تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکوں کے جنوبی ایشیا سے تعلقات(1)
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 29 ذوالحجہ 1436هـ - 13 اکتوبر 2015م KSA 09:27 - GMT 06:27
ترکوں کے جنوبی ایشیا سے تعلقات(1)

ترکی میں آج کل جنگ گیلی پولی (درۂ دانیال 1915ء) میں اتحادی افواج کے خلاف لڑئی گئی دفاعی جنگ کے سلسلے میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر صد سالہ تقریبات منائی جارہی ہیں۔ اسی جنگ میں لیفٹیننٹ کرنل مصطفی کمال پاشا نے اتحادی افواج کے اس خواب کو چکناچور کر دیا جس کی منصوبہ بندی ونسٹن چرچل نے کی تھی کہ درۂ دانیال سے داخل ہو کر استنبول پر قبضہ کرکے بچے کھچے ترکی کے حصے بخرے کردیئے جائیں۔ اس جنگ میں ترکوں کی فتح نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اس جنگ میں حیرت انگیز کامیابی پر مصطفی کمال کو اُن کی جنگی خدمات اور مادرِ وطن کا دفاع کرنے کے صلے میں پاشا کا خطاب ملا اور اس جنگ میں اتحادی افواج کی شکست نے برطانوی حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا۔ ترکی میں اس دفاعی جنگ کی فتح کی صدسالہ تقریبات کے سلسلہ کو برصغیر کے مسلمانوں اور ترکوں کے باہمی تعلقات کی تاریخ اور ترکی میں اردو کی تعلیم کے اجرا کے ساتھ ملا کر استنبول یونیورسٹی کے شعبہ مشرقی زبان وادب نے 12 سے 14اکتوبر تک ایک عالمی سمپوزیم کا انعقاد کیا ہے، جس میں پاکستان، بھارت، روس، ایران اور دیگر ممالک سے سوسے زائد مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ مجھے بھی اس سمپوزیم میں شمولیت اور مقالہ پڑھنے کی دعوت ملی، زیرنظر مقالہ اسی سمپوزیم میں پڑھا گیا۔ (استنبول- ترکی)

ترکوں کی چار ہزار سالہ تاریخ کے مختلف ادوار ہیں۔ ترکوں کی تاریخ کے ان ادوار کا مطالعہ کیا جائے تو بڑے دلچسپ حقائق سے آگاہی ہوتی ہے۔ چینی ترکستان، وسطی ایشیا، کاکیشیا، اناطولیہ اور تھریس تک پھیلے خطوں پر ترکوں نے ہر دور میں انمٹ اثرات مرتب کیے ہیں۔ ترکوں نے قبل از اسلام بھی شاندار تہذیبوں کو جنم دیا اور بعداز اسلام بھی۔ پچھلی دوتین دہائیوں میں اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کی خاطر کچھ مؤرخین نے تہذیبوں کے تصادم کے تصور کو اپنے سرمایہ دارانہ اور توسیع پسندانہ مفادات کی خاطر عام کرکے درحقیقت حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ تہذیبوں کے ملاپ سے بھری پڑی ہے۔ ایک تہذیب کے دوسری تہذیب پر اثرات مرتب ہوئے۔ صرف ہوا یہ ہے کہ وقت کے سیاسی، سماجی، معاشی، علمی اور فکری دھاروں نے مختلف تہذیبوں کو عروج اور زوال سے ہمکنار کیا ہے۔ اگر ہم انسانی تاریخ کو ایک تسلسل سے دیکھیں تو تہذیبوں کے انہی ملاپ نے دوسری تہذیب کو اپنے انداز میں اپنے تجربات اور افکار سے ہمکنار کیا، حتیٰ کہ ثقافتی حوالوں سے بھی۔ ترکوں نے بھی اسی طرح اپنے مختلف ادوار میں اردگرد کی تہذیبوں پر اپنے اثرات مرتب کیے اور ایسے ہی اپنے اندر دوسری تہذیبوں سے مختلف تجربات اور افکار کو جذب کیا۔ ترک، برصغیر پاک و ہند کے پار ہندوکش کی دوسری طرف چینی ترکستان، سنکیانگ اور وسطی ایشیا میں بسنے والے ہمارے تہذیبی ہمسائے تھے۔ قبل از اسلام ان ادوار میں ترکوں اور برصغیر کے لوگوں میں باہمی روابط کے بڑے واضح ثبوت ملتے ہیں۔ برصغیر کا شمالی خطہ جو دریائے سندھ (انڈس) کے اردگرد ہے، اس خطے کے ترکوں کے ساتھ تہذیبی روابط تو بہت ہی گہرے ہیں۔ یہ خطہ جس کو وادئ سندھ کی تہذیب بھی کہتے ہیں، اس پر آج پاکستان کی ریاست کا وجود سیاسی جغرافیے پر نظر آتا ہے۔ ترکوں کی قدیم اقوام میں Huns کے زمانے کے دوران ان تعلقات کے ثبوت تاریخ سے ملتے ہیں بلکہ جینیاتی تحقیق نے یہ تعلق دریافت کیے ہیں۔ Huns اقوام کی کچھ شاخوں نے شمالی برصغیر (پاکستان) کی سرزمین پر انہی زمانوں میں قدم رکھا جب Huns کی یورپ میں آمد ہوئی۔ آٹھ صدی قبل مسیح میں انہی Huns قبائل کی شمالی برصغیر میں آمد ہوئی اور یہ Huns قبائل یہاں کی تہذیب میں گھل مل گئے۔

ایک سائنسی جینیاتی تحقیق کے مطابق، جدید ترکی میں بسنے والے ترکوں میں 10فیصد کے قریب لوگوں کے خون کے جینیاتی ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ ان کے جینزپاکستان میں بسنے والے اُن لوگوں سے مطابقت رکھتے ہیں جو آج کے پاکستان کے شمال میں بستے ہیں۔ ترک (Turk) لفظ تاریخ میں پہلی مرتبہ یونانی مؤرخ ہیرو ڈوٹس (425 قبل مسیح۔ 484 قبل مسیح)کی تحریروں میں ملتا ہے۔ بعد میں اس قوم کا حتمی لفظ ترک (Turk) چھٹی صدی کے دوران چینی تحریروں میں ملتا ہے۔ گوک ترک (G246kt252rks) انہی خطوں اور دور کے ترکوں کو کہا جاتا ہے اور یہ ترک برصغیر کی جغرافیائی دیوار ہندوکش کے ساتھ دوسری طرف شاندار تہذیب کے وارث ہوئے ہیں۔ آج بھی دنیا کے سب سے بڑے پہاڑی سلسلے کا نام قدیم ترک زبان سے ہی ماخوذ ہے، یعنی قراقرم۔ قراقرم کے پہاڑ، سنکیانگ (چینی ترکستان)، پاکستان اور ہندوستان کا جغرافیائی سنگم ہیں۔ قراقرم، قدیم ترک تاریخ میں وادئ اور کھون (Orkhon)، تیرھویں صدی میں منگول ایمپائر کا دارالحکومت تھا۔ یہ اپنے وقت میں دنیا کے خوشحال ترین شہروں میں سرفہرست تھا۔ قراقرم پہاڑی سلسلے کا نام اسی شہر کے نام کی مناسبت سے متعارف ہوا۔ قراقرم میں قدیم ترک زبان میں کالے پتھر کو کہتے ہیں۔

اسلام کے ظہور کے بعد ترکوں میں ایک نیا تہذیبی ارتقا ہوا، جس نے ترک قوم کے نئے سیاسی اور تہذیبی کردار طے کیے۔ سنکیانگ اور وسطی ایشیا کے ترکوں میں اسلام متعارف ہونے کے بعد ترک قبائل نے سلجوقی تاریخ کے ذریعے ان خانہ بدوش قبائل کو اناطولیہ کی تہذیبوں کا وارث اور مالک بنا ڈالا۔ آخری سانسیں لیتی ہوئی بازنطینی سلطنت کے خلا کو انہی سلجوق ترکوں نے پْر کیا جنہوں نے الپ ارسلان کی قیادت میں 1071ء میں Manzikert کی تاریخی جنگ میں بازنطینی بادشاہ Romanos چہارم کو شکست دے کر ترکوں کو اناطولیہ کا مالک بنا دیا۔ جب سلجوق ترکوں نے اناطولیہ میں قدم جمائے اور بعد میں انہی سلجوقوں کے بطن سے عثمانی سلطنت کا قیام ممکن ہوا، جنہوں نے دنیا کی تاریخ پر اپنے انمٹ اثرات مرتب کیے۔ انہی ایام میں ترک سبکتگین کے بیٹے محمود نے غزنی کے شہر میں ایک ترک ریاست قائم کی، جس کی سرحدیں اصفہان سے لے کر مہران تک پھیلی ہوئی تھیں۔ محمود غزنوی کے ترک سپہ سالاروں کی ہندوکش پار کرتے ہوئے ایک طویل تاریخ ہے جس میں غوری، خاندانِ غلاماں جس کا بانی ایک ترک غلام قطب الدین ایبک ہے، جس کا مزار لاہور کے بازار انارکلی میں واقع ہے، نے یہاں پر ترک تہذیب کو متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد خلجی دور جو کہ 1292ء سے 1320ء تک ہے اور پھر تغلق دَور، اِن ادوار میں برصغیر میں ترک ثقافت، فن تعمیر اور رہن سہن کے حوالے سے گراں قدر اثرات مرتب ہوئے اور آخر کار ظہیرالدین بابر کی قیادت میں برصغیر میں مغلیہ سلطنت کا قیام، ترکوں کی ہی خاندانی شاخ کا ایک سلسلہ ہے۔ مغل دَور نے برصغیر کی تاریخ، ثقافت، فنِ تعمیر، رہن سہن، موسیقی، فنونِ لطیفہ، شاعری، علم و ادب سمیت زندگی کے ہر شعبے میں گہرے اثرات مرتب کیے۔ حتیٰ کہ ایک جدید زبان اردو کا ظہور بھی انہی ترک افواج کے مرہون منت ہے جنہوں نے اس لشکری زبان کی بنیاد رکھی۔

------------------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند