تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حضرت عمر فاروق کی اسلامی فلاحی ریاست
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 3 محرم 1437هـ - 17 اکتوبر 2015م KSA 10:43 - GMT 07:43
حضرت عمر فاروق کی اسلامی فلاحی ریاست

کہا جاتا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ قائداعظم ؒ نے فرمایا کہ ہم پاکستان کو تجربہ گاہ بنائیں گے۔ بدقسمت ملک میں مختلف نوعیت کے تجربات ہوتے رہے مگر پاکستان اسلامی فلاحی جمہوری ریاست نہ بن سکا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دور خلافت میں پہلی اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل و تکمیل کی حالانکہ ان کے دور میں ریاست وسیع و عریض ہوچکی تھی مگر آپؓ نے گڈ گورنینس کے ذریعے ہر لحاظ سے ایک مثالی ریاست قائم کی۔ دنیا کے مختلف حکمرانوں نے حضرت عمرؓ کے ماڈل پر عمل کرکے اپنے ملکوں کو کامیاب ویلفیئر سٹیٹ بنایا۔ ایک کالم میں حضرت عمرؓ کی اسلامی فلاحی ریاست کا احاطہ ممکن نہیں البتہ اس کا خاکہ ضرور پیش کیا جاسکتا ہے۔

’’حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ اونٹ کی ننگی پشت پر بیٹھے جارہے ہیں۔ میں نے پوچھا عمرؓ کدھر کو ارادہ ہے۔ آپؓ نے فرمایا صدقہ کا ایک اونٹ گم ہوگیا ہے اس کی تلاش میں نکلا ہوں۔ میں نے کہا اس طرح کی مثال قائم کرکے آپؓ نے اپنے جانشینوں کو فروتر کردیا ہے۔ آپؓ نے فرمایا علیؓ مجھے اس پر ملامت مت کرو خدا کی قسم جس نے محمدﷺ کو نبوت کا منصب دے کر بھیجا اگر فرات کے کنارے پر بھیڑ کا بچہ بھی ضائع ہو گیا تو قیامت کے روز میری پرسش ہوگی۔ [کنز العمال] حضوراکرمﷺ اور ان کے خلفائے راشدین صدقات اور زکوٰۃ کے مال کے بارے میں کس قدر فکر مند رہتے تھے مگر پاکستان کے حکمران اور ان کے رفقاء خود ہی بیت المال کو لوٹتے رہتے ہیں۔

ابوتمیم جیشانیؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عمر و بن العاص کو یہ خط لکھا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے ایک منبر بنایا ہے جب تم اس پر کھڑے ہوکر وعظ کرتے ہو تو لوگوں کی گردنوں سے بلند ہوجاتے ہو۔ تم یہ منبر توڑ دو اور کھڑے ہوکر وعظ کرو تاکہ تم مسلمانوں سے زیادہ بلند نہ ہوجائو‘‘۔[کنزالعمال] ہمارے پیارے نبیﷺ بھی صحابہ کرام سے بلند اور نمایاں نہیں ہوتے تھے۔ پاکستان میں کتنے عالم ، خطیب، دانشور اور سیاستدان مساوات کے سنہری اصول پر عمل کرتے ہیں۔

ابن جریح ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ ایک رات مدینے کی گلیوں میں گشت کررہے تھے کہ آپؓ نے ایک عورت کو یہ شعر پڑھتے سنا ’’یہ رات لمبی ہوگئی ہے اور اس کے کنارے کالے پڑگئے اور مجھے اس وجہ سے نیند نہیں آرہی کہ میرا کوئی محبوب نہیں جس سے میں کھیلوں‘‘۔ حضرت عمرؓ نے اس عورت سے پوچھا تمہیں کیا ہوا اس نے کہا میرا شوہر جہاد پر گیا ہوا ہے اور میں اس کی بہت مشتاق ہوچکی ہوں۔ آپؓ نے اس عورت سے کہا صبر سے کام لو تمہارے شوہر کو پیغام بھیج کربلالیتا ہوں۔ حضرت عمرؓ گھر تشریف لائے اپنی بیٹی حفصہؓ سے پوچھا ایک عورت کتنے عرصے میں خاوند کی مشتاق ہوجاتی ہے۔

حفصہؓ شرما گئیں حضرت عمرؓ نے فرمایا حق بات کرنے سے اللہ نہیں شرماتے حفصہؓ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا تین چار ماہ میں عورت شوہر کی مشتاق ہوجاتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے تمام علاقوں میں خط بھیجا کہ لشکروں کو گھر سے باہر چار ماہ سے زیادہ نہ روکا جائے۔ [کنز العمال] فلاحی ریاست میں شہریوں کو تمام حقوق فراہم کرنے پڑتے ہیں تاکہ معاشرہ ہر حوالے سے صالح رہے۔ حضرت عمرؓ نے اسلامی ریاست چلانے کے لیے مخبری کا مثالی نظام قائم کر رکھا تھا وہ شہریوں سے خود رابطہ کرکے ان کے احوال سے باخبر رہتے تھے۔ آپؓ نے حمص کے لوگوں سے پوچھا تمہارے امیر عبداللہ بن قرط کیسے ہیں انہوں نے کہا بہترین امیر ہیں بس ایک بات ہے کہ انہوں نے ایک بالا خانہ بنا رکھا ہے جس میں وہ رہتے ہیں اور لوگوں کی ان تک رسائی نہیں ہوپاتی۔

حضرت عمرؓ نے امیر کو خط لکھا اور اپنے قاصد کو ہدایت کی کہ وہ بالا خانہ جلادے۔ قاصد نے حمص پہنچ کر بالا خانے کے دروازے کو آگ لگادی جب امیر کو پتا چلا تو اس نے کہا قاصد کو کچھ نہ کہو۔ عبداللہ بن قرطؓ خط ملتے ہی مدینہ پہنچ گئے۔ حضرت عمرؓ نے ان کو کہا کہ وہ مدینہ کے قریب پتھریلے میدان حرہ پہنچ جائیں۔ وہاں پر صدقہ کے اونٹ تھے۔ حضرت عمرؓ نے ان سے کہا اپنے کپڑے اُتار دو ان کو اون کی چادر پہننے کو دی اور ان سے کہا کنوئیں سے پانی نکالو اور اونٹوں کو پلائو۔ عبداللہ قرطؓ اپنے ہاتھوں سے پانی نکال کراونٹوں کو پلاتے رہے جب تھک گئے تو حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا دنیا میں کتنا عرصہ رہو گے جواب دیا مختصر عرصہ کے لیے۔ آپؓ نے فرمایا اس مختصرعرصہ کے لیے تم نے بالا خانہ بنایا تھا۔ اپنے کام پر واپس جائو آئندہ ایسا نہ کرنا۔ [حیاہ الصحابہ] اسلامی فلاحی ریاست میں بڑے گھروں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور گڈ گورنینس کے لیے فوری احتساب کرنا پڑتا ہے۔

ایک صحابی سعید بن بریوع کی آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی انہوں نے جمعہ کی نماز کے لیے مسجد آنا ترک کردیا۔ حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا آپ نماز کے لیے کیوں نہیں آتے انہوں نے کہا میری بینائی ختم ہوگئی ہے اور میرے پاس کوئی معاون نہیں جو مسجد کا راستہ بتائے۔ حضرت عمرؓ نے بیت المال سے ایک شخص کو ان کا معاون مقرر کردیا جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتا۔ [اسد الغابہ] فلاحی ریاست میں معذوروں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت عمرؓ ایک رات مدینہ میں گشت کررہے تھے۔ ایک گھر سے بچوں کے رونے کی آوازیں آئیں۔ آپؓ نے دروازے پر دستک دے کر پوچھا بچے کیوں رو رہے ہیں۔ عورت نے کہا میرے پاس بچوں کو کھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے میں نے ان کی تسلی کے لیے پانی کی دیگچی چولہے پر رکھ دی ہے تاکہ وہ انتظار کرتے کرتے سو جائیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ رونے لگے اور اپنی کمر پر آٹے کو بوری اُٹھا کر اس عورت کے گھر پر لے آئے۔ [الطبری] اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان میں مسجدوں کے خطیب اور یونین کونسل میں سرکاری اہل کار گشت کرکے عوام کی دادرسی کیوں نہیں کرسکتے۔ حضرت شعبیؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ اور ابی بن کعبؓ کے درمیان کھجور کے درخت پر تنازع ہوگیا۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا ہم فیصلے کے لیے ثالث کرلیتے ہیں چنانچہ دونوں فیصلے کے لیے حضرت زید بن ثابتؓ کے پاس گئے۔ حضرت زیدؓ نے حضرت عمرؓ کو اپنے قریب بہتر جگہ پر بٹھانے کی کوشش کی۔ حضر عمرؓ نے فرمایا یہ پہلا ظلم ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں میں تو اپنے فریق مخالف کے ساتھ بیٹھوں گا۔ حضرت ابی کعبؓ نے اپنا دعویٰ پیش کیا۔ حضرت عمرؓ نے انکار کیا۔ حضرت زیدؓ نے کہا انکار کی صورت میں مدعا علیہ کو قسم کھانی پڑتی ہے لیکن میری درخواست ہے کہ آپ امیر المومنین کو قسم کھانے پر مجبور نہ کریں۔ حضرت عمرؓ نے اس رعایت سے فائدہ نہ اُٹھایا اور قسم کھائی اور کہا کہ حضرت زیدؓ تب قاضی بن سکتے ہیں جب ان کی نظر میں عمرؓ اور عام مسلمان برابر ہوں۔ [کنزالعمال] فلاحی ریاست میں آئین اور قانون کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں۔

ابن عمرؓ فرماتے کہ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں مصر میں میرے بھائی عبدالرحمن اور ابو سرعہ عقبہ بن حارث نے نبید پی لی (کھجوریں پانی میں ڈال دی جاتی تھیں کچھ دیر بعد پانی میٹھا اور نشہ آور ہوجاتا تھا) دونوں کو نشہ ہوگیا اور وہ دونوں مصر کے امیر عمر بن العاص کے پاس گئے اور کہا کہ انہوں نے نشہ کیا ہے لہذا ان کو سزا دے کر پاک کردیں۔ عبداللہ بن عمر نے اپنے بھائی عبدالرحمن سے کہا کہ میرے ساتھ گھر چلو تاکہ میں تمہارا سر مونڈ دوں تاکہ سب کے سامنے تمہارا سر نہ مونڈا جائے جو اس وقت کا دستور تھا۔ سر منڈوانے کے بعد وہ حضرت عمر بن العاص کے پاس گئے انہوں نے حد جاری کردی۔ حضرت عمرؓ کو اپنے مخبر سے خبر ملی تو آپؓ نے اپنے بیٹے کو مدینہ بلایا اور ان کو سو کوڑے مارے اور عملی طور پر ثابت کردیا کہ قانون سب پر مساوی لاگو ہونا چاہیئے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا لہذا اسے فلاحی ریاست بننا چاہیئے تھا۔

پاکستان کی مذہبی جماعتیں اور علماء اگر متحد اور متفق ہوکر پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد کریں تو پاکستان کو قرآن، سیرت اور آئین کی روشنی میں جدید اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست بناجا جاسکتا ہے۔

زندگی میں اگر نہیں ڈھلتے
حرف سچے کتاب میں کیوں ہیں

-----------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند