تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
"قومی سلامتی"
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 14 ربیع الاول 1441هـ - 12 نومبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 13 محرم 1437هـ - 27 اکتوبر 2015م KSA 09:00 - GMT 06:00
"قومی سلامتی"

ہمارے پیارے ملک پاکستان کی قومی سلامتی ہر شہری کو عزیز ہے۔حال ہی میں قومی سلامتی کے نئے مشیر کی تقرری سے متعلق مختلف تجزئیے سامنے آرہے ہیں۔ نئے مشیر اور سابق کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ کی بطور مشیر قومی سلامتی زیر بحث ہے۔ایک رائے ہے کہ یہ تقرری فوج اور اسکے سربراہ جنرل راحیل شریف کے خارجہ اور دفاع سے متعلق قومی سلامتی کے امور پر مکمل کنٹرول کا ایک اور ثبوت ہے۔چند تجزیہ کار اس تقرری کے دفاع اور اسکی حمایت میں دہشت گردی کے خلاف فوج کے بڑھتے ہوئے کردار اور اسی حوالے سے بلوچستان میں جنرل (ر)جنجوعہ کی بطور کور کمانڈر کامیابیوں کو دلیل بنا رہے ہیں۔مگر دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خبروں میں عسکری ذرائع برملا یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اس تقرری کا فیصلہ وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔عسکری ذرائع اور عسکری تجزیہ کار یہ ثابت کر نے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملے میں فوج اور آرمی چیف کے بغیر منتخب عوامی حکومت یا پارلیمنٹ خود سے فیصلے نہیں کر سکتی اور نہ ہی وہ ایسا کرنے کی مجازہے۔شاید اسی لئے خبروں میں "مشترکہ فیصلے" کو واشگاف الفاظ میں (loud and clear) بیان کیا جا رہا ہے۔ایک دلیل یہ ہے کہ قومی سلامتی کے موجودہ مشیر سرتاج عزیز خارجہ امور میں مصروفیت کے باعث زیادہ وقت نہیں دے سکتے ۔پاکستانی سیاست کے اناڑی طالبعلم بھی جانتے ہیں کہ خارجہ اور دفاع کے امور میں ہمارے وزراءکتنا وقت دیتے ہیں یا ان کا کتنا اختیار ہوتا ہے۔ نئے مشیر کی تقرری کے بعد مشیر خارجہ اور وزیر دفاع کو قومی سلامتی کے ایسے تانگے میں جوت دیا گیا ہے جس کی سواری تو وزیراعظم نواز شریف ہیں مگر لگامیں آرمی چیف کے ہاتھ میں ہیں۔بدقسمتی سے اس تانگے کی سواری کے پاس منزل کے تعین کا اختیار تھا، نہ ہے۔قومی سلامتی کے تانگے میں جتے ان دونوں گھوڑوں کی آنکھوں پر ایسا غلاف پہنایا گیا ہے کہ جس سے صرف وہ راستہ دِکھتا ہے جس جانب لگام کھینچی جائے ۔ شاہی بگھی میں سوار بادشاہ سلامت سمت اور منزل سے زیادہ سواری میں مگن ہے جتنی دیر ملے، مزہ ہے۔اس بگھی کے خدوخال سے مرعوب ہمارے تجزیہ کار وں کو بھی سمت اور منزل سے دلچسپی نہ ہے۔ ان دونوں عہدوں پر کام کرنے والی آج تک کوئی بھی ایسی شخصیت نہیں آئی جس کی چھاپ ہماری قومی پالیسیوں پر ہو۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے آج تک اہم فیصلے بگھی کے سوار کی بجائے اس کے کوچوان کے ہنٹر نے کئے۔ اس سفر میں کئی بار تو سواری کو بھی لات مار کر گرا دیا گیا۔

ایسے میں ان باتوں سے کیا فرق پڑتا ہے کہ قومی سلامتی کا مشیر کون ہے یا اسکی تعیناتی کس نے کی ہے۔میدان جنگ سے سیدھا اقتدار کے ایوانوں میں پیرا شوٹ کر کے آنے والوں کو وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں بڑا دفتراور معاون عملہ بھی مل جائے گا۔وزیر اعظم کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد ان کی تصاویر بھی شائع ہوں گی۔ کئی ہزار مسلح اور اعلٰی تربیت یافتہ فوجی جوانوں کے ذریعے کسی ایک صوبے میں ملک دشمن عناصر کے خلاف کامیابی ایک بات ہے اور وزیراعظم سیکرٹریٹ میں چند سول افسران اور اہلکاروں کی مدد سے بین الاقوامی طاقتوں کے خلاف دماغ لڑانا دوسری بات ۔ویسے بھی قومی سلامتی صرف جغرافیائی سلامتی کا نام نہیںاسکے لئے معاشی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی امور کی مہارت بھی لازمی ہے۔ایسی مہارت کے پیچھے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کی تعلیم اور تربیت بھی ضروری ہوتی ہے۔جنرل (ر)جنجوعہ کی تعیناتی کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور قابلیت (جس میں شک نہ بھی ہو )سے جوڑنے والے عسکری تجزیہ کاروں ، صحافیوں اور اینکروں کو شایدمعلومات بھی ملیں گی اور خصوصی انٹرویوز بھی۔اس سب کے باوجود یہ سمجھنا کہ قومی سلامتی کا مشیر اپنی قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر ہماری دفاعی اور خارجہ پالیسی میں تبدیلی یا بہتری کے لئے آزادانہ تحقیق و سفارشات مرتب کرے گا، کسی چاپلوس کالم نویس یا دفاعی تجزیہ کار کی رائے تو ہو سکتی ہے حقیقت نہیں۔جس ملک میں ظاہری باس کوئی اور ہو اور اصلی باس کوئی اور تو ایسے عہدے کی اہمیت ایک سرکاری نوکری یا اس بادبان سے زیادہ نہیں ہوتی جو طاقت کے پجاریوں کو ان کے سیاسی کعبے کا بدلتا رخ بتا رہا ہوتا ہے۔ایسے میں ماورا آئین اور ماورا قانون سیاسی کعبے کے رخ کھڑے عبادت گزاروں کو کن نفلوںکا ثواب ملے گا۔قومی سلامتی کا مشیر منتخب وزیراعظم کو جواب دہ ہوتا ہے اور اسکی تقرری کے فیصلے میں مشاورت کوئی قانونی تقاضا نہیں ۔بدقسمتی سے ہماری سیاست میں ہمارے وزراءاور مشیرا ن بہت سے معاملات میں یا تو بے صلاحیت ہیں اور یا پھربے اختیار،وزیراعظم کو جواب دہ ہونا تو دور کی بات ہے ۔اہم عہدوں پر فائز وزراءاور مشیران گردن جھکا کر نوکری کر رہے ہیںاور ان کی صلاحیت اور اختیارات کا یہ عالم ہے کہ تجزیہ کاربھی ان سے متعلق رائے دینا اپنی توہین اور وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو ہی لے لیں کہ ان کی شخصیت، قابلیت اور تجربہ ہماری خارجہ پالیسی کا ٹینک نہیں چلا سکتا۔اسی طرح وزیر دفاع خواجہ آصف بھی ہماری دفاعی پالیسی کے توپچی نہیں

۔وزیر قانون جناب سینیٹر پرویز رشید کی کیا بات ہے قانون سازی کے حوالے سے انہوں نے آج تک قوم کو کتنی اطلاعات دی ہیں اور کتنی نشریات کی ہیں سب جانتے ہیں۔ایسے میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب "neither hawk nor dove"،"نہ عقاب نہ کبوتر"کا ذکر ضروری ہے۔کتاب کے عنوان کا سادہ لفظوں میں مفہوم یہ ہے کہ نہ ہی جنگ کا حامی اور نہ ہی امن کا داعی۔قصوری صاحب نے اس کتاب کا عنوان جو بھی سوچ کر رکھا ہو ان کی اس سوچ میں بے اختیاری کی مجبوری بھی جھلکتی ہے۔آخر ایک مطلق العنان فوجی آمر کے وزیر خارجہ کی ایسی جرات ہی کہاںکہ وہ اپنے سیاسی آقا کے سامنے خودنمائی کرے۔"نوکری کیہہ تے نخرہ کیہہ" ان کے مطابق بطور وزیر خارجہ جنرل مشرف سے پہلی ملاقات کے دوران مشرف کے ایک سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ میں نہ تو عقاب ہوں اور نہ ہی کبوتر۔شاید یہی بات جنرل مشرف کو بھا گئی۔ بہر حال اب جب کہ قومی سلامتی کے مشیر کا تقرر ہو ہی چکا ہے اور وہ بھی فوج کی مرضی اور مشاورت سے تو دیکھنا یہ ہے کہ نئے مشیر ایک نئی اور منفرد اور آزادانہ سوچ کے ساتھ پاکستان کی سلامتی کی نئی سمت کاکس حد تک تعین کریں گے،فوج اور تمام دوسرے قومی ادارے اس مشیر کی رائے اور سفارشات کو کتنی اہمیت اور احترام دیں گے اور کیا اس رائے اور ان سفارشات کی روشنی میں منتخب وزیراعظم ، کابینہ اور پارلیمنٹ ملک کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں حتمی فیصلہ سازی کا اختیار استعمال کر سکیں گے؟خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہوا یا ہمارے قومی سلامتی کے مشیر کابینہ کے اجلاسوں سے زیادہ کور کمانڈروں کے اجلاس میں شریک نظر آنا شروع ہو گئے تو سوال اٹھے گا کہ ہمارے قومی سلامتی کے" حتمی ضامن"جنرل راحیل شریف کے ہوتے ہوئے حکومت کو ایسے مشاورتی ڈاکخانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟اور یہ بھی کہ اگر قومی سلامتی کی ذمہ داری صرف اور صرف فوج کا ہی کام ہے تو ایک ہی بار آئین میں 22ویں ترمیم کے ذریعے ملک کے وزیراعظم کے انتخاب کا اختیار بھی پارلیمنٹ کی بجائے کور کمانڈر کانفرنس کو دے دیا جائے۔ ایسا کرنے سے بہت سے فائدے ہوں گے۔حکومت مدت بھی پورا کرے گی (؟)،جمہوریت کی جمہوریت ،قومی سلامتی کی قومی سلامتی ،آئین کی بالادستی کی بالادستی اور غیر ضروری مشیروں کی ضرورت بھی نہ رہے گی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ "ریاست "بھی بچ جائے گی اور "سیاست"بھی۔

--------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند