تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
داعش کی دھمکی پر معنی خیز اسرائیلی خاموشی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 27 جمادی الثانی 1441هـ - 22 فروری 2020م
آخری اشاعت: پیر 19 محرم 1437هـ - 2 نومبر 2015م KSA 08:14 - GMT 05:14
داعش کی دھمکی پر معنی خیز اسرائیلی خاموشی

دولت اسلامیہ برائے عراق اور شام (داعش) نے اپنے تازہ ترین بیان میں اسرائیل کو دھمکی دی ہے کہ 'وہ بیت المقدس میں ایک یہودی کو بھی نہیں رہنے دیں گے۔' داعش کے پہلی مرتبہ عبرانی زبان میں جاری ویڈیو بیان نے اسرائیلی حکام کی صفوں میں خوف کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے لیکن سرکاری سطح پر ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ ماضی میں داعش پر کڑی تنقید کے تناظر میں اسرائیلی حکام کی حالیہ خاموشی بڑی معنی خیز ہے۔

داعش کے بیان میں کہا گیا ہے:’ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ جلد ہی مقبوضہ بیت المقدس سمیت پورے ملک میں ایک بھی یہودی باقی نہیں رہے گا‘۔

یہ دھمکی ایسے وقت دی گئی ہے جب قابض اسرائیلی فوجوں کی جانب سے نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کا ایک نیا سلسلہ تقریباً ایک ماہ سے جاری ہے جس میں ستر کے لگ بھگ عورتیں، بچے اور نوجوان شہید ہو چکے ہیں۔ اس قتل عام اور مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کے جواب میں فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف انتفاضہ کے تیسرے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام کی خاموشی سے محسوس ہوتا ہے کہ اب ان کی توجہ داعش پر تنقید کے بجائے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی خونریزی پر ہے۔

داعش کے خوف میں اچانک کمی

لندن میں قائم ایک عرب اصلاحاتی مرکز سے وابستہ سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ، لینا خطیب نے 'العربیہ' کہ بتایا کہ بڑھتے ہوئے فلسطینی انتفاضہ نے اسرائیلی حکام کی توجہ داعش کے خوف سے ہٹا دی ہے۔ گذشتہ سال کے دوران اسرائیلی حکام مسلسل داعش کی اسرائیلی سرحدوں کی جانب پیش قدمی کا واویلا کرتے رہے ہیں اور مغربی حکومتوں کو متوجہ کرتے رہے ہیں کہ داعش جنگجو پناہ گزینوں کے بھیس میں یورپ جا رہے ہیں۔ اسرائیل نے ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ یروشلم میں ایک پک اپ میں سوار داعش کا جھنڈا اٹھائے چند نقاب پوش لوگوں سے راہ پوچھ رہے ہیں۔

داعش کے خوف کی اس انتہا کے بعد اب اچانک اسرائیلی حکام کی توجہ فلسطینیوں اور حماس کے خلاف بیانات تک محدود ہو گئی ہے جس کا ثبوت وزیر اعظم نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر اور یہ حالیہ بیان ہے جس میں الزام لگایا ہے کہ ہٹلر نے مبینہ یہودی قتل عام (ہولو کاسٹ) فلسطینیوں کے مذہبی پیشوا مفتی امین الحسینی کے اصرار پر کیا تھا۔ اب اسرائیلی بیانات مین داعش کا ذکر حماس اور فلسطینیوں کی جدوجہد آذادی کی حمایت کے حوالے سے آ رہا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ داعش کی گذشتہ جولائی میں جاری کی گئی ایک ویڈیو میں حماس کا صفایا کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس سال کے دوران غزہ میں حماس کے ارکان پر کم سے کم ایک درجن حملے ایسے ہوئے ہیں جن کی ذمہ داری مبینہ طور پر داعش کے ہمدردوں پر ڈالی گئی ہے۔ ان میں سے چار بم حملے صرف مئی کے مہینے میں ہوئے تھے جن کا نشانہ حماس کے عہدیدار تھے۔ داعش کی حماس کو دھمکیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی وزرا نے الزام لگایا تھا کہ 'داعش اور حماس ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں اور یہودیوں کے خلاف دونوں کا ایک ہی مشن ہے۔

نفرت میں اسرائیل اور داعش کا اشتراک

اگرچہ اسرائیلی حکام، داعش اور حماس کے خلاف یہودی نفرت میں متحد ہونے کا واویلا کرتے رہے ہیں لیکن یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ اسرائیل اور داعش بھی حماس اور فلسطینیوں کی دشمنی میں اکٹھے ہیں۔ اسرائیل، حماس اور داعش کے درمیان اس ’نفرت کے تکون‘ کے بارے میں لینا خطیب کا کہنا ہے کہ 'داعش نے متعدد بار کہا ہے کہ یہودیوں سے لڑنے سے زیادہ ضروری اور اہم ایسے سنّیوں سے لڑنا ہے جو مرتد ہو چکے ہوں۔ داعش کی حماس اور فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی دھمکیاں اسی زمرے میں آتی ہیں۔'

داعش کی اسرائیل کو ویڈیو دھمکی کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کی معروف مورخ اولیویا ایل سوہنس کا کہنا ہے کہ 'حماس کے ساتھ ایک طویل دشمنی رکھنے اور فلسطینی اتھارٹی کے خلاف موقف کی وجہ سے اسرائیل، داعش کی پوزیشن کے قریب آ گیا ہے۔ دوسری جانب داعش علاقے میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کے لیے اسرائیلی مظالم اور فلسطینیوں کی مزاحمت کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔' سوہنس کا کہنا ہے کہ 'داعش خود کو سنّی مسلمانوں کے کاز کے چیمپین کے طور پر پیش کرناچاہتا ہے اور یہ گروہ مغرب اور اسرائیل کا سخت دشمن ہے کیونکہ وہ اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کے جسم میں مغرب کے ٹرانسپلانٹ شدہ ایک عضو کے طور پر دیکھتا ہے۔

داعش کے خطرہ میں کمی؟

اسرائیل اور عرب ریاستوں کے مابین مذاکرات پر گہری نظر رکھنے والے امریکی استاد، ڈاکٹر آلون بین میئر کا کہنا ہے کہ 'اسرائیل کی نظر میں داعش کے خطرے کی اہمیت میں کمی کی وجہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں گذشتہ ماہ سے جاری کشیدگی ہے جس میں کئی درجن فلسطینی شہید اور گیارہ اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اب اسرائیل کی توجہ اس امر پر ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ معاملات کو مستحکم کیا جائے کیونکہ وہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اسے مستقبل میں فلسطینیوں کے ساتھ رہنا ہے اور یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو اسی طرح باقی رہے گا جبکہ داعش زیادہ عرصہ باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنیامین نیتن یاہو بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں مزید خرابی عالمی برادری کی نفرت اور ان پر دبائو میں اضافہ کرے گی۔

مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور داعش کے مقاصد مشترکہ ہونے کے تصور کے بارے میں ڈاکٹر میئر کا کہنا تھا کہ 'وہ اس پر یقین نہیں رکھتےکہ اسرائیل کبھی بھی اور کسی بھی صورت میں داعش سے تعاون کر سکتا ہے اور کسی مشترکہ دشمن کے خلاف اکٹھے لڑ سکتا ہے۔' مشرق وسطیٰ کے تجزیہ نگار جیمز ڈورسے بھی ڈاکٹر میئر کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کہنا بعید از قیاس ہے کہ اسرائیل اور داعش کسی چیز پر اکٹھے ہو سکیں، بالخصوص حماس کی مخالفت میں ایک دوسرے کا ساتھ دے سکیں۔ اگرچہ اسرائیل کی اولین توجہ فلسطینی مزاحمت پر ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس کی نظر شام کی صورتحال سے ہٹ گئی ہے جہاں داعش اس کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے، حالانکہ داعش کی اولین توجہ اسرائیل پر نہیں ہے۔

یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی داعش کے خطرے پر سے توجہ کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اتحادی روس نے شام میں جنگجووں کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کر دی ہے۔ تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ تل ابیب، داعش کی تازہ دھمکی کا کیا جواب دیتا ہے!؟
----------------------------------------------
کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند