تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اک یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 8 محرم 1437هـ - 22 اکتوبر 2015م KSA 07:33 - GMT 04:33
اک یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

بائیں بازو کے معروف دانشور ایلن ورڈز اپنے ایک تازہ تجزیئے میں یاد دلاتے ہیں کہ موجودہ صدی کے آغاز میں افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد معلوم نہیں کس وجہ سے عراق پر امریکی حملے کے وقت دجلہ فرات کی سرزمین پر القاعدہ تنظیم کا کوئی وجود نہیں تھا مگرامریکی سامراجیت کی براہ راست فوجی مداخلت کے نتیجے میں اب یہ خطہ جہادی وحشیوں کے نرغے میں آچکا ہے۔ واشنگٹن میں موجود سیاست بازوں کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے صدام حسین کی فوج اورپرانی ریاستی مشینری کو ختم کر کے نہ صرف علاقے میں طاقت کے توازن کو بگاڑا بلکہ ایک ایسا خلا پیدا کر دیا کہ جس میں پہلے داعش اور پھر امریکہ کا پرانا دشمن ایران داخل ہوگیا اور یوں امریکہ نے خود اپنے پائوں پر کلہاڑا مار دیا۔

اب دنیا کی اکلوتی سپر پاور کو ایک ایسی تیزی سے پھیلتی ہوئی جہادی وحشت کا سامنا ہے جو کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ صحارا سے نائیجیریا اور اس کے ہمسایہ ممالک نائیجر، چاڈ اور کیمرون تک پھیلی ہوئی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی طاقت اس خطرے سے کیسے نبردآزما ہوگی؟ فضا سے آگ برساکے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے داعش کے ٹھکانوں پر بم برسائے ہیں اور بلاشبہ جہادیوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے لیکن اس کھلی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ صرف آسمان سے بم برسانے سے کوئی جنگ نہیں جیتی جاسکتی جب تک پیدل فوج کو زمین پر نہ اتارا جائے مگر افغانستان اور عراق کے بعد امریکہ بہادر کسی بیرونی جنگ کے میدان میں اترنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک ہندوستان نے گاندھی اور نہرو سے نریندر مودی اور ’’بی جے پی‘‘ تک سفر کرتے ہوئے اپنے لئے کچھ ایسے ہی حالات پیدا کرلئے ہیں۔ سرمایہ داری نظام کی مارکیٹ اکانومی یا بازاری معیشت میں رہتے ہوئے پوری دنیا میں سالانہ چار ارب ساٹھ کروڑ ڈالرز کی مالیت کا گائے کا گوشت سپلائی کرنے کے باوجود گئوماتا کی پرستش کا ڈھونگ رچانے والے ہندو انتہا پسند ہندوستان سے برآمد ہونے والے گوشت کو بھینس کا گوشت قرار دیتے ہیں اور دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ کے جوئے میں اپنی گردن تک ڈوبے ہوئے معاشرے نے کھیلوں کے مقابلے کے عالمی میدان سے غائب ہونے کی کوششوں کے آغاز کے طور پر پاکستان کے ساتھ کرکٹ مقابلے کی سیریز میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے اور یوں شیوسینا کی غنڈہ گردی کی وجہ سے امریکہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور دیگر یورپی ملکوں نے ہندوستان کے کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے۔

پوری دنیا میں بھارت کے ہندو انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے اقلیتی فرقوں، صحافیوں، فن کاروں اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کی جارہی ہے۔

ہندوستان کی فلمی صنعت نے اگر امریکہ کے ہالی ووڈ کی فلمی صنعت کا مقابلہ کرتے ہوئے اس سے بھی زیادہ اہمیت حاصل کر لی تھی تو اس کے پیچھے یہ روایت بھی کام کررہی تھی بالی ووڈ میں تیار کی جانیوالی فلم جب تک لاہور کی فلمی مارکیٹ کی سند حاصل نہیں کرلیتی تھی کامیاب نہیں سمجھی جاتی تھی۔ کرکٹ کے مقابلوں میں بھی یہی منظر دکھائی دے گا۔ ہندوستان اور پاکستان کے کرکٹ کے مقابلے ہی فیصلے کریں گے کہ اس میدان میں سرخرو کون سا ملک ہے اور پاکستان کرکٹ مقابلوں کے جس میدان میں نہیں ہوگا اس میں ہندوستان کو بھی کوئی پوزیشن حاصل کرنے کا موقع نہیں مل سکے گا۔ دہلی کا سیاست دان اپنے آپ کو واشنگٹن، ماسکو، لندن، برلن اور پیرس کی محفلوں میں بیٹھے دیکھ سکتا ہے مگر وہ اسلام آباد کو نظر انداز کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ پروین شاکر کی طرح پاکستان کی کرکٹ مارکیٹ بھی یہ کہہ سکتی ہے کہ؎

وہ جہاں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
اک یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند