تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اصغر خان کیس۔ اعصاب شکن لمحے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 3 محرم 1437هـ - 17 اکتوبر 2015م KSA 09:59 - GMT 06:59
اصغر خان کیس۔ اعصاب شکن لمحے

ہمارے آئرن مین بالآخر اُس ٹائم بم کے بارے میں لب کشائی کرتے سنائی دینے لگے ہیں جس کی ٹک ٹک بند ہونے میں نہیں آرہی تھی… یہ ٹائم بم اصغر خان کیس ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے 1990ء کے انتخابات کے موقع پر آئی ایس آئی سے کوئی رقم وصول نہیںکی تھی،ہاںیہ اور بات ہے کہ اُس انتخابی مہم کے دوران بہت سے افراد عطیات وغیرہ دے رہے تھے ، اور اگر’’انکوائر ی میں یہ بات ثابت ہوجائے کہ ایسی کسی رقم کا تبادلہ ہوا تھا تو، کوئی بات نہیں، میں وہ رقم معہ سود لوٹانے کو تیار ہوں۔‘‘

بہت اعلیٰ، اسے کہتے ہیں فنکاری، Clausewitz کی جنگی حکمت ِعملی۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک دفاعی پوزیشن ہے۔ کہنے کا مطلب…’’میں نہیں جانتا کہ میرے سامنے دستیاب آپشنز کیا ہیں، لیکن اگر یہ ثابت ہوگیا کہ میں نے کچھ کیا ہے تو یقین رکھیں، میں تلافی کردوںگا‘‘۔ 1990ء میں جو رقم نواز شریف کومبینہ طور پر دی گئی تھی وہ 33 لاکھ اور موجودہ خادم ِ اعلیٰ کو بائیس لاکھ، جبکہ انتہائی’ بااصول‘ سیاست دان، جاوید ہاشمی اور امیرالمومنین، جنرل ضیا الحق کے لخت ِ جگر، اعجاز الحق اور کچھ اور نمایاں شخصیات بھی رقوم وصول کرنے والوں میں شامل تھیں۔ رقوم فراہم کرنے کا مقصد انتخابات میں پی پی پی کو شکست سے دوچار کرنا تھا۔

پی پی پی کو یقینا شکست ہوگئی لیکن اس کے جسد میں جان باقی تھی، اورتین سال بعد پاکستانی سیاست کی پرکشش شخصیت، بے نظیر بھٹو واپس پی ایم آفس میں تھیں۔ اُس وقت آئی ایس آئی اور اس کے سیاسی پتلے جوکچھ نہیں کرسکے، وہ کئی سالوں بعد جمہوریت کے چیمپئن، آصف علی زرداری کے ہاتھوں انجام پایا۔ تاہم میں موضوع سے ہٹ رہاہوں۔۔۔۔ میرے پیش نظر اصغرخان کیس ہے۔ اُس ڈرامے کے مرکزی کرداروں میں سے ایک مہران بنک، جہاںسے رقم آئی تھی، کے یونس حبیب تھے، جنھوں نے کبھی اپنی بات کی تردید نہیں کی۔ وہ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ وہ رقم مبینہ طور پر دی گئی تھی، لیکن 2008ء کے انتخابات کے بعد پی ایم ایل (ن) نے مہربان آصف زرداری کے تعاون سے پنجاب میں اقتدار حاصل کیا (یہ موضوع پھر کبھی سہی) تو یونس حبیب کا دل تو خیر کسی نے نہیں دیکھا، لیکن بظاہر یادداشت میں کچھ تبدیلی واقع ہوگئی۔ اُنھوں نے کہا کہ ہاں، 1990ء میں کسی مسٹر شریف کو رقم تو دی گئی تھی لیکن وہ رائے ونڈوالے مسٹر شریف نہیں ، بلکہ کوئی اور تھے جن کا دریائے چناب کے کنارے، جی ٹی روڈ پر سرائے عالمگیر کے نزدیک ٹیولپ ہوٹل ہے۔ یہ بیان کسی کا خودساختہ نہیں ، یونس حبیب کے اصل الفاظ ہیں۔ اب تاریخ مسٹر شریف کی ٹیولپ ہوٹل کی ملکیت کی بابت خاموش (آپس کی بات ہے، ویسے ٹیولپ ہوٹل ہے بہت عمدہ جگہ، دریاکا شاندار نظارہ، کھانے کے لیے تازہ مچھلی، جواب نہیں اس کی لوکیشن کا)۔ کیا مسٹر شریف یہ بات سن کر خوش ہوئے ہوںگے یا پریشان؟

تاہم معاملے کو اُس کے مخصوص زاویے سے دیکھیں، وزیر ِاعظم نواز شریف’ سچ‘ کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے، چنانچہ سعودی عرب میں جلاوطنی کے دوران وہ صدق دل سے کہتے رہے کہ اُنھوں نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ کوئی تحریری یا زبانی معاہدہ نہیں کیا ، لیکن جب پرویز مشرف نے اُن کے عرب دوستوں سے شکایت کی تو سچ سامنے آگیا۔ سابق عرب انٹیلی جنس چیف، پرنس مقرن پاکستان آئے اور (گوکہ عرب بھائی پریس کانفرنسیں کرنے کا شوق نہیں رکھتے) اور ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں معززمہمان نے ایک کاغذلہراتے ہوئے کہا کہ معاہدہ کیا گیا تھا۔ عام انسان عرق ِ ندامت میں ڈوب جاتے ، لیکن نہیں، شریف برادران نہایت پرسکون انداز میں گویا ہوئے کہ معاہدہ، دس نہیں پانچ سال کا تھا۔ انداز ایسا تھا کہ پہلے کسی بھی معاہدے سے انکاری ہونے کی ’پانچ سالہ‘وضاحت کافی سمجھی جائے۔

جہاں تک اصغر خاں کیس کا تعلق ہے تو وزیر ِاعظم نواز شریف کے پاس پس و پیش کرنے کی کافی گنجائش موجود ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنہیں ٹھیک طرح سے یاد نہیں کیونکہ انتخابی مہم زوروں پر ،اور چاروں اطراف سے عطیات کی برسات لگی ہوئی تھی، تو کیا پتہ کس نے پیسے تھمادئیے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ وہ قومی مفاد کے اعلیٰ وارفع معاملات میں اتنے مستغرق رہتے ہیں ایسے فرومایہ امور کوکون یاد رکھتا پھرے۔ یہ طمانیت ِقلب لائق ِصد ستائش کہ فانی دنیا کے مال کا دل پر کیا بوجھ لینا ہوا، چلیںآئی ایس آئی نے جیب میں ڈال دیا، کیا ہوا، معہ سود واپس کر دیں گے۔ اگر عادی مجرموں کو بھی اس دلیل کا سہارا مل جائے تو کوئی بھی جیل نہ جائے، کیونکہ ۰پھر تو ہر کوئی یہ کہہ سکتا ہے۔۔۔

مائی لارڈ، یاد نہیں پڑتا کہ مجھ سے اس فعل کا ارتکاب ہوا تھا، لیکن اگر وکیل ِ استغاثہ کے پاس میرے جرم کا ثبوت ہے تو میں فاضل عدالت کی اجازت سے اس کی تلافی، معہ سود ، کرنے کے لیے تیار ہوں۔تاہم ایسا کرنے سے ہر طرف شور مچ جائے گا، کہا جائے گا کہ یہ انتہائی بدعنوانی، انصاف کا خون ہےاور قانون کی عملداری کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں، لیکن یہاں ہمارے وزیر ِاعظم ایسے بھولے پن میں بات کررہے ہیں جیسے کوئی چھوٹی موٹی بشری لغزش ہوگئی تھی، چنانچہ سوری ، اور پھر تلافی وغیرہ۔ اگر یہ واقعہ کسی ایسی ریاست میں پیش آیا ہوتا جہاں قانون اپنا راستہ بناتا ہے تو اس حرکت کی اجازت دینے والے آرمی چیف کو برطرف کردیا جاتا، آئی ایس آئی چیف کے ہاتھ میں چارج شیٹ تھمادی جاتی اور اس میں ملوث ہونے والے سیاست دان قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے، لیکن پاکستانی ماحول کا شکریہ، یہاں چیف ایگزیکٹو قصوروار ثابت ہونے پر رقم معہ سود لوٹانے کے لیے تیار ہیں…’’اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا‘‘۔

اس معاملے کا آغاز کیسے ہوا؟جب جنرل بیگ آرمی چیف تھے تو آئی ایس آئی کے سربراہ اُن کے قریبی رازداں، لیفٹیننٹ جنرل اسد درّانی تھے۔ 1994ء میں جنرل درّانی کو مغربی جرمنی میں سفیر تعینات کیا گیا تو اُن کی ملاقات اُس وقت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، رحمان ملک نامی کسی صاحب سے ہوئی۔ جنرل درّانی نے اُنہیں بیان ِ حلفی میں 1990ء کے انتخابات کے دوران آئی ایس آئی کی طرف سے کئی ایک سیاست دانوں اور کچھ صحافیوں میں رقم تقسیم کرنے کا اعتراف کیا۔ اُس وقت کے وزیر ِ داخلہ میجر جنرل نصیر اﷲ بابراس پر کارروائی کرنا چاہتے تھے ، لیکن کہا جاتا ہے کہ بے نظیر بھٹو نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد جنرل بابر اُس بیان ِ حلفی کو لے کر ائیر مارشل اصغرخاں کے پاس اُن کی اسلام آباد رہائش گاہ، F 6/3 میں گئے۔ائیرمارشل نے سپریم کورٹ میں درخواست فائل کردی۔ برس ہا برس تک اُس درخواست کی شنوائی نہ ہوئی یہاں تک چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے دور میں اسے سردخانے سے نکالا۔

اکتوبر 2012ء کو جسٹس چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے متفقہ طور پر ایک آرڈر پاس کیا کہ 1990ء کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے ، چنانچہ اُس وقت کے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے خلاف کارروائی کی جائے۔ حکم نامے میں فنڈز لینے والے سیاست دانوں کے بارے میں کہا گیا۔۔۔’’اگر شفاف تحقیقات سے یہ مجرمانہ سرگرمی ثابت ہوجاتی ہے تو پھر اُنہیں قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔‘‘ فاضل عدالت نے حکم نامے میں یہ نہیں کہا کہ وصول ہونے والی رقم معہ سود واپس کرکے گلوخلاصی کرالی جائے۔

اُس حکم نامے کے مطابق ایف آئی اے تحقیقات کر رہی ہے (گو کہ کچھوے کی رفتار سے)، اور انہی تحقیقات کا نتیجہ ہے کہ وزیر ِاعظم کو یہ بیان دینا پڑا۔ کون کہتا ہے کہ وقت کی گرد میں سب کچھ چھپ جاتا ہے؟اعلیٰ افسران جھوٹ نہیں بولتے، یادداشت کا مغالطہ ہوسکتا ہے۔ اب ایک بات تو طے ہے کہ یا تو جرمنی کے شہر بون میں جنرل اسددرّانی کی یادداشت ساتھ نہیں دے رہی تھی یا اب نواز شریف کی۔ تاہم یہ نہیں ہوسکتا کہ دونوں اصحاب کی یادداشت انہیں بیک وقت چکمہ دے رہی ہے۔اب یقینا سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت کو کچھ اور مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ بنائے اور افتتاح کیے گئے منصوبوں کی جیتی جاگتی علامت بن کر نندی پور سامنے کھڑا ہے ، اس پر روپیہ پانی کی بہایا جارہا ہے جبکہ وزرا ایک دوسرے پر برس رہے ہیں۔ اس دوران اصغرخان کیس ایک ایسا ٹائم بم ہے جو اب پھٹنے کے قریب ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہونے والی اشیا میں ’’بھولا پن اور معصومیت‘‘ بھی شامل ہوں گے۔

--------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند