تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام کی صورتحال اور روس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 ذیعقدہ 1440هـ - 17 جولائی 2019م
آخری اشاعت: اتوار 4 محرم 1437هـ - 18 اکتوبر 2015م KSA 09:34 - GMT 06:34
شام کی صورتحال اور روس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی

شام کی صورت حال ان دنوں عالمی منظر نامے پر نظر رکھنے والے افراد کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ روس نے دو ہفتے سے شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کیلئے فضائی حملوں کا آغاز کیا جبکہ امریکہ کی زیرِ قیادت اتحاد پہلے سے شام میں فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔روسی طیاروں کی جانب سے اپنی مہم کے دوران دو مرتبہ ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی بھی کی گئی جس پر نیٹو نے اپنے رکن ممالک کو ان کا تحفظ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

روسی فضائیہ کے شام پر حملوں میں نمایاں اضافے کے بعد انکی تعداد اوسطاً روزانہ 50 سے بڑھ گئی ہے۔ روس کا دعویٰ ہے کہ وہ دولت اسلامیہ (داعش) اور دیگر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو ہدف بنا رہا ہے جبکہ امریکہ اور نیٹو کے دیگر رکن ممالک کا موقف ہے کہ روس کا اصل ہدف شامی صدر بشار الاسد کیخلاف برسر پیکار شامی گروہ ہیں۔ اندرونی خلفشار اور داعش سے خانہ جنگی کی بناء پر بشارالاسد کی حکومت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ شام میں قیام امن کیلئے بشارالاسد کا اقتدار سے الگ ہونا ناگزیر ہے جبکہ دوسری طرف روس نے شام میں داعش سے نمٹنے کیلئے بشارالاسد کے بغیر موثر کارروائی کو ناممکن قرار دیا ہے اور روس سے شامی افواج کو اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ فوجی تربیت بھی جاری ہے۔

عالمی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شام میں براہ راست روسی مداخلت سے یہ تنازعہ مزید پیچیدہ اور طویل ہو جائیگا۔ گزشتہ چار برس سے جاری اس بحران کے نتیجے میں اقوام متحدہ کیمطابق دو لاکھ چالیس ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ شام ملت اسلامیہ کا ایک اہم ملک ہے۔ شام کی تاریخ در حقیقت آرٹ، ثقافت اور انسانی تعلقات کی دریافت کا سفر ہے۔ بحیرہ روم کے مشرقی ساحل پر واقع شام کی سرزمین کے ہر قدم پر ایک تاریخ موجود ہے۔ اسے دنیا کی مختلف تہذیبوں کے ملاپ کی سر زمین اور مشرق و مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ ہزار ہا سال سے بحر اوقیانوس اور دریائے فرات کے درمیان کا یہ علاقہ تاریخی تبدیلیوں کا مرکز رہا ہے۔ شا م میں چھ ہزار سال پرانی تاریخ کے آثار اب بھی جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ یہاں دنیا کی قدیم ترین عمارات اور مذاہب کے آثار بھی ملتے ہیں۔ شام کے صحرا، وادیاں، ساحل، عبادت گاہیں، نوادرات اور محلات سب اپنے اندر صدیوں پرانی تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔ عیسائیت کی بنیاد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کا آغاز بھی شام ہی سے ہوا۔ دمشق کو طویل عرصے تک اسلامی دارلسلطنت کی حیثیت حاصل رہی۔ سپین اور ایشائے کوچک تک اسلام کا ابدی پیغام بھی شام ہی سے پہنچا۔

شام کے دارالحکومت دمشق کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا، کہ یہ دنیا کا ایسا شہر ہے جو کبھی تباہ و برباد نہیں ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دمشق شہر کی گلیوں میں جدید اور قدیم کا ایسا امتزاج نظر آتا ہے جو شاید ہی دنیا میں کہیں دیکھا جا سکے۔ یونانی اور رومن دور میں یہ شہر تہذیب و تمدن کا مرکز رہا۔شام کی بیاسی فی صد آبادی مسلمان ہے۔ تیرہ فیصد عیسائی جبکہ بقایا پانچ فی صد آبادی میں دوسرے مذاہب کے افراد شامل ہیں۔ فرانسیسی اور مغربی حکمرانی کے اثرات شام کی معاشرتی زندگی میں بڑے نمایاں ہیں۔ آزاد خیالی اور جدید پہناوا عام ہے۔

دمشق کا بازار حمیدیہ دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے بڑی کشش رکھتا ہے۔ اس کورڈ بازار کا آغاز سلطان صلاح الدین ایوبی سکوائر سے ہوتا ہے اس سکوائر میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے مجسمے کو ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار دکھایا گیا ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھ میں تلوار ہے اور وہ فاتحانہ انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ سیاحوں کی بڑی تعداد اس مجسمے کیساتھ تصویریں بنواتی ہے۔ حمیدیہ بازار مسجد اموی کے صدر دروازے پر ختم ہوتا ہے۔ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ رسول پاکؐ کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام اور دوسرے شہد ائے کربلا کے سر مبارک طشتریوں میں رکھ کر اسی بازار حمیدیہ سے جلوس کی شکل میں مسجد اموی تک لائے گئے جہاں یزید کا دربار لگا۔ اس بازار سے گزرتے ہوئے تاریخی تصورات انسان کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔

مسجد اموی میں وہ جگہ جہاںحضرت امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک رکھا گیا تھا وہاں "راس حسین" کے نام سے زیارت گاہ ہے۔ روزانہ سینکڑوں زائرین اموی مسجد میں اس مقام کی زیارت کیلئے آتے ہیں۔ مسجد اموی دمشق کی سب سے قدیم عبادت گاہ ہے۔ تین ہزار سال پہلے آرمینین د ور میں یہاں "Temple of Madad , The God of Thunder بنایا گیا، اسکے بعد رومن دور میں یہاں Jupitor" "Temple of بنا۔ عیسائیت کے دور عروج میں اس ٹمپل کے میدانی حصے میں ایک چرچ بنایا گیا۔ 635 عیسوی میں جب اسلامی دور آیا تو مسلمانوں نے اسکے مشرقی حصے میں مسجد تعمیر کی۔

اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں عیسائیوں نے ایک معاہدے کے تحت دمشق میں چار بڑے گرجا گھروں کے عوض اموی مسجد کے احاطے میں قائم چرچ کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔ اس معاہدے پر عمل در آمد کے بعد یہاں مسجد اموی کی تعمیر شروع ہوئی۔ دس سال کے عرصے میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد اسلامی فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے۔ یہ مسجد سلطنت اسلامیہ کی پہلی یادگار تعمیر بھی ہے۔ بیت المقدس کے بعد مسجد اموی ہی ایک ایسی جگہ ہے جو یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں مذاہب کے پیرو کاروں کیلئے مساوی طور پر متبرک حیثیت کی حامل ہے۔ اموی مسجد مسلمانوں اور عیسائیوں کیلئے اس لحاظ سے بھی خصوصی طور پر متبرک ہے کہ یہاں پیغمبر حضرت یحییٰ علیہ السلام کا روضہ مبارک ہے۔

شام میں بدامنی کی صورتحال سے جہاں وہاں کے عوام پریشان ہیں وہاں اس تاریخی ملک میں ملت اسلامیہ کے اہم مقامات اور تاریخی آثاروں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں عراق کے بعد شام ہی وہ ملک ہے جہاں تاریخ اسلام کے آثار سب سے زیادہ ہیں۔ جن میں کئی پیغمبران، صحابہ کرام اور مشاہیر اسلام کے مزارات ہیں۔ اس حوالے سے ملت اسلامیہ کو شام کی سیاسی صورتحال پر محض تماشائی بننے کی بجائے اپنا متفقہ نکتہ نظر واضح کرنا چاہیے تاکہ جلد از جلد اس مسئلہ کا حل نکل سکے۔

--------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند