تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لاہوریوں کا سیاسی ہونے کا ثبوت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 29 ذوالحجہ 1436هـ - 13 اکتوبر 2015م KSA 09:21 - GMT 06:21
لاہوریوں کا سیاسی ہونے کا ثبوت

سب سے پہلے آپ سے معافی کا طلب گار۔ پیر کی صبح جو کالم چھپا اس میں جس بھارتی انتخاب کا ذکر میں نے کیا وہ 1981ء میں نہیں 1984ء میں ہوا تھا۔ غلطی مجھ سے سرزد ہوئی اور اس کی تصیح نہ ہوپائی اگرچہ چھپے ہوئے کالم میں میرے لکھے ایک لفظ کو ’’جادو کی چھڑی‘‘ میں بدل دیا گیا۔ اس تبدیلی کی وجہ البتہ میں سمجھ نہیں پایا۔ اب آئیے 11اکتوبر کو رچائے تماشے کی طرف۔

اس دن ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج نے مجھے تو پریشان کردیا ہے۔ ثابت ہوگیا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں اور ان سے وابستہ سوچنے سمجھنے والے، جنہیں ’’نظریاتی کارکن‘‘ کہا جاتا ہے اب باقی نہیں رہے۔ دیوانوں اور متوالوں کا ایک ہجوم ہے جو ’’شیر‘‘ یا ’’بلے‘‘ کے نشانات لہراتے ہوئے نواز شریف یا عمران خان کی شخصیتوں سے دیوانہ وار وابستگیوں کا اظہار کرتا ہے۔ جمہوریت اور جمہوری نظام جنہیں میں پوری دیانت داری کے ساتھ پاکستان کی بقاء اور ترقی کے لئے ناگزیر سمجھتا ہوں اپنی افادیت کھوتے ہوئے نظرآئے۔ ’’بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے‘‘ والا معاملہ ہوگیا جسے دیکھ کر میں بہت اداس اور پریشان ہوگیا ہوں۔

میری جوانی کے دنوں میں اقبال کشمیری نے ’’ضدی‘‘ نام کی ایک پنجابی فلم بنائی تھی۔ ان دنوں نوواردممتاز پر فلمایا ’’چھڈ میری وینی نہ مروڑ‘‘ والا گیت اس کے ذریعے بہت ہٹ ہوا تھا۔ یوسف خان اس فلم کا ہیرو تھا۔ ماں کا لاڈلا تھا۔ اپنے بچپن کی منگیتر کی بجائے ممتاز کو دل دے بیٹھا۔ اس کی ماں نے جب معاملہ کو سنبھالنا چاہا تو ’’میں اپنی ضد ویاہواں گا(میں تو اپنی ضد سے شادی کروں گا)‘‘ دہراتے ہوئے یوسف خان سکرین پر چھاگیا اور فلم کھڑکی توڑ رش لینے لگی۔

’’ضدی‘‘ کے یوسف خان کی طرح مئی 2013ء کے بعد سے عمران خان بھی لاہور کے NA-122کو اپنی ضد بنابیٹھے تھے۔ انہیں کوئی دلیل یا تحقیقات اس بات پر قائل نہ کرسکی کہ زمان پارک سے اُٹھا، ورلڈ کپ اور شوکت خانم ہسپتال کے ذریعے ایک کرشماتی شخصیت کی طرح مشہور ہوا عمران خان، ایاز صادق جیسے غیر معروف شخص سے جو اس کے بچپن کا دوست بھی تھا، وہ حلقہ ہارگیا۔ بالآخر عمران خان کی ضد جیت گئی۔ NA-122میں دوبارہ انتخاب کروانا ہی پڑا۔

سردار ایاز صادق نئے انتخاب کے فیصلے کے خلاف سٹے آرڈر لے کر جان چھڑاسکتے تھے۔ ایسا کرنے کے بعد اگرچہ موصوف اپنی ساکھ ہمیشہ کے لئے تباہ کرڈالتے۔ بڑی جرأت کے ساتھ انہوں نے میدان میں اُترنے کا فیصلہ کیا۔ نواز لیگ ان کی جرأت کی وجہ سے انہیں اپنا ٹکٹ دینے پر مجبور ہوئی۔ عمران خان نے مگر علیم خان کو کھڑا کردیا۔

میں علیم خان کو ہرگز نہیں جانتا۔ ان کی بے تحاشہ دولت کے ذرائع مناسب تھے یا نہیں، یہ طے کرنے کا مجھے کوئی حق نہیں۔ ایک بات مگر ثابت ہوئی اور وہ یہ کہ علیم خان اپنی دولت کو بے دریغ انداز میں خرچ کرتے ہیں۔ مجھ ایسے لفظ فروشوں کی طرح حساب کی الجھنوں میں گرفتار نہیں ہوتے۔ علیم خان نے ’’مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا‘‘ والا منظر بنا دیا مگر عمران خان کے نام نہاد ’’جنون‘‘ کی حقیقت بھی عیاں کردی۔

عمران خان کے پاس ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے کے لئے اگر واقعی کوئی ٹھوس نظریات اور ان کا پرچار کرنے والے جنونی ہیں تو وہ اس حلقے سے اپنے کسی مخلص، دیرینہ مگر مالی اعتبار سے بے وسیلہ شخص کو کھڑا کرتے اور بذاتِ خود گلی گلی جاکر NA-122کے رہائشیوں کو متحرک کرتے۔ ایسا ہرگز نہ ہوا۔ علیم خان کی ’’لکھ لٹ‘‘ شخصیت کو انہوں نے اپنا خفیہ ہتھیار قرار دے کر ایاز صادق کے مقابل کھڑا کردیا اور پوری انتخابی مہم کے دوران ایاز صادق کی مشکلات پر حظ اٹھاتے نظر آئے۔

علیم خان کی انتخابی مہم کی بدولت اصل شہرت مگر چودھری سرور کو نصیب ہوئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ ایک زمانے تک برطانوی سیاست میں متحرک اس چودھری کے پاس تحریک انصاف کا پیغام گھر گھر پہنچانے کی کوئی ٹیکنالوجی ہے۔ 800 کے قریب رضا کاروں کی ایک ٹیم انہوں نے جمع کی۔ انہیں باقاعدہ ورکشاپس کے ذریعے تربیت دی گئی۔ الیکشن ’’چوری‘‘ ہونے کے امکانات کو اس تربیت کے ذریعے ناممکن بنا دیا گیا۔

یہ الگ بات ہے کہ پولنگ والے دن کئی مقامات پر تحریک انصاف کے سندیافتہ پولنگ ایجنٹ صبح 11بجے سے پہلے اپنی ’’ڈیوٹی‘‘ پر نہ پہنچے۔ ہمارے ہمہ وقت مستعد اور چوکس ہونے کے دعوے دار میڈیا میں کسی کو یہ بتانے کی جرأت ہی نہیں ہوئی کہ چودھری سرور کی ساری ٹیکنالوجی درحقیقت ایک برادری کو ’’گلوبٹوں‘‘ کے مقابل اکٹھاکرنے پر مشتمل تھی اور ایسی ٹیکنالوجی گلاسکو اور لندن میں ہرگز استعمال نہیں ہوتی۔

لاہور میں انتخابی کھیل صرف برادریوں پر منحصر ہوتا تو 1970ء کے انتخابات میں پانی پت سے آئے اُردو بولنے والے ڈاکٹر مبشر حسن قومی اسمبلی نہ پہنچ پاتے۔ ’’بابائے سوشلزم‘‘ شیخ رشید جیسا بے وسیلہ شخص جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد کو شکست نہ دے پاتا۔ 1990ء کی دہائی میں بھی گجرات سے آیا ایک جاٹ، چودھری اعتزاز احسن، اسی شہر سے نظریاتی بنیادوں پر کامیاب ہوتا رہا ہے۔

تحریک انصاف کے ’’خفیہ ہتھیار‘‘ درحقیقت علیم خان کی ’’لکھ لٹ‘‘ شخصیت اور برادری ازم تھے۔ نواز شریف کی ٹیم نے حکومتی وسائل پر انحصار کیا۔ ٹی وی سکرینوں پر رونق لگ گئی مگر سیاست تباہ ہوگئی۔NA-122 میں سیاسی اصولوں پر کوئی معرکہ ہوتا نظر نہ آیا۔ نواز شریف کے حامیوں اور عمران خان کے جنونیوں کے درمیان ایک مقابلہ ہوا۔ ’’جنون‘‘ ہار گیا مگر بڑی عزت کے ساتھ۔ ایاز صادق جیت گئے مگر لاہور میں مسلم لیگ NA-122 کے نیچے والی صوبائی نشست ہارگئی۔ محترمہ کلثوم نواز شریف کے بھتیجے کی شکست نے ثابت کردیا کہ لاہور کے لوگ اب بھی کافی حد تک’’سیاسی‘‘ ہیں۔ انہیں حکومتی وسائل کے ذریعے بہکایا نہیں جاسکتا اور شریف خاندان کسی شاہی خاندان کی طرح تخت لہور پر اپنا اجارہ قائم نہیں کرسکتا۔

صرف سیاست اور سیاسی عمل کی اصل تباہی مگر اوکاڑہ میں نظر آئی ہے۔ متوالوں اور جنونیوں سے بالابالا ریاض جج نام کا ایک اور ’’لکھ لٹ‘‘ وہاں میدان میں اُترا۔ مسلم لیگ ہار گئی اور پیپلز پارٹی سے ’’نظریاتی بنیادوں‘‘ پر خفا ہوکر تحریک انصاف میں شامل ہوا اشرف سوہنا اپنی ضمانت بھی ضبط کروابیٹھا۔ آئندہ جب کبھی بھی عام انتخاب ہوئے تو پنجاب کے تقریباََ ہر حلقے سے کئی ’’ریاض جج‘‘ میدان میں اُتر کر ’’آزاد‘‘ حیثیتوں میں کامیاب ہوکر ’’جیہڑا جتے اوہدے نال‘‘ ہوجائیں گے اور مجھ ایسے بدنصیب جمہوریت اور جمہوری نظام سے اپنی وابستگی پر شرمندہ منہ چھپاتے پھریں گے۔

------------------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند