اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں‘‘ ڈاکٹر گراہم نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان نے ان تجاویز پر عملدرآمد کرنے کے حق میں رائے دی اور مکمل تعاون فراہم کیا لیکن بھارت کارویہ منفی رہا۔ بھارت کی سرکار نے صرف تین مختلف مواقع پر اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوشش کی، اول جب فروری 1999ء میں واجپائی لاہور آئے اور ایک قبول شدہ ٹائم فریم میں مفاہمت پر آمادگی ظاہر کی جس کے مطابق 25 سال کیلئے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے درمیان کنٹرول آف لائن ختم کردی جائے ، کشمیری جس ملک کا چاہیں ویزہ رکھیں اور کشمیر کا دفاع اور خارجہ پالیسی کے معاملات پاکستان اور ہندوستان کی مرضی سے طے پائیں۔ دوم، جولائی 2000ء میں نئی دہلی نے کشمیر کے مجاہدین آزادی کے ساتھ بات چیت پر آمادگی ظاہر کی۔

سوم، جب واجپائی نے جنرل مشرف کو آگرہ آنے کی دعوت دی اور اپنی 20ماہ کی اس پالیسی سے یو ٹرن لیا جسکے تحت واجپائی نے اکتوبر 1999ء کے فوجی شب خون کے بعد پاکستان سے بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا تھا، آج پاکستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کیساتھ وابستگی کو مضبوط کر کے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا جائز طریقوں سے حل کرنے پر زور دیکر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی اخلاقی اساس کو بے حد مضبوط کردیا ہے کیونکہ 8 جون 1998ء کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی منظور شدہ قرارداد میں بھی کشمیر کا ذکر کیا گیا۔ اس قرارداد میں جنوبی ایشیاء میں دیرپا امن، تحفظ اور استحکام کیلئے ہندوستان اور پاکستان میں کشیدگی ختم کرنے کیلئے مسئلہ کشمیر کا ذکر کیا گیا، بہر حال آج ہماری حکومت، فوج اور عوام کشمیر کی پالیسی پر کسی کنفیوژن کا شکار نہیں ہیں جبکہ 1972ء سے لیکر 1989ء تک پاکستان کی کشمیر پالیسی میں پاکستان نے کشمیر کی قراردادوں کی تجدید کرانے کی کبھی ضرورت محسوس نہ کی تھی۔
----------------------------------------------
بہ شکرویہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند