تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نسلی تعصب کیخلاف قانون سازی۔ لفظی موشگافیاں؟…
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 2 رجب 1441هـ - 26 فروری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 7 محرم 1437هـ - 21 اکتوبر 2015م KSA 06:49 - GMT 03:49
نسلی تعصب کیخلاف قانون سازی۔ لفظی موشگافیاں؟…

برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ حکومت کسی بھی سطح پر نسلی تعصب برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برطانیہ دوسرے مذاہب کے ساتھ مذہبی اور نسلی تعصب سے بخوبی آگاہ ہو چکی ہے، تاہم قانون سازی کیلئے مفروضوں کے بجائے ٹھوس حقائق اور شواہد مدنظر ہوتے ہیں اور ان ہی حقائق کو بنیاد بنا کر نئے قوانین بنائے جاتے ہیں جس سے قانون سازی کا کام آسان اور مستقل بنیادوں پر ہوتا ہے۔ انہوں نے اقلیتوں کو یقین دلایا کہ ٹوری حکومت معاشرے کو ہر طرح کے تعصب سے پاک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مغرب کے ’’حقائق‘‘ ہم سے لگا نہیں رکھتے اور ہماری معاشرتی اقدار اور مذہب کو ’’سوٹ‘‘ نہیں کرتے، جو کام اہل مغرب کیلئے تعمیر ہے وہ زیادہ تر ہمارے لئے تخریب سمجھا جاتا ہے۔ یہاں بات نقطہ نظر کی آ جاتی ہے۔ ایک عمل جسے ہم اپنے لئے تعمیری سمجھتے ہیں کسی دوسرے معاشرے یا گروہ کیلئے وہ تخریبی کارروائی ہو سکتا ہے۔ نقطہ نظر ہی ایک ایسی شے ہے جو عمل کثیف کو عمل لطیف میں بدل دیتا ہے۔ گالز وردی نے ایک ڈرامہ ’’جدوجہد‘‘ لکھا تھا جس کے شائع ہونے پر برطانیہ میں اتنی ہلچل مچی کہ پارلیمنٹ کو اپنے مختلف محکموں اور اداروں میں قوانین کو جانچ کر نئے سرے سے قوانین وضع کرنے پڑے یا پرانے قوانین ہی میں تبدیلی کرنی پڑی۔

میں سمجھتا ہوں اگر ایسا کوئی ڈرامہ لکھا بھی گیا ہے تو اس نے بھی ظالموں کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں اور ان کو یہ بتایا ہے کہ ان کے ظلم کی دیوار میں شگاف ہیں کہ وہ اسے پُر کر سکیں۔ اس طرح اس نے ان کا ساتھ دیا ہے۔ اب دوسرا نقطہ نظر دیکھئے تقسیم ملک سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ایک ہندوستانی عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوا۔ یہ ایک قتل کا مقدمہ تھا۔ قاتل کی طرف سے اس وقت کے چوٹی کے وکیل محمد علی جناح تھے۔ واردات قتل بہت واضح تھی۔ مقدمے کی تمام کارروائی اس طرح چل رہی تھی گویا قاتل کو سزا ہو کر رہے گی۔ گواہوں کے بیانات صاف بتا رہے تھے کہ قاتل مجرم ہے مگر قائداعظم محمد علی جناح نہایت مطمئن تھے۔ وہ عدالت کی کارروائی میں بظاہر دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔ قاتل اور اس کے ساتھیوں کو محمد علی جناح پر شبہ ہوا کہ وہ کسی وجہ سے مقدمے کی طرف سے غافل ہو گئے ہیں اور ان کے اس رویے سے اسے سزا ہو جائے گی اور یہ کہ وہ قاتل کو سزا دلوا کر رہیں گے، مگر قائداعظم محمد علی جناح ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ اطمینان رکھو، کچھ نہیں ہو گا۔

دن گزرتے رہے، پیشیاں ہوتی رہیں، یہاں تک کہ پھانسی کی سزا کا فیصلہ ہو گیا مگر محمد علی جناح اب بھی مطمئن تھے۔ قاتل کے چیخنے چلانے پر وہ اطمینان سے بولے۔ ’’بھروسہ رکھو۔ میں جو کہتا ہوں کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ اس کے بعد اعلان ہوا کہ فلاں تاریخ کو اتنے بجے قاتل کو پھانسی دی جائے گی۔ محمد علی جناح بدستور مطمئن رہے یہاں تک کہ پھانسی کا وقت آ گیا۔ پھانسی کے دن محمد علی جناح اپنے پورے وکیلانہ طمطراق اور لباس کے ساتھ پھانسی گھاٹ پہنچے اور نہایت خاموشی کے ساتھ پوری کارروائی دیکھتے رہے۔ تب آخری لمحہ آیا اور ہینگ مین نے پھانسی پر لٹکانے والی رسی کا حلقہ قاتل کی گردن میں ڈالا تو محمد علی جناح فوراً بولے کہ’’ بس۔ اس کے آگے اگر کچھ اور کیا تو تم سب لوگوں کو پھانسی پر چڑھا دوں گا۔‘‘اب سارے لوگ حیران ہو گئے۔

محمد علی جناح نے کہا کہ جج نے اپنے فیصلے میں جو الفاظ لکھے ہیں وہ یہ ہیں کہ اس کی گردن میں پھانسی دی جائے "He shall be hanged by the neck." اور ملزم یا مجرم کی گردن میں پھانسی کا پھندا ڈالنے کے بعد اس حکم کی تعمیل ہو گئی۔ اب اس کے آگے آپ اور کچھ نہیں کر سکتے۔ اس وقت تک پورے ہندوستان میں پھانسی کے ہندوستانی قانون میں اتنے ہی الفاظ تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی ذہانت اور قانون کے علم میں دسترس سے ایک مجرم کو پھانسی کے تختے سے بچا لیا۔ اس واقعہ کے بعد نیا قانون پاس کیا گیا جو آج تک رائج ہے، جس میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں کہ مجرم کی گردن میں پھانسی دی جائے تاوقتیکہ وہ مر جائے۔ He shall be handged by the neck till he is dead.

سو پیارے قارئین حکومت برطانیہ کی نظر میں ٹھوس حقائق اور شواہد لفظی موشگافیوں کے سوا کچھ اور نہیں۔ انہوں نے اپنی سوسائٹی اور اپنے معاشرے کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانین وضع کرنے ہیں۔ اس قسم کی لفظی موشگافیاں دنیا میں اکثر لوگوں کیلئے بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے ذریعے آدمی عدالت کی پکڑ سے بھی بچ جاتا ہے اور سرخرو بھی ہو جاتا ہے اور ہم جہاں ہوتے ہیں وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔

یہ ہم ہی ہیں کہ تیرا درد چھپا کر دل میں
کام دنیا کے بدستور کئے جاتے ہیں

---------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند