حکومت کی جانب سے نوید سنائی گئی کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ زرمبادلہ کے ذخائر بیس ارب ڈالر سے بڑھ چکے ہیں یوں عوامی زبان میں کہیں تو قومی خزانہ لبالب بھرگیا ہے۔ ایک قومی خزانے کے کانوں تک بھرنے کے دعوے ہی کیا، حکومت کی جانب سے اقتصادی ترقی کے بعض اشاریوں کی مدد سے پاکستان کے قومی ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے دعوے بھی کیے جارہے ہیں۔ اِن دعووں کی حمایت میں اُن میگا پراجیکٹس کی مثال پیش کی جاتی ہے جن کے سنگ بنیاد رکھے جارہے ہیں یا میٹرو بس سمیت جن دیگر منصوبوں کا افتتاح ہوچکا ہے۔ یقینا اِس میں کچھ شبہ بھی نہیں کہ گزشتہ دور حکومت کی نسبت موجودہ دور میں بعض رکاوٹوں کے باوجود صورتحال میں بہتری آئی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا اور توانائی اور سماجی ڈھانچے کے بعض پراجیکٹ کا افتتاح بھی ہوا لیکن مجموعی معاشی صورتحال ایسی نہیں کہ اس پر زمین و آسمان کے قلابے ملا کر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جائیں۔

پاکستان کی مجموعی اقتصادی ، معاشی اور سماجی ترقی اِس وقت کس مقام پر ہے؟ اس کا اندازہ عالمی اقتصادی فورم کی مسابقت کی عالمگیر فہرست سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اِس فہرست میں کہا گیا کہ پاکستان 4درجے ترقی کر کے 133 ویں نمبر سے 129 ویں پوزیشن پر آگیا ہے، دوسرے معنوں میں یہ کہا گیا کہ پاکستان پسماندہ ترین ممالک میں4 درجے بہتر ہوگیا ہے۔ عالمی مسابقتی رپورٹ 2014-15ء میں عالمی اقتصادی فورم نے بھی اگرچہ تسلیم کیا کہ پچھلے دو سال مسلسل کمی کے بعد گزشتہ سال سے پاکستان کی پوزیشن مستحکم رہی اور پاکستان نے مالیاتی ترقی اور کاروباری جدت کے حوالے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاہم پاکستان نے مسابقت کے بنیادی اور اہم شعبوں میں انتہائی کم پوائنٹس حاصل کیے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی اہم مسابقتی شعبوں میں کارکردگی مایوس کن رہی۔

عالمی مسابقتی رپورٹ 2014-15ء کے مطابق پاکستان کے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں سرخ فیتہ، بدعنوانی، پشت پناہی اور حقوق ملکیت دانش کے تحفظ کا فقدان حائل ہے۔ 144 ملکوں میں پاکستان کے سرکاری اداروں کی پوزیشن 125ویں نمبر پر رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ افراط زر کی شرح اور بجٹ خسارے میں کمی کی وجہ سے پاکستان کی میکرو اکنامک صورتحال میں معمولی بہتری آئی مگر اب بھی اسکی پوزیشن مایوس کن یعنی 137ویں ہے، پاکستان کے انفرااسٹرکچر کو 119 واں جبکہ بجلی کے ڈھانچے کو 133واں نمبر دیتے ہوئے پسماندہ قرار دیاگیا جبکہ صحت وتعلیم کے شعبے میں اسکی کارکردگی کو 144 ممالک میں بدترین قرار دیا گیا۔ جبکہ عوام کی انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز (آئی سی ٹیز) تک رسائی کے حوالے سے بھی پاکستان کا نمبر نچلے درجے یعنی 114 پر ہے۔

یہ تو تھی پاکستان کی معاشی صورتحال لیکن جہاں تک حکومت کی جانب سے سنائی جانیوالی اس نوید کا تعلق ہے کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ زرمبادلہ کے ذخائر بیس ارب ڈالر سے بڑھ چکے ہیں تو کون نہیں جانتا کہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جو چھ بلین ڈالر کا پروگرام طے کیا تھا، اس پروگرام کے نتیجے میں گزشتہ سوا دو برس میں حکومت کو آئی ایم ایف کی جانب سے اب تک لگ بھگ چار ارب ڈالر موصول ہوچکے ہیں، تین ارب ڈالرچین، ایشیائی ترقیاتی بینک اور آئی ڈی اے سے قرضوں کی صورت میں ملے۔ حکومت کے پہلے دو سال میں پاکستان کو کب کب اور کتنی کتنی رقم قرضوں کی مد میں ملی، اُسے چھوڑیے!

آپ صرف رواں سہہ ماہی کا ہی جائزہ لے لیں تو معلوم ہوجائیگا کہ قومی خزانے میں رقم کہاں سے آرہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کیسے بڑھ رہے ہیں؟ مثال کے طور پر ابھی گزشتہ ماہ ستمبر میں پاکستان کو 576 ملین ڈالر عالمی بنک سے ملے، حکومت نے امریکہ میں بانڈ جاری کیے، جہاں سے 500 ملین ڈالر کی رقم حاصل ہوئی، 376 ملین ڈالر کی رقم امریکی اتحادی سپورٹ فنڈ سے موصول ہوئی، 263 ملین ڈالر کی رقم سنڈیکیٹ فنانسنگ کی مد میں ملی جبکہ اسکے علاوہ بھی مسلسل ہر سہہ ماہی میں دو طرفہ اور کثیر طرفہ معاہدوں کے تحت بہت سی رقم حاصل ہوتی رہتی ہے، لیکن اس رقم میں زیادہ حصہ اس رقم کا ہے جو پاکستانی نے مختلف عالمی بینکوں یا مالیاتی اداروں سے قرضوں کی صورت میں حاصل کی۔

زرمبادلہ کے اِن ذخائر میں حکومت کی معاشی پالیسیوں کا کتنا حصہ ہے، اس کا اندازہ قومی بجٹ کو دیکھ ہی بخوبی لگایا جاسکتا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل خسارے کا شکار ہے، وفاقی بجٹ میں دفاعی مقاصد کیلئے استعمال ہونیوالی رقم سترہ فیصد ہے، سترہ فیصد رقم ہی خسارے میں چلنے والے مختلف اداروں (ریلوے، پی آئی اے، اسٹیل ملز) کو دیے جانیوالے ریلیف میں خرچ ہو جاتی ہے جبکہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے سینتالیس فیصد مختص کرنا پڑتی ہے، اس طرح مختلف ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کیلئے دستیاب مالی گنجائش (فسکل سپیس اویل ایبل) صرف بارہ فیصدرہ جاتی ہے۔ یہ صورتحال کوئی اب کی نہیں، بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایسے ہی چل رہی ہے۔ ایسے میں حکومت کی حقیقی کامیابی تو یہ ہوتی کہ انقلابی معاشی اصلاحات کی جاتیں اور ان معاشی اصلاحات اور پالیسیوں کے نتیجے میں جو رقم خزانے میں جمع ہوتی، اس کامیابی پر یقین واہ واہ کی جانی چاہیے تھی لیکن دو برسوں میں کون سی معاشی پالیسی بنائی جاسکی یا کون سی منصوبہ بندی کی جاسکی، یہ صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

یقینا آج کے دور میں حکومتیں فیکٹریاں چلاسکتی ہیں نہ ہی معاشی شعبوں میں اپنی اجارہ داری قائم کرسکتی ہیں بلکہ حکومت کا کام اچھی معاشی پالیسیاں بنانا ہوتا ہے اور ان پالیسیوں کی بدولت جب ملکی معاشی پہیہ رواں دواں ہوتا ہے تو اس سے حاصل ہونیوالے ٹیکس اور محصولات سے جو خزانہ بھرتا ہے، وہ کامیابی ہی حقیقت میں واہ واہ کی مستحق ہوتی ہے، لیکن جہاںکروڑوں افراد ٹیکس دینے کی اہلیت پر پورا اترنے کے باوجود جب ٹیکس نیٹ میں شامل ہی نہ ہوں تو وہاں معاشی ترقی کا خواب کیسے دیکھا جاسکتا ہے؟ ٹیکس نیٹ اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کے حوالے سے جس ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، اس کا فقدان افسوسناک طور پر موجودہ دور میں بھی نظر آتا ہے۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے یوں تو کئی طریقے ہیں اور انہی میں سے ایک طریقے پر عملدرآمد کیلئے نادرا کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ نادرا کے پاس لوگوں کی بیرون ملک یا بذریعہ ہوائی جہاز آمدو رفت کا ریکارڈ ہوتا ہے۔

انتہائی محتاط اعدادوشمار کیمطابق سالانہ کم از کم دو بین الاقوامی پروازیں استعمال کرنیوالے پاکستانیوں کی تعداد بتیس لاکھ ہے، ایسے لوگوں کو بلاواسطہ اور بالواسطہ ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ کوئی عام لوگ نہیں ہوتے۔ اس مقصد کیلئے موثر قانون سازی کیساتھ ساتھ موثر عملدرآمد کے ذریعے سالانہ اربوں روپے کا ٹیکس ہی حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ بتیس لاکھ افراد کو براہ راست ٹیکس نیٹ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ایک اہم تجویز یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس این ٹی این نمبر نہیں ہے اور وہ ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل نہیں تو اسکو پاسپورٹ ہی جاری نہ کیا جائے، یوں بتیس لاکھ لوگوں میں ہر سال شامل ہونیوالے لاکھوں نئے لوگوں کو نا صرف ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جاسکے گا بلکہ اُن سے اربوں روپے کا ٹیکس بھی خودکار طریقے سے قومی خزانے میں شامل ہوسکے گا۔شناختی کارڈ کو ہی این ٹی این (نیشنل ٹیکس نمبر) قرار دینے کی تجویز عرصہ دراز سے طاقِ نسیاں پر پڑی ہے، اس تجویز پر سے گرد جھاڑ کر اسے بھی قابل عمل بنانے کی ضرورت ہے۔

قارئین کرام!! ٹیکس نادہندگان کیلئے سخت سزاؤں پر عملدرآمد نہیں ہوگا تو وہ ٹیکس کی ادائیگیوں سے راہ فرار اختیار کرتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نادہندگان کو پچیس سال تک قید کی سزا پر موثر عملدرآمد کیا جائے اور ٹیکس چوروں کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر کے انکی نیلامی سے ٹیکس کی رقم وصول کی جائے اور جو کوئی بھی ٹیکس ادا نہیں کرتا، اسکے اور اسکے پورے خاندان کیلئے سیاست اور انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگانے کیساتھ ساتھ اُسے کسی بھی عوامی عہدے کیلئے ساری عمر کیلئے نااہل قرار دینے کیلئے قانون سازی کی جائے لیکن افسوسناک اور شرمناک حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کا وفاقی بجٹ ہو یا صوبوں کے بجٹ ہوں، گزشتہ کئی دہائیوں سے خسارے میں جا رہے ہیں اور اِن خساروں کو پورا کرنے کیلئے حکومتوں نے اپنی استعداد کار میں اضافہ کرنے کی بجائے قرض لیکر گزشتہ قرض ادا کرنے اور خسارہ پورا کرنے کی روش اپنا رکھی ہے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ملک میں کامیاب معاشی پالیسیاں نہیں بنائی جائیں اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں کیا جائیگا تو موجودہ طریقوں سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانا دراصل قرض کی مئے پی کر فاقہ مستی کے رنگ لانے کی امید باندھنے کے مترادف ہی ہوگا۔ آپ ہزاروں برس تک قرض کی مئے پیتے رہیں لیکن فاقہ مستی کبھی رنگ نہیں لائے گی۔

---------------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے