تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اکبری منڈی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 29 ذوالحجہ 1436هـ - 13 اکتوبر 2015م KSA 09:24 - GMT 06:24
اکبری منڈی

این اے 122 کا ضمنی الیکشن صرف ایک الیکشن نہیں تھا، یہ عوام، وقت اور قدرت کی سپریم جوڈیشل کا حتمی فیصلہ بھی تھا، یہ فیصلہ ملک، سیاسی جماعتوں اور ملک کے سیاسی نظام کا مستقبل بھی ہے، پاکستان مسلم لیگ ن ساڑھے سات برس سے لاہور کے ترقیاتی کاموں کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے، یہ غلط بھی نہیں کیونکہ لاہور میں ساڑھے سات سال میں ریکارڈ کام ہوئے ہیں، لاہور میں انڈرپاسز، اوور ہیڈ برجز، سڑکوں، میٹروبس اور پارکس کا جال بچھا دیا گیا، آپ اگر کراچی، کوئٹہ یا پشاور سے لاہور جائیں تو آپ کو ایک سماجی جھٹکا لگتا ہے اور آپ کو یہ سمجھنے میں بڑی دیر لگتی ہے ’’لاہور بھی پاکستان کا حصہ ہے‘‘۔

وزیراعلیٰ پنجاب در اصل لاہور کو پیرس بنانے کے خبط میں مبتلا ہیں، یہ دن رات اس کام میں جتے ہوئے ہیں، ان کا خیال تھا، لاہور کے لوگ ان کی ان شبانہ روز کوششوں کا دل سے احترام کرتے ہیں اور یہ لاہور کے جس کھمبے پر ہاتھ پھیر دیں گے لوگ اسے مقدس پتھر سمجھ کر چومنے پر مجبور ہو جائیں گے لیکن این اے 122 اور پی پی 147کے نتائج نے اس دعوے کو دھوپ میں رکھا مومی مجسمہ ثابت کر دیا اور پاکستان مسلم لیگ ن لاہور شہر میں صوبائی نشست سے بھی محروم ہو گئی اور حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، عابد شیر علی اور ماروی میمن کی جدوجہد، الیکشن سے ایک دن قبل وزیراعظم کی پریس کانفرنس اور دہی بھلوں کی آڑ میں شملہ پہاڑی، بوہڑ والا چوک اور ٹولنٹن مارکیٹ کے دورے کے بعد بھی پاکستان مسلم لیگ ن کا کھمبا پی ٹی آئی کے امیدوار سے صرف اڑھائی ہزار ووٹ زیادہ لے سکا۔

آپ ذرا تصور کیجیے اگر الیکشن سے ایک دن قبل وزیراعظم لاہور میں پریس کانفرنس نہ کرتے، یہ لاہوریوں کو ’’اورنج لائین میٹرو ٹرین‘‘ کی رشوت پیش نہ کرتے، یہ حلقے کا دورہ نہ کرتے، اگر وزیراعلیٰ این اے 122 کے ناراض دھڑوں کو راضی نہ کرتے، اگر حمزہ شہباز شریف اپنی چمک نہ دکھاتے، اگر خواجہ سعد رفیق ریلوے سے وابستہ 40 ہزار ووٹروں کو پکی نوکریوں اور ’’نج کار ی نہیں ہو گی‘‘ کا لولی پاپ نہ دیتے، اگر عابد شیر علی دھمال نہ ڈالتے اور اگر ماروی میمن جنرل پرویز مشرف سے سیکھی ہوئی اخلاقیات کا کھلا ڈلا استعمال نہ کرتیں تو کیا بنتا؟ نتائج کیا ہوتے؟ یقینا ایاز صادق کا انجام بھی وہی ہوتا جو پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی امیدوار محسن لطیف کا ہوا، اس ضمنی الیکشن نے ثابت کر دیا۔

عمران خان میاں برادران کے لاہوری قلعے میں ٹھیک ٹھاک شگاف ڈال چکے ہیں اور یہ اگر اب اپنے کھلنڈرے پن اور زبان پر قابو پا لیں اور سنجیدہ سیاست شروع کر دیں تو یہ اگلے عام الیکشنوں میں پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کا وہی حال کریں گے جو 2013 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ہوا لیکن حقیقت یہ ہے جس طرح پاکستان مسلم لیگ ن ہمیشہ اپنے غرور اور گردن کے سریے سے مار کھاتی ہے، بالکل اسی طرح عمران خان اپنی زبان سے اپنے تیل کے کنوؤں کو آگ لگا دیتے ہیں، جس طرح میاں برادران کو اپنے تکبر پر قابو نہیں رہتا بالکل اسی طرح عمران خان کے دانت بھی ان کی زبان کو نہیں سنبھال پاتے، میں دل سے یہ سمجھتا ہوں، پاکستان مسلم لیگ ن اخلاقی لحاظ سے یہ الیکشن ہار چکی ہے اور اسے اب ایاز صادق کو قومی اسمبلی کاا سپیکر نہیں بنانا چاہیے کیونکہ اڑھائی ہزار ووٹوں کی لیڈ والا اسپیکر میاں برادران کی بڑی سیاسی غلطی ثابت ہو گا۔

یہ ضمنی الیکشن عمران خان کے منشور پر بھی عدم اعتماد ہے، عمران خان ملک میں الزامات، بدزبانی، گالیوں اور ’’میں ناں مانوں‘‘ کی سیاست کے امام ہیں، دنیا کا کوئی صحیح الدماغ شخص پانچ منٹ تک عمران خان کی تقریر نہیں سن سکتا، یہ سنی سنائی باتوں کو آسمانی حکم ماننے کے ماہر بھی ہیں، یہ الزام پہلے لگاتے ہیں، ثبوت بعد میں تلاش کرتے ہیں اور جب ثبوت کو ثابت کرنے کی باری آتی ہے تو یہ اس الزام کو سیاسی بیان قرار دے دیتے ہیں جسے یہ پہلے الہام کا درجہ دیتے ہیں۔

یہ اس بار بھی الہامی بیانات کے ساتھ ضمنی الیکشنوں میں اترے، یہ اپنے اس مہنگے ترین امیدوار کو بھی میدان میں لے آئے جس نے حلقے میں دولت کے دریا بہا دیے، عمران خان نے اوکاڑہ میں اشرف سوہنا کو بھی اپنا امیدوار بنا دیا، اشرف سوہنا تازہ تازہ پاکستان پیپلز پارٹی سے لوٹے ہو کر پاکستان تحریک انصاف میں آئے ہیں لیکن نتیجہ کیا نکلا، اس اشرف سوہنا کی ضمانت ضبط ہو گئی جس کے لیے عمران خان نے تاریخی جلسہ کیا تھا جب کہ عبدالعلیم خان کو ان کے کروڑوں روپے بھی کامیاب نہ کروا سکے، عمران خان کو این اے 122 اور این اے 144 سے دو باتیں سیکھنی چاہئیں، اول، لوگ آپ کی بدزبانی، الزامات اور بدتمیزی کو پسند نہیں کر رہے، آپ ہر وہ الیکشن ہار جاتے ہیں، آپ ہر اس پلیٹ فارم پر اپنا مقدمہ لوز کر بیٹھتے ہیں جہاں آپ اپنی زبان کے سارے گھوڑے کھول دیتے ہیں، آپ کو اس ہار کے بعد اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کا فیصلہ کر لینا چاہیے۔

دوم، آپ کا یہ خبط غلط ثابت ہو رہا ہے ’’لوٹے‘‘ آپ کی کامیابی کی ضمانت ہیں، آپ ٹھنڈے دل سے سوچیں اور جواب دیں آپ نے آج تک جتنے جینوئن، نئے اور نوجوانوں کو ٹکٹ دیے، ان میں سے کتنے امیدوار ہارے اور آپ نے جتنے ’’لوٹوں‘‘ کو اپنا امیدوار بنایا ان میں سے کتنے لوگ جیتے؟ آپ کو اپنی اصلاح کا بھرپور فارمولہ مل جائے گا، آپ یہ دو باتیں بھی پلے باندھ لیں، آپ جب تک نئے پاکستانی پیدا نہیں کریں گے، آپ اس وقت تک نیا پاکستان تخلیق نہیں کر سکیں گے اور نئے پاکستانی ڈی جے بٹ اور گالیوں کے بطن سے پیدا نہیں ہوں گے اور دوسری بات آپ خواہ کچھ بھی کر لیں۔

آپ قوم کو شیخ رشید، عبدالعلیم خان اور اشرف سوہنا جیسے لوگوں کے ساتھ نئے پاکستان میں نہیں لے جا سکیں گے، کیوں؟ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے پرانا پاکستان پھٹا پرانا پاکستان بنا تھا، عمران خان اپنے لاہور کے جیتنے والے ایم پی اے شعیب صدیقی سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، یہ پی ٹی آئی کے جینوئن ورکرز ہیں، یہ عبدالعلیم خان کی طرح امیر بھی نہیں ہیں، عمران خان نے ان کے لیے کوئی جلسہ کیا اور نہ ہی ووٹ مانگے لیکن یہ اس کے باوجود جیت گئے، کیوں؟ کیونکہ یہ جینوئن ہیں اور یہ جلسوں میں ٹھمکے لگانے کے بجائے دروازے دروازے جا کر چپ چاپ ووٹ مانگتے رہے چنانچہ یہ جیت گئے اور حلقے پر کروڑوں روپے لگانے اور بھابھی کو کروڑوں روپے کے تحفے دینے والے ہار گئے، عمران خان شعیب صدیقی سے سیاست کے اصل گر سیکھ سکتے ہیں۔

گیارہ اکتوبر کے ضمنی الیکشنوں نے آصف علی زرداری کی سیاست کو بھی بری طرح بے نقاب کر دیا، لاہور کے این اے 122 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار بیرسٹر عامر حسن تھے، یہ سردار ایاز صادق اور عبدالعلیم سے زیادہ پڑھے لکھے، متحرک اور نوجوان ہیں، یہ حلقہ کبھی پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن ضمنی الیکشن میں بیرسٹر عامر کو صرف 1683 ووٹ ملے، ان کی ضمانت بھی ضبط ہو گئی، اوکاڑہ میں سابق ایم این اے چوہدری سجادالحسن پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے، ان کو 3700 ووٹ ملے، یہ دونوں نتائج ثابت کرتے ہیں، بھٹو کی پارٹی کو جو نقصان جنرل ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف، میاں نواز شریف اور طالبان مل کر نہیں پہنچا سکے۔

وہ نقصان ذوالفقار علی بھٹو کے داماد آصف علی زرداری نے ایک جھٹکے میں پہنچا دیا، یہ پارٹی 35 سال تک جبر کے ٹھڈے اور مکے کھاتی رہی لیکن زندہ رہی مگر آصف علی زرداری کے پانچ سال اور ایک صدارت نے پارٹی کا جنازہ نکال دیا، یہ پارٹی اگر ایک بار پھر اپنے قدموں پر کھڑی ہو گئی تو یہ بہت بڑا معجزہ ہو گا مگر معجزوں کی تاریخ بتاتی ہے جب خدا کسی سے ناراض ہوتا ہے تو آپ کے ہاتھ میں چابی ہونے کے باوجود آپ معجزوں کے دروازے نہیں کھول پاتے اور آصف علی زرداری آج کے دور میں اس کی بہت بڑی مثال ہیں، مجھے خطرہ ہے 2018ء کے الیکشنوں میں پاکستان پیپلز پارٹی ٹکٹ سامنے رکھ کر بیٹھی رہے گی اور یوسف رضا گیلانی تک ٹکٹ نہیں لیں گے، میاں نواز شریف کو آصف علی زرداری کا انجام دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنی چاہیے۔

غرور اور تکبر پر معافی مانگنی چاہیے اور ان تمام لوگوں کا احتساب کرنا چاہیے جن پر نندی پور، ایل این جی اور میٹرو میں پیسے بنانے کا الزام ہے یا جو لوگ فرنٹ مینوں کے ذریعے رقمیں وصول کر رہے ہیں، آپ بلاشبہ خوش قسمت ہیں لیکن اب آپ ناکامی اور احتساب سے زیادہ دور نہیں ہیں اور جس دن آپ کے ایک شہزادے کے دو فرنٹ مین ایم پی اے اور دو صوبائی وزیر پکڑے گئے اس دن آپ کے اقتدار کو گرہن لگ جائے گا، آپ بھی اس دن اپنے لندن کے فلیٹ کی تزئین و آرائش پر مجبور ہو جائیں گے اور اس ضمنی الیکشن نے الیکشن کمیشن اور سیاست کا رہا سہا بھرم بھی کھول دیا، این اے 122 کی الیکشن مہم کے دوران کیا کیا نہیں ہوا، دونوں امیدوار مہم پر صرف پندرہ پندرہ لاکھ روپے خرچ کر سکتے تھے لیکن اخراجات کی حد ایک ارب تک جا پہنچی۔

وفاق سے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، بجلی اور پانی کے وزیر مملکت عابد شیر علی اور ماروی میمن قانون کی دھجیاں اڑاتی رہیں اور خیبر پختونخوا سے وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور ان کے وزرا لاہور میں ووٹ مانگ کر الیکشن کمیشن کے ضابطوں کا مذاق اڑاتے رہے لیکن الیکشن کمیشن جوتے تلاش کرتا رہ گیا، اس الیکشن نے یہ بھی ثابت کر دیا ملک میں الیکشن اب غریب آدمی کے بس کی بات نہیں، آپ اگر اب قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کا ارب پتی ہونا ضروری ہے۔

آپ کے پاس اگر پیسہ ہے تو آپ کے لیے جنرل پرویز مشرف کے دروازے بھی کھلے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے محلات بھی، عمران خان کے انقلاب کا میدان جنگ بھی اور میاں نواز شریف کی بانہیں بھی اور آپ اگر غریب ہیں تو آپ خواہ کتنے ہی پڑھے لکھے، سمجھ دار، ایماندار اور تجربہ کار کیوں نہ ہوں آپ ملک کے عظیم لیڈروں سے ملاقات تک نہیں کر سکتے، قائداعظم کے اس ملک میں نظریات اور اخلاص کو انتقال فرمائے دہائیاں گزر چکی تھیں لیکن اس ضمنی الیکشن میں ان مرحوم نظریات کی تدفین ہو گئی چنانچہ آپ کے بعد قائداعظم کے ملک کی سیاست اور اکبری منڈی میں کوئی فرق نہیں رہا، آپ اکبر اعظم ہیں تو منڈی کے دروازے آپ پر کھل جائیں گے اور آپ اگر اکبر ایس بابر ہیں تو آپ کا کوئی وارث نہیں ہوگا۔

------------------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند