تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مظلوم اقبال
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 6 محرم 1437هـ - 20 اکتوبر 2015م KSA 08:00 - GMT 05:00
مظلوم اقبال

پورچ میں دو کرسیاں پڑی تھیں، ایک کرسی پر ایک نوجوان بیٹھا تھا اور دوسری کرسی پر اس نے ٹانگیں رکھی ہوئی تھیں، میں اور قاسم علی شاہ آدھ کھلے گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو نوجوان نے بیزاری سے ہماری طرف دیکھا، ہاتھ کا اشارہ کیا، کرسی سے اٹھا اور سلیپر گھسیٹتا ہوا عمارت کے بائیں جانب چل پڑا، ہم دونوں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑے، بائیں جانب عمارت میں داخلے کا دروازہ تھا، نوجوان نے اندر داخل ہو کر سرگوشی کی ’’اوئے وزیٹرز آئے نے‘‘ اندر افراتفری مچ گئی، ہم دونوں اندر داخل ہوئے تو دو نوجوان آڑھے ترچھے کھڑے تھے، وہ ہماری آمد سے قبل یقینا فرش پر لیٹے ہوئے تھے، وہ ننگے پاؤں تھے۔

ان کے گھسے ہوئے گندے سلیپر ساتھ پڑے تھے، یہ عمارت کی چھوٹی سی لابی تھی، لابی کی دائیں دیوار پر وزیٹرز بک رکھی تھی اور بک کے اوپر عمارت کی تعارفی تختی لگی تھی’’جاوید منزل علامہ اقبال کی آخری رہائش گاہ ہے، اس مکان میں حضرت علامہ کا 21 اپریل 1938ء میں انتقال ہوا، جاوید منزل کی تعمیر کے لیے 1934ء میں نزول ارضی رقبہ سات کنال بذریعہ نیلام بعوض 25025 روپے خرید کی گئی، اس کوٹھی کی تعمیر پر سولہ ہزار روپے خرچ ہوئے، بجلی، پنکھوں اور فرنیچر پر مزید ایک ہزار روپے خرچ ہوئے، اس طرح کل لاگت 42025 روپے ہوئی‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ جی ہاں! یہ مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کا گھر تھا۔

میں ہفتہ 17 اکتوبر 2015ء کو علامہ صاحب کے گھر کی زیارت کے لیے لاہور میں جاوید منزل پہنچ گیا، یہ گھر علامہ صاحب کی تیسری بیگم اور جسٹس جاوید اقبال کی والدہ سردار بیگم نے بنوایا تھا، علامہ صاحب ہندوستان اور پوری مسلم امہ کے عظیم مفکر ہونے کے باوجود عسرت میں زندگی گزار رہے تھے، قانون کی پریکٹس نہ ہونے کے برابر تھی، نواب آف بھوپال ہر مہینے سو روپے بھجوا دیتے تھے، تھوڑی سی رقم کتابوں کی رائیلٹی سے مل جاتی تھی اور یوں گھر کا خرچ چلتا تھا۔

سردار بیگم اکثر علامہ صاحب سے الجھتی رہتی تھیں، وہ روتے ہوئے کہتی تھیں ’’میں اس گھر میں لونڈی کی طرح کام کرتی ہوں اور ساتھ ہی پیسے بچانے کی کوشش میں لگی رہتی ہوں، دوسری طرف آپ ہیں کہ بجائے نیک نیتی سے کچھ کرنے کے بستر پر دراز شعر لکھتے رہتے ہیں،، اور علامہ صاحب جواب میں کھسیانی ہنسی ہنس دیتے تھے، سردار بیگم اپنا گھر چاہتی تھیں جب کہ علامہ اقبال میکلوڈ روڈ پر کرائے کے مکان میں رہتے تھے، بیگم نے گھر کے اخراجات میں سے پیسے بچا کر رقم جمع کی اور میو روڈ پر سات کنال کا پلاٹ خرید لیا، نقشے اور تعمیر کی ذمے داری شیخ عطاء محمد کو سونپی گئی۔

گھر مکمل ہوا تو سردار بیگم علیل ہو گئیں، انھیں چارپائی پر لٹا کر جاوید منزل لایا گیا، وہ گھر میں تین دن رہ کر انتقال فرما گئیں، والدہ نے انتقال سے قبل یہ گھر جاوید اقبال کو ہبہ کر دیا تھا، علامہ صاحب کے استعمال میں تین کمرے اور ایک کچن تھا، علامہ صاحب انتقال تک اپنے صاحبزادے جاوید اقبال کو ان تین کمروں کا کرایہ ادا کرتے رہے، جاوید اقبال علامہ صاحب کے انتقال کے 39برس بعد تک اس گھر میں مقیم رہے۔

حکومت نے 1977ء میں جاوید منزل جاوید اقبال سے خریدی اور اسے اقبال میوزیم بنا دیا، یہ گھر اب میوزیم ہے، میں علامہ صاحب کی خوشبو کو محسوس کرنے کے لیے اس عظیم عمارت میں داخل ہو گیا جس میں عالم اسلام کے اس مفکر نے زندگی کے آخری سال گزارے، جس کے بارے میں مشاہیر کی متفقہ رائے تھی ’’آپ بیسویں صدی میں اسلامی فکر کے مبلغ تھے‘‘ آپ جاوید منزل کی لابی سے آگے بڑھیں تو چھوٹا سا دلان آتا ہے، یہ دلان مردان خانے کو زنان خانے سے الگ کرتا ہے، دلان میں علامہ صاحب کی جائے نماز بچھی ہے، جائے نماز کی دائیں دیوار پر ان کی مسجد قرطبہ میں نماز پڑھنے کی تصویر ہے جب کہ سامنے مسجد قرطبہ میں لکھی ہوئی نظم دعا آویزاں ہے، دلان کے بائیں جانب ایک چھوٹا کمرہ ہے۔

یہ بچوں کا کمرہ تھا، کمرے میں علامہ صاحب کی تصاویر، ڈگریاں، اسناد، خطوط، کتابوں کے مسودے اور ہاتھ سے لکھے اشعار آویزاں ہیں، علامہ صاحب کی لکھائی باریک اور مشکل تھی، انھوں نے اپنے ہاتھ سے بے شمار اشعار کی تصحیح فرمائی تھی، یہ عادت ان کی پروفیشنلزم اور خوب سے خوب تر کی متلاشی فطرت کو ظاہر کرتی ہے، اس کمرے کے ساتھ ایک مستطیل کمرہ ہے، یہ بھی زنان خانے کا حصہ تھا، اس کمرے کی دیواروں پر بھی علامہ اقبال کی مختلف تصاویر، خطوط اور تحریروں کے عکس لگے ہیں، یہ کمرہ ایک بڑے کمرے سے متصل ہے۔

یہ فیملی کا اجتماعی کمرہ تھا، اس کمرے میں علامہ صاحب کے استعمال کی اشیاء رکھی ہیں، علامہ صاحب کے کوٹ، پتلونیں، کرتے، پائجامے، چھڑی، نک ٹائیاں، کالرز، بوٹ، جوتے، دستانے، چادریں، مفلر، ویسٹ کوٹ، ٹوپیاں، تہبند، کف لنکس، عینک اور کلاہ رکھی ہے، ایک شو کیس میں علامہ صاحب اور ان کی بیگم کی بینک کی دستاویز، مہر اور پاسپورٹ ہے، بینک کی پاس بک بھی اسی شو کیس میں ہے، پاس بک میں ان کے کھاتے کی تفصیل درج ہے، یہ ہال دلان میں علامہ صاحب کی جائے نماز کے قریب کھلتا ہے، دلان کا ایک چھوٹا سا دروازہ آپ کو اس عظیم خواب گاہ میں لے جاتا ہے۔

جس میں علامہ صاحب نے آخری سانس لی، یہ علامہ صاحب کا بیڈروم ہے، بیڈروم میں دو بڑی کھڑکیاں ہیں، یہ کھڑکیاں پورچ میں کھلتی ہیں، علامہ صاحب کا بیڈ کھڑکیوں کے ساتھ لگا ہے، یہ معمولی سی چارپائی ہے، بیڈ پر ایک گول تکیہ ہے، تکیے پر کھیس پڑا ہے، بستر وہی ہے جو علامہ صاحب استعمال کرتے تھے، سرہانے کتابوں کی الماری ہے، الماری کے ساتھ انگیٹھی ہے، انگیٹھی پر مٹی کے تیل کا لیمپ اور تصویریں رکھی ہیں، انگیٹھی کے سامنے میز ہے اور میز پر علامہ صاحب کے لکھنے کا سامان پڑا ہے، کمرے کی ایک سائیڈ پر شیو کا سامان رکھا ہے، بیڈ کی پائنتی پر دیوار پر کیلنڈر آویزاں ہے۔

کیلنڈر پر علامہ صاحب کے انتقال کی تاریخ 21 اپریل ظاہر ہوتی ہے، دیوار پر علامہ صاحب کا کلاک ہے، کلاک کے سوئیاں علامہ صاحب کے انتقال کے وقت پر رکی ہیں، یہ کمرہ علامہ صاحب کے ڈرائنگ روم میں کھلتا ہے، ڈرائنگ روم بہت چھوٹا اور غریبانہ ہے، ڈرائنگ روم کا ایک دروازہ پورچ میں نکلتا ہے اور دوسرا ڈائننگ روم میں۔ ڈائننگ روم بھی سادا اور عام سا ہے، کمرے کے عین درمیان ایک گول میز اور پانچ کرسیاں رکھی ہیں۔

دو الماریاں ہیں جن میں چینی کے برتن ہیں، کچن ڈائننگ روم سے متصل ہے اور بس! مصور پاکستان کا گھر ختم ہوگیا۔ گھر کے سامنے اور بیک پر لان ہے، سرونٹ کوارٹرز گھر کے سامنے دائیں جانب ہیں، علامہ صاحب کے انتقال کے بعد بیرونی لان میں دکانیں بنا دی گئی تھیں، دکانوں کا کرایہ مدت تک جاوید اقبال اور منیرہ اقبال کا نان نفقہ چلاتا رہا تاہم حکومت نے یہ دکانیں مسمار کر دی ہیں۔

علامہ صاحب کے گھر میں تین قسم کی فیلنگز ہوتی ہیں، پہلی فیلنگ علامہ صاحب کی ذات سے وابستہ ہے، آپ جب یہ محسوس کرتے ہیں، علامہ محمد اقبال اس فضا میں سانس لیتے تھے، وہ اس گھر کے درودیوار کو چھوتے تھے، وہ یہ کیلنڈر، یہ گھڑی، یہ بوٹ، یہ دستانے اور یہ کوٹ استعمال کرتے تھے اور وہ اس گاؤ تکیے سے ٹیک لگا کر کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ اور کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونے جیسے آفاقی خیالات کو کاغذی پیرہن دیتے تھے تو آپ کی نظریں جھک جاتی ہیں۔

سانسیں وضو کر لیتی ہیں اور تصور مہکنے لگتا ہے اور آپ خود کو ایک ایسی مقدس عبادت گاہ میں محسوس کرنے لگتے ہیں جہاں داخل ہونے کے لیے نفس پر غسل واجب ہو جاتا ہے، آپ وہاں علی بخش کو بھی محسوس کرتے ہیں، آپ کو وہاں مولانا ظفر علی خان بھی نظر آتے ہیں، مولانا محمد علی جوہر بھی، سر راس مسعود بھی اور لیاقت علی خان بھی۔ آپ جب بیڈ روم سے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو سامنے صوفے پر قائداعظم اپنی عظیم ہمشیرہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے بھی محسوس ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی آپ ماضی میں چلے جاتے ہیں، اس روشن اور تابناک ماضی میں جب ملک کا تصور دینے والے، جب ملک بنانے والے اور جب ملک چلانے والے تمام لوگ اکٹھے تھے، یہ احساس بہت قیمتی ہے۔ دوسری فیلنگ ڈپریشن سے بھرپور ہے۔

علامہ صاحب کا گھر ملک کے سب سے بڑے مفکر کا گھر نہیں لگتا، بیسویں صدی میں پورے عالم اسلام میں علامہ اقبال جیسی کوئی دوسری ہستی نہیں تھی، علامہ صاحب نے اپنے خیالات کے ذریعے پوری مسلم ورلڈ کو متاثر کیا لیکن یہ شہرت، یہ عزت اور یہ مقام ان کے گھر کا چولہا نہ جلا سکا، علامہ صاحب کو گزر اوقات کے لیے نوابوں کے وظیفے کا انتظار کرنا پڑتا تھا یا پھر وکیل کی حیثیت سے عدالتوں میں دھکے کھانا پڑتے تھے، علامہ صاحب کی روایتی سستی کی وجہ سے پریکٹس نہ ہونے کے برابر تھی، وہ دن رات اپنے خیالات میں غلطاں رہتے تھے چنانچہ نان نفقے کی فکر مشکل تھی ۔

لہٰذا اگر ان کی بیگم کفایت شعار نہ ہوتیں، وہ بچت نہ کرتیں اور وہ اپنے زیورات بیچ کر یہ گھر نہ بناتیں تو شاید علامہ اقبال کا جنازہ بھی کرائے کے مکان سے اٹھتا اور ان کے بعد ان کے دونوں نابالغ بچے بھی گلیوں میں رل جاتے، آپ خود فیصلہ کیجیے جن لوگوں کا مصور پاکستان پوری زندگی وظیفوں پر گزارہ کرتا رہا ہو، وہ قوم ہاتھ میں کشکول لے کر نہیں پھرے گی تو کیا کرے گی، ہم لوگ نسلوں سے ظالم اور سنگ دل ہیں، ہم نے مفکر پاکستان تک کے باعزت دال دلیے کا بندوبست نہیں کیا تھا، کلام اقبال گانے والے قوال خوش حال ہو گئے لیکن کلام اقبال تخلیق کرنے والے کی زندگی عسرت میں گزری، اس کا مزار تک ’’امداد‘‘ کے ذریعے بنا، یہ حقیقت ہمارے اجتماعی ضمیر اور ہمارے فلسفہ حیات کی ننگی دلیل ہے۔

علامہ صاحب کا گھر آج بھی عسرت اور بے توقیری کی تصویر ہے، دیواروں کا پینٹ اکھڑ چکا ہے، فرنیچر پر دھول اور مٹی کی تہہ جمی ہے، میوزیم میں 14 ملازمین ہیں لیکن یہ لوگ فرش پر لیٹ جاتے ہیں، یہ حالت زار ثابت کرتی ہے، پاکستان کی طرح اب مصور پاکستان بھی ہماری ترجیحات میں شامل نہیں، ہم علامہ صاحب کے گھر سے لے کر علامہ صاحب کے ملک تک سب کو فراموش کر چکے ہیں اور تیسری فیلنگ اس گھر کی اداسی، اس گھر کا سناٹا ہے۔

مجھے میوزیم کے چوکیدار نے بتایا، جاوید منزل میں ہفتہ ہفتہ کوئی شخص قدم نہیں رکھتا، حکومت کی کسی اعلیٰ شخصیت کو یہاں آئے دہائیاں گزر چکی ہیں، جنرل پبلک یہ تک نہیں جانتی یہ علامہ اقبال کا گھر ہے، پراپرٹی ڈیلر گھر کو کرائے پر لینے کے لیے پہنچ جاتے ہیں، میں نے پوچھا ’’مین گیٹ پورا کیوں نہیں کھولا جاتا‘‘ بتایاگیا ’’ لوگ صحن میں گاڑیاں کھڑی کر جاتے ہیں‘‘ پوچھا ’’ دیواریں کیوں خراب ہیں، پینٹ کیوں اکھڑا ہوا ہے‘‘ جواب ملا ’’یہ محکمے کا کام ہے، ہم کیا کہہ سکتے ہیں‘‘ میری وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم سے درخواست ہے، آپ چند لمحوں کے لیے علامہ اقبال کو بھول جائیں اور آپ محمد اقبال کو اپنا کشمیری بزرگ سمجھ لیں اور جاوید منزل پر توجہ دیں۔

آپ لاہور کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کو پابند بنا دیں یہ نرسری سے لے کر پانچویں جماعت تک کے طلباء اور طالبات کو جاوید منزل کی سیر ضرور کروائیں گے، اسکولوں کے لیے دن بھی طے کر دیے جائیں، یوں جاوید منزل کا سناٹا بھی ٹوٹ جائے گا اور نئی پود بھی اقبال اور فکر اقبال سے متعارف ہو جائے گی، اسی طرح آپ ہر سرکاری مہمان کو جاوید منزل ضرور لے کر جائیں، آپ سرکاری محکموں کو بھی پابند کر دیں، یہ بھی اپنے ملازمین کو جاوید منزل کی سیر ضرور کرائیں گے، اسی طرح آپ عوام کو جاوید منزل کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اشتہاری مہم بھی چلائیں۔

آپ مشاہیر کے عجائب گھروں کو بچوں کے سلیبس میں بھی شامل کرا دیں تاکہ ہمارے بچوں کو کم از کم یہ علم تو ہو علامہ اقبال تھے کون؟ ہم کس قدر بدقسمت لوگ ہیں، ہمارے علامہ اقبال زندگی میں بھی قوم کے جاگنے کا انتظار کرتے رہے اور یہ آج بھی قوم کی راہ دیکھ رہے ہیں، اس قوم کی راہ جسے اٹھاتے اٹھاتے یہ موت کی نیند سو گئے تھے، ہمارے علامہ اقبال کتنے مظلوم ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند