تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان اور لا تعلق امریکہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 7 محرم 1437هـ - 21 اکتوبر 2015م KSA 06:47 - GMT 03:47
پاکستان اور لا تعلق امریکہ

پچھلے ہفتے امریکہ کے صدر باراک اوباما نے افغانستان کے بارے میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہاکہ امریکی فوجوں کےفوری انخلاء کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس بیان میں پاکستان کا بھی ذکر آیا جسے امریکی میڈیا نے کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔ صدر اوباما نے پاکستان کا ذکر افغان سیاق و سباق میں ہی کیا۔ صدر اوباما کے بیان اور واشنگٹن میں پائے جانے والے ماحول سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کی پاکستان میں دلچسپی محض افغانستان کی حد تک محدود ہے۔ پاکستان میں جو بھی تاثر پایا جاتا ہو واشنگٹن کے حلقوں کی یا تو پاکستان میں دلچسپی نہیں ہے یا پھر منفی اندازپایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستانی سفارت کاروں کے لئے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس طرح امریکی حکومت اور کانگریس کی توجہ پاکستان کی طرف مبذول کر ائیں۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ جب امریکی فوجوں کا افغانستان سے انخلاء ہو جائے گا تو امریکہ کی پاکستان سے لا تعلقی بڑھ جائے گی۔ دوسری طرف امریکہ اور ہندوستان کی قربت بڑھ رہی ہے اور امریکی مودی سرکار کی پاکستان پالیسی کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے پنٹاگون کے دباؤ میں افغانستان پر یو ٹرن لیا ہے۔ انہوں نے الیکشن میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے دور کےا ختتام سےپیشتر امریکی فوجیں افغانستان سے نکال لیں گے۔ لیکن نئے اعلان کے مطابق امریکی فوجیں ان کے عہد کے خاتمے کے بعد بھی افغانستان میں مقیم رہیں گی۔ امریکی فوجی حلقے افغانستان سے جلد انخلاء کے سخت مخالف تھے۔ امریکی خارجہ پالیسی کے ناقدین کہتے ہیں کہ یہ ایک دفعہ پھر سے ثابت ہو گیا ہے کہ خارجی امور کو پنٹاگون میں ہی طے کیا جاتا ہے اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ (امریکہ کی وزارت خارجہ) کا خارجہ پالیسی میں حصہ بہت کم ہوتا ہے۔ یہ تاثر محدود حد تک درست ہے ۔ امریکہ کے جن ملکوں کے ساتھ محض سیکورٹی تعلقات ہوتے ہیں ان کے فیصلے پنٹاگون میں ہی کئے جاتے ہیںلیکن جن ممالک سے امریکہ کا کئی جہتی تعلق ہوتا ہے اس میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بھی فعال کردار ادا کرتا ہے۔ بد قسمتی سے اب پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات سیکورٹی امور تک محدود ہیں چنانچہ اس بارے میں پنٹاگون میں ہی اصل فیصلے کئے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ زیادہ اہم فیصلے تب ہوں گے جب عسکری قیادت امریکہ کا دورہ کرے گی۔

بنیادی طور پر امریکہ تاجروں اور صنعت کاروں کا ملک ہے۔ اس لئے جن ممالک سے معاشی اور مالی تعلقات وسیع تر ہوتے ہیں ان کے لئے کاروباری حلقے خود امریکی حکومت کے فیصلہ ساز اداروں میں لابنگ کرتے ہیں۔ چین کو امریکی کانگریس اور سینیٹ میں خود لابنگ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ یہ کام خود وہ امریکی کاروباری ادارے کرتے ہیں جن کے چین کے ساتھ کاروباری تعلقات ہیں۔ اب کاروباری حلقوں میں ہندوستان کے لئے لابنگ کرنے والے بھی پیدا ہو چکے ہیں کیونکہ امریکہ کے ہندوستان کے ساتھ معاشی تعلقات وسیع تر اور گہرے ہوگئے ہیں۔ امریکی سرمایہ کار اور کارپوریشنیں ہندوستان کو ایک وسیع منڈی کے طور پر دیکھتے ہیں ۔اسی طرح بہت سے شعبوں میں امریکی سرمایہ دار پیداواری عمل میں بھی ہندوستان کی صلاحیتوں سے مستفیض ہو رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ امریکہ کے کاروباری شعبے پاکستان کے ساتھ کاروباری امکانات کے بارے میں پر جوش نہیں ہیں۔ اگرچہ پاکستان بھی ایک بہت بڑی منڈی ہے لیکن دہشت گردی اور انتہا پسندی نے پاکستان کا انتہائی منفی تاثر پیدا کیا ہے۔ پاکستانی حکومت کی مالی زبوں حالی سے بھی اس کا امیج بہت خراب ہوا ہے۔ ایک عام امریکی کے ذہن میں پاکستان ایک ایسا خطرناک ملک ہے جس میں کسی کی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔

ضرب عضب سے جو بہتری آئی ہے اس کو امریکہ کے کچھ حکومتی حلقوں میں سراہا گیا ہے۔ خود صدر اوباما نے بھی اس طرف اشارہ کیا تھا کہ پاکستان کے دباؤکے تحت القاعدہ کے لوگ افغانستان منتقل ہوئے ہیں۔ لیکن امریکی حلقوں میں پاکستان کے ناقدین کی آواز کافی بلند ہے۔ یہ حلقے الزام عائد کرتے ہیں کہ پاکستان اب بھی افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان کو دیئے جانے والے کولیشن فنڈ کی آخری قسط پر سوالیہ نشان لگا دئیے گئے تھے۔ زیادہ امکان یہ ہی ہے کہ وزیر اعظم اور عسکری قیادت کے دورہ امریکہ کے نتیجے میں مذکورہ قسط کی ادائیگی یقینی بنا دی جائے گی۔ لیکن امریکہ پاکستان پر افغان طالبان کے بارے میں دباؤبڑھائے گا۔

جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات سیکورٹی کے معاملات تک محدود ہیں۔ صدر اوباما نے بھی کہا کہ پاکستان کو طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہئے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے وزیر اعظم کے دورہ واشنگٹن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سیکورٹی معاملات پر مر کوز ہوں گے۔ ترجمان نے یہ بھی صاف صاف بتا دیا کہ پاکستان کے ساتھ سول جوہری معاہدے کے امکانات کم ہیں۔ امریکی پاک ہند تعلقات سے جڑے ہوئے مسائل کے بارے میں کوئی ایسی بیان بازی نہیں کریں گے جس سے اس کے دہلی کے دوست خفگی محسوس کریں۔ظاہرسی بات ہے کہ پاکستان کشمیر اور ہندوستان کی پاکستانی معاملات میں دراندازی کا مسئلہ اٹھائے گالیکن امریکی اس بارے میں خاموشی اختیار کریں گے۔ امریکی پاکستان کی اشک شوئی کے لئے بھاشا ڈیم جیسے منصوبوں میں مدد کا اعلان کریں گے لیکن اس بارے میں کوئی نتیجہ خیز پیش رفت نہیں ہوگی۔ المختصر پاک امریکہ گفت و شنید افغانستان اور سیکورٹی امور تک محدود ہوگی۔ باقی جو کچھ کہا جائے گا وہ محض پاکستانی عوام کو خوش کرنے کے لئے صرف بیان بازی ہوگی۔

--------------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند