تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اوقات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 22 صفر 1441هـ - 22 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 5 محرم 1437هـ - 19 اکتوبر 2015م KSA 09:31 - GMT 06:31
اوقات

وزیر داخلہ چودھری نثار ایک بہادر آدمی ہیں۔ انہوں نے بے دھڑک بیان دیا کہ اصغر خان کیس میں تحقیقات کے لئے ایف آئی اے کو سابق فوجی افسران کا بیان ریکارڈ کرنے میں "مشکلات درپیش ہیں"۔ایسا"سخت بیان"جاری کرنے سے پہلے انہوں نے شاید وزیراعظم سے بھی اجازت نہیں لی ہو گی۔مگر پھر وزیراعظم تو خود ہی اس کیس میں ایک ملزم ہیں اور ا س حیثیت میں وہ وزارت داخلہ کو ان معاملات میں کیسے مشورہ یا حکم دے سکتے تھے۔ایسے میں اصغر خان کیس کی تمام تر ذمہ داری چودھری نثار کے توانا کندھوں پر آن پڑی ہے۔وزیر داخلہ کے سابق فوجی افسران سے متعلق بیان کے بعد اب ان فوجی افسران پر"اخلاقی دبائو"اتنا بڑھ جائے گاکہ وہ وزارت داخلہ کے باہر قطار بنا کر بیان ریکارڈ کرانے کھڑے ہوں گے۔ ظاہر ہے شیر کو درپیش "مشکلات"کی خبر اخبار میں آنے کے بعد میڈیا کے تجزیہ کار اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھنے والے اینکر حضرات حق اور سچ کا علم بلند کریں گے اور شیر کے پنجے مضبوط ہوں گے۔جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے نشے میں چُور جب میڈیا کے جوانمرد ایسا کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمائیں گے تو وزیر داخلہ فوری طور پر انکے لواحقین کے لئے لاکھوں روپے معاوضہ اور تحقیقات کے لئے اعلٰی ترین عدالتی کمیشن کی تشکیل فرما کر اپنی ذمہ داری سے با احسن عہدہ برا ہوں گے۔ویسے بھی وزارت داخلہ اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ اسے فوج کے ادارے سے رابطے کے لئے اب وزارت دفاع کی بھی ضرورت نہیں۔یقینا وزارت دفاع کی اب ویسے بھی کسی کو ضرورت نہیں ماسوائے خود فوج کے جس کے کچھ ریٹائرڈ سینئر افسران ربڑ کی مہریں لئے فائلوں کے منتظر رہتے ہیں۔وزیر داخلہ اور ان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی بہادری کے قصے اب پرانے ہو چکے ہیں۔اصغر خان کیس میں آئی جے آئی بنانے کے لئے پیسے بانٹنے کا اقرار کرنے والے فوج اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کا احتساب تو معمولی بات ہے۔وزیر داخلہ کے ایف آئی اے کے شیروں نے تواپنے جرم سے انکاری فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی نہیں بخشا تھا۔ملکی تاریخ میں نہ صرف پہلی بار ایک فوجی آمر کے خلاف آئین سے سنگین غداری کا مقدمہ درج کروایا گیا بلکہ ایف آئی اے کے چیتوں نے جی ایچ کیو کے ریکارڈ تک رسائی کے لئے خطوط کی یلغار کر کے اتنا "اخلاقی دبائو"ڈال دیا کہ جنرل مشرف کے خلاف 3نومبر کی ایمرجنسی کے ریکارڈ کا ایک ڈھیر تھا جو ایف آئی اے کی عمارت کے باہر لگا دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں بھی وزیر داخلہ موصوف کے تفتیشی شیروں نے وزارت دفاع کی محتاجی قبول نہیں کی بلکہ جو خطوط وزارت دفاع کو لکھے گئے تھے ان میں استدعا نہیں حکم تھا۔وزیر داخلہ چودھری نثار کی ایف آئی اے نے فوج کی بجائے فوج کی بالاوزارت سے جنرل مشرف کی3نومبر کی ایمرجنسی کا ریکارڈ طلب کیا۔بس پھر کیا تھا وزارت دفاع کے حکم پر جی ایچ کیو سے اتنا تفصیلی اور مئودبانہ جواب آیا کہ جنرل مشرف کا ٹرائل کرنے والی خصوصی عدالت بھی عش عش کر اٹھی۔ اب یہ سب کچھ تو وزیر داخلہ چودھری نثار جیسا بہادر آدمی ہی کر سکتا تھا۔اور تو اور وزارت داخلہ نے اب جنرل مشرف کے ساتھی سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق چیف جسٹس عبد الحمید ڈوگر مشرف کے وزیر قانون اور اب نواز شریف کے باعتماد ساتھی شاہد حامد کے خلاف بھی کارروائی کا جرات مندانہ فیصلہ کر لیا ہے اور انشاء اللہ جلد ہی ایک اور پریس کانفرنس میں درپیش"مشکلات"کا جرات مندانہ بیان دے کر سنگین غداری کے ساتھی ملزمان کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

بہر حال بات ہو رہی تھی اصغر خان کیس کی۔ وزیر داخلہ نے ایک اور ہمت والا کام یہ کیا کہ ملک کے طاقتور ترین عہدیدار یعنی وزیراعظم کا بیان ریکارڈ کر لیا۔یہ ہوئی ناں اصولی بات اور قانون کی بالادستی۔ایف آئی اے کے ماہرین نے "روایتی حربے"استعمال کر تے ہوئے بڑی مہارت سے وزیراعظم نواز شریف سے یہ اگلوا لیا کہ انہوں نے یونس حبیب سے35لاکھ روپے"نہیں"لئے تھے۔ ان بدنام زمانہ روایتی حربوں کی مذمت اپنی جگہ مگر "قانون کا برابر اطلاق"کر کے ایف آئی اے نے کوئی اتنا غلط بھی نہیں کیا۔آخر ان حربوں کے بغیر وزیراعظم صاحب کیسے"انکار جرم"کرتے۔اگر ان سے ایف آئی اے کے حکام شریفانہ انداز میں تفتیش کرتے تو عین ممکن تھا کہ وہ جرم سے "اقراری"ہو جاتے اور ایف آئی اے کو انہیں جھوٹا ثابت کرنے میں بہت "مشکل درپیش"ہو جاتی۔بہر حال ایف آئی اے نے تمام مشکلات کے باوجود یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے یونس حبیب سے35لاکھ روپے نہیں لیے۔ اچھی بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے (چند خبروں کے مطابق)پیش کش کی ہے کہ اگر ان کا رقم لینا ثابت ہو جائے تو وہ یہ رقم سود سمیت واپس کر دیں گے۔ اب پہلی بات تو یہ ہے کہ سود حرام ہے۔ باقی رہ گئے 35لاکھ تو اسکی وصولی ثابت کرنے میں بہت سی"مشکلات درپیش"ہو سکتی ہیں۔سب سے بڑی "مشکل"تو فوج کے سابق افسران کا بیان ریکارڈ کرنا ہے۔ اگر فوج اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہان نے بیان ریکارڈ کرا دیا کہ نواز شریف نے پیسے لیے ہیں تو اس سے یقینی طور پر "مشکلات درپیش"ہو سکتی ہیں۔ اس لئے نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ویسے بھی درخواست گزار اصغر خان علیل سہی مگر اب بھی بولنے کی سکت رکھتے ہیں اور دوسری طرف اہم گواہ یونس حبیب بھی علیل ہیں اور اپنا الزام واپس لے چکے ہیں۔ایسے میں کیس چلتا ہے تو یونس حبیب پر جرح اہم ہو گی۔مگر جب تک یہ کیس ایف آئی اے کی لوہے کی الماریوں سے نکل کر عدالت میںبصورت چالان پہنچے گا تب تک اہم گواہان یا تو اس دنیا میں نہیں ہوں گے یا پھر کچھ لوگ حکومت میں نہیں ہوں گے ۔"کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تکـ"۔امید ہے کہ وزیر داخلہ آئندہ دنوں میں حکومت کو درپیش دوسری"مشکلات"سے بھی قوم کو آگاہ کریں گے مثلاـــایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے اجراء میں حائل رکاوٹیں، حامد میر کمیشن رپورٹ کا اتا پتہ، حیات اللہ خان (صحافی) کی مکمل رپورٹ کا عدم اجرائ، جنرل مشرف کا سنگین غداری کیس میں عدم پیش رفت کی وجوہات وغیرہ وغیرہ۔ایسا کرنے کے دو فائدے ہوں گے، ایک تو یہ کہ عوام کو اپنی ووٹ کی پرچی اور اسکی بنیاد پر موجودہ حکومت کو دیے گئے عوامی مینڈیٹ کو اوقات معلوم ہو جائے گی۔اسکے علاوہ اپنی آزادی رائے کے لئے اس حکومت پر تکیہ کرنے والے صحافیوں کو بھی اپنی اوقات کا اندازہ بخوبی ہو جائے گا۔

-----------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند